15/October/2022

خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں بڑھتی ہوئی بد امنی کیخلاف ہزاروں شہریوں کا احتجاج

👁️ 21 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں بڑھتی ہوئی بد امنی کیخلاف ہزاروں شہریوں کا احتجاج

خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں بڑھتی ہوئی بد امنی کیخلاف ہزاروں شہریوں کا احتجاج

پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک) صوبہ خیبرپختونخوا کی وادی سوات، بونیر، وزیرستان اور شانگلہ میں پرتشدد واقعات اور بدامنی میں اضافے کے خلاف ہزاروں شہریوں نے احتجاج کیا۔

سوات کی تحصیل چار باغ اور بریکوٹ میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے خلاف ہزاروں شہریوں نے مظاہرہ کیا اور امن خراب کرنے والوں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔

اس طرح ضلع بونیر میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تعلیمی ادارے کو سیکورٹی فورسسز کی رہائش کیلئے بند کرنے کے بعد بونیر اولسی پاثون کی جانب سے احتجاج کا اعلان کیا تھا۔

بونیر احتجاجی مظاہرے میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماوں، سول سوسائٹی، تاجروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، مظاہرے سے وزیراعلیٰ کے مشیر ریاض خان، عوامی نیشنل پارٹی کے سابق ممبر صوبائی اسمبلی و ضلعی جنرل سیکرٹری قیصر ولی خان، جماعت اسلامی کے ضلی نائب امیر انجینئر ناصر علی، شبم بونیری، ڈاکٹر سراج کمال، محبوب ایڈوکیٹ اور دیگر نے خطاب کیا

مظاہرین کا کہنا تھا کہ ضلع بونیر کا امن کسی صورت خراب ہونے کی اجازت نہیں دینگے، یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی عوام کو تحفظ اور پرامن ماحول فراہم کریں۔

وانا وزیرستان میں بھی حالیہ بد امنی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ہوا جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔

شرکا نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر دہشت گردی نامنظور، بدامنی نامنظور سمیت دیگر نعرے درج تھے۔

حالیہ بد امنی کے خلاف بڑا اجتماع سوات کی تحصیل چارباغ میں منعقد ہوا جس میں وزیر اعظم کے مشیر انجینئر امیر مقام، سابق صوبائی وزیر اور این این پی کے ضلعی صدر ایوب خان اشاڑی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر مختیار خان یوسفزئی، سوات قومی جرگہ کے صدر حاجی زاہد خان، پختون تحفظ مومنٹ کے رہنماوں سمیت ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔

سوات میں احتجاجی مظاہرے سے مسلم لیگ ن کے رہنما اور وزیراعظم کے معاون خصوصی امیر مقام نے کہا کہ کسی صورت سوات کا امن خراب نہیں ہونے دیں گے، ہم نے قربانیاں دے کر جنت نظیر وادی کا امن بحال کیا ہے۔

شانگلہ میں سماجی و سیاسی تنظیموں کی جانب سے پرامن مظاہرے کیے گئے۔ شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ دہشت گردی کو مزید برداشت نہیں کرسکتے، ہمیں امن اور سکون کی زندگی چاہیے۔

مقررین نے کہا کہ امن قائم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے لہذا وہ آگے بڑھ کر کردار ادا کرے اور ہمیں خود سے اپنی حفاظت کیلیے بندوقیں اٹھانے پر مجبور نہ کرے۔

ادھر سوات کی تحصیل بریکوکٹ میں پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے بدامنی کے خلاف امن جلسے کے نام سے پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔

اس حوالے سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم امن چاہتے ہیں، ملکی سالمیت اور آئین کی پاسداری کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے، سوات میں قیام امن کے لئے جو قربانیاں دی گئیں وہ آج تک نہیں بھولے، بڑی تعداد میں عوامی شرکت نے ثابت کیا کہ پی ٹی آئی کو عوام کی سپورٹ حاصل ہے، سوات میں دہشت گردی نے سب کو یکساں متاثر کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ امن قائم کئے بنا نہ سیاست ہوسکتی ہے اور نہ ہی قوم ترقی کرسکتی ہے، عوام کی حقوق کا تحفظ ہم پر فرض ہے، عوام ہماری سرمایہ اور زمین ہماری ماں ہے، اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں، قوم اور ملک کو نقصان پہنچانے والا سب کا دشمن ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C