14/July/2026

جنوبی وزیرستان میں مبینہ ڈرون حملے کے خلاف احتجاج

👁️ 172 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
جنوبی وزیرستان میں مبینہ ڈرون حملے کے خلاف احتجاج

جنوبی وزیرستان میں مبینہ ڈرون حملے کے خلاف احتجاج

پشاور (ش ش) پاکستان کے شورش زدہ صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع اپر جنوبی وزیرستان میں مبینہ ڈرون حملے کے خلاف احتجاج میں شدت آ گئی ہے، جبکہ ضلع بونیر میں نامعلوم مسلح دہشت گردوں کی فائرنگ سے اسپیشل برانچ پولیس کا ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر ہلاک ہو گیا۔

 

ڈیلی اردو کے مطابق اتوار کو مبینہ ڈرون حملے میں محمد نواز نظر خیل ہلاک جبکہ ان کے خاندان کے چار افراد شدید زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو ہیڈکوارٹر اسپتال لدھا منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

 

واقعے کے بعد اپر جنوبی وزیرستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں قبائلی اللہ جان کوٹ کے مقام پر جمع ہوئے اور احتجاجی دھرنا شروع کر دیا۔ مظاہرین نے لدھا، وانا اور ٹانک کو ملانے والی مرکزی شاہراہ کو بند کر دیا، جس کے باعث علاقے میں آمدورفت اور معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے۔

 

تازہ اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والے محمد نواز نظر خیل کے اہل خانہ، قبائلی عمائدین اور مقامی افراد نے سام بریگیڈ کے باہر بھی دھرنا دے رکھا ہے، جو آخری اطلاعات تک جاری تھا۔

 

عینی شاہدین کے مطابق مظاہرین نے لدھا، وانا اور ٹانک کو ملانے والی شاہراہ پر متعدد مقامات پر خندقیں کھود کر ہر قسم کی ٹریفک معطل کر دی، جبکہ سام بریگیڈ جانے والی سڑک بھی کھود کر بند کر دی گئی۔

 

مظاہرین نے محمد نواز نظر خیل کی قبر بھی بریگیڈ جانے والی سڑک کے درمیان کھودی، تاہم آخری اطلاعات تک تدفین نہیں کی گئی تھی اور مظاہرین اپنے مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رکھے ہوئے تھے۔

 

واقعے یا احتجاج کے حوالے سے تاحال متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، جبکہ علاقے میں کشیدگی برقرار ہے۔

 

دوسری جانب ضلع بونیر کی تحصیل خدوخیل کے علاقے توتالئی میں نامعلوم مسلح دہشت گردوں کی فائرنگ سے اسپیشل برانچ پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر مسکین زادہ ہلاک ہو گئے۔

 

مقامی ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق مسکین زادہ معمول کی ڈیوٹی پر تھے اور سوابی روڈ کے قریب دمازئی کے علاقے میں موجود تھے کہ مسلح دہشت گردوں نے ان پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

 

آخری اطلاعات تک کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

 

واقعے کے بعد سینکڑوں مقامی افراد نے پولیس اسٹیشن کے سامنے جمع ہو کر شدید احتجاج کیا۔

 

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی روز سے علاقے میں مسلح دہشت گرد سرگرم ہیں، جو سڑکیں بند کرنے اور لوگوں میں خوف و ہراس پھیلانے میں ملوث ہیں۔ ان کے مطابق عوامی مطالبے پر محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے کارروائیاں شروع کی ہیں، تاہم تاحال کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C