30/June/2026

افغانستان: پاکستانی فضائی حملوں میں 36 افغان شہری ہلاک، طالبان کا دعویٰ

👁️ 8 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
افغانستان: پاکستانی فضائی حملوں میں 36 افغان شہری ہلاک، طالبان کا دعویٰ

افغانستان: پاکستانی فضائی حملوں میں 36 افغان شہری ہلاک، طالبان کا دعویٰ

کابل/اسلام آباد (ڈیلی اردو/بی بی سی) افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان کے مختلف علاقوں میں کیے گئے فضائی حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 36 عام شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

 

ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر زخمی بچوں کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ ’’ہم جارحیت کے اس بزدلانہ فعل کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور اسے ایک جرم اور سفاکانہ عمل سمجھتے ہیں۔‘‘

 

طالبان ترجمان کے مطابق فضائی حملے پکتیکا کے علاقے جانی، پکتیا کے علاقے سمکانی اور کنڑ کے علاقے مرورہ میں عام شہری آبادیوں پر کیے گئے۔

 

طالبان حکومت کے سکیورٹی ذرائع نے بی بی سی پشتو کو بتایا کہ گزشتہ شب ہونے والے حملوں میں سب سے زیادہ جانی نقصان صوبہ پکتیا کے گاؤں مندی خیل میں ہوا، جہاں تقریباً 100 افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم بی بی سی پشتو نے کہا ہے کہ وہ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔

 

مقامی ہسپتال کے چیف فزیشن ڈاکٹر نوروز کے مطابق حملے کے بعد 40 سے زائد زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ شدید زخمیوں کو مزید علاج کے لیے گردیز ہسپتال ریفر کر دیا گیا۔

 

بی بی سی پشتو کے مطابق صوبہ پکتیکا کے علاقے گیان میں محمد امین نامی شخص کا گھر بھی حملے کی زد میں آیا، جس کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد ہلاک ہوئے۔

 

صوبہ کنڑ میں طالبان حکومت کے مقامی حکام نے بتایا کہ ضلع مرورہ کے علاقے بارول میں بھی رات گئے ایک گھر کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا، تاہم علاقے کے دور افتادہ ہونے کے باعث تاحال جانی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔

 

بی بی سی پشتو کو موصول ہونے والی ویڈیوز میں بعض زخمی افراد اور عینی شاہدین نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی حملوں میں رہائشی عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

 

پاکستان کی جانب سے یہ کارروائیاں ایسے وقت میں کی گئیں جب ایک روز قبل کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں رینجرز کے کمپاؤنڈ پر حملے میں تین سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ 

 

پاکستانی فوج کے مطابق جوابی کارروائی میں تین حملہ آور ہلاک جبکہ ایک زخمی حملہ آور کو گرفتار کیا گیا، جسے افغان شہری قرار دیا گیا۔ کالعدم جماعت الاحرار نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

 

پاکستانی سرکاری میڈیا نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ گرفتار زخمی حملہ آور نے اعتراف کیا ہے کہ اس کا تعلق افغانستان سے ہے اور اس نے وہیں تربیت حاصل کی۔

 

وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ سرحد پار کارروائیاں حالیہ دہشت گرد حملوں، خصوصاً کراچی میں رینجرز کے کمپاؤنڈ پر حملے، کے جواب میں کی گئیں۔ ان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے ’’دہشت گردوں کے کیمپوں اور محفوظ ٹھکانوں کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا۔‘‘

 

اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان مخالف شدت پسند گروہوں کی پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے، تاہم افغان طالبان اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان میں شدت پسندی ایک اندرونی مسئلہ ہے۔

 

مارچ میں دونوں ممالک نے جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، تاہم اس کے باوجود وقفے وقفے سے سرحد پار حملے جاری رہے۔ افغان حکام کے مطابق جون میں ہونے والے پاکستانی فضائی حملوں میں بھی 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

 

تازہ حملوں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات مسلسل تناؤ کا شکار رہے ہیں، جبکہ چین سمیت متعدد ممالک کی ثالثی کی کوششیں اب تک دیرپا حل نکالنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C