21/April/2022

خیبر پختونخوا میں 3 ماہ کے دوران پر تشدد واقعات میں 173 فیصد اضافہ

👁️ 25 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
خیبر پختونخوا میں 3 ماہ کے دوران پر تشدد واقعات میں 173 فیصد اضافہ

خیبر پختونخوا میں 3 ماہ کے دوران پر تشدد واقعات میں 173 فیصد اضافہ

پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) سال 2022ء کے ابتدائی تین ماہ میں صوبہ خیبر پختونخوا کے امن وامان کیلئے تحریک طالبان پاکستان کے مقابلے میں داعش زیادہ خطرے کی علامت ابھر کر سامنے آئی ہے۔ یہ عرصہ انتہائی بدترین اور خطرناک ثابت ہواہے۔ فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینے کیلئے خود کش حملے کرائے گئے۔ پرتشدد اور شدت پسندی کے ان واقعات میں سب سے زیادہ 40 فیصد بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ جبکہ 35 فیصد شدت پسندوں کے نام و نشان کو صفحہ ہستی سے مٹایا گیا۔

دہشتگردی کی ناکام کوششوں سے کہیں زیادہ تعداد ناکام سکیورٹی آپریشن کی ہے جس کو سنگین خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ سب سے زیادہ واقعات پشاور میں رونماء ہوئے ہیں دوسرے نمبرپر شمالی وزیرستان ہے۔

گزشتہ سال کے ابتدائی 3 ماہ کی نسبت رواں سال کے اسی عرصہ کے دوران خیبر پختونخوا میں پرتشدد واقعات میں 173 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

دوسری جانب پولیس رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کی نسبت اس سال ان واقعات میں کمی دیکھنے میں آئی ہے مگر سنٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز کی رپورٹ پولیس کے تمام دعووں کی نفی کر رہی ہے۔

سنٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی سٹیڈیز رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع میں ہونے والے 75 واقعات میں مجموعی طور پر 189 افراد ہلاک اور 249 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ان پر تشدد واقعات کے نتیجے میں سب سے زیادہ 76 افراد پشاور میں ہلکا ہوئے۔

شمالی وزیرستان میں 40، ٹانک میں 15، باجوڑ میں 9، لکی مروت میں 9، ڈیرہ اسماعیل خان میں 7، کوہاٹ میں 6، کرم میں 5، جنوبی وزیرستان میں 6، بنوں میں 3، ہنگو میں 3، خیبر میں 3، نوشہرہ میں 2، چارسدہ، دیر، اورکزئی، صوابی اور سوات میں ایک ایک فرد ہلاک ہو چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق تشدد کے ان واقعات میں 40 فیصد بے گناہ شہریوں اور 26 فیصد سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ جبکہ 35 فیصد شدت پسندوں کے نام و نشان کو صفحہ ہستی سے مٹایا گیا۔ اس 3 ماہ کے دوران 125 سویلین، ایک صحافی، 8 سیاستدانوں اور 2 مذہبی شخصیات ان واقعات کا نشانہ بن چکے ہیں۔ 88 سکیورٹی اہلکار جان کا نذرانہ دے چکے ہیں۔ مختلف شدت پسندتنظیموں سے تعلق رکھنے والے 63 شدت پسندوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ خودکش دھماکوں کے نتیجے میں 75، گراؤنڈ آپریشن کے نتیجے میں 69، گولی مارنے کے نتیجے میں 49، مسلح حملوں کے نتیجے میں 39 اور ان کاؤنٹر کے نتیجے میں 15 افراد کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

پشاور میں قصہ خوانی بازار کے نزد کوچہ رسالدار کی امام بارگاہ و جامع مسجد میں ہونے والے خودکش حملہ کی ذمہ داری داعش نے قبول کی جس نے افغانستان میں طالبان حکومت کی اس دعوی کی نفی کی کہ افغانستان میں داعش کا وجود نہیں ہے یا ختم کیا گیا ہے۔ 3 ماہ کے دوران تحریک طالبان پاکستان نے 4 حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

خیبر پختونخوا کو زیادہ جانی نقصان داعش کے حملوں سے پہنچا ہے خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ پاکستان کی امن و امان کیلئے تحریک طالبان پاکستان سے زیادہ داعش خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C