12/March/2022

داعش نے ابو الحسن الہاشمی القریشی کو اپنا نیا سربراہ مقرر کردیا

👁️ 25 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
داعش نے ابو الحسن الہاشمی القریشی کو اپنا نیا سربراہ مقرر کردیا

داعش نے ابو الحسن الہاشمی القریشی کو اپنا نیا سربراہ مقرر کردیا

واشنگٹن (ڈیلی اردو/اے ایف پی/روئٹرز) شدت پسند گروپ اسلامک اسٹیٹ (داعش) نے اپنے سابق رہنما ابو ابراہیم الہاشمی القریشی کی موت کی تصدیق کردی۔ اس نے کہا کہ ابو الحسن الہاشمی القریشی اس کے نئے رہنما ہوں گے۔ وہ داعش کے پہلے رہنما ابو بکر البغدادی کی جانشین تھے۔ بغدادی بھی اکتوبر 2019 میں امریکی فوج کی اسی طرح کی ایک کارروائی کے دوران مارے گئے تھے۔

داعش نے اپنے سابق رہنما ابو ابراہیم القریشی کی گزشتہ ماہ امریکی حملے میں ہلاکت کی جمعرات کے روز ایک آڈیو بیان جاری کرکے تصدیق کردی۔ سن 2014 میں قائم ہونے والی اس شدت پسند تنظیم نے اپنے تیسرے “امیر” کی تقرری کا بھی اعلان کیا۔

داعش نے اپنے بیان میں کہا کہ”ابو الحسن الہاشمی القریشی مسلمانوں کے امیر اور خلیفتہ المسلمین ہوں گے اور اسلامک اسٹیٹ کے جہادیوں نے ان کے ہاتھوں پر بیعت کرلی۔”

داعش کے نئے “امیر” کے بارے میں زیادہ تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔ داعش کے نئے ترجمان ابوعمر المہاجر کے مطابق ابوابراہیم نے اپنی موت سے قبل ہی ابو الحسن القریشی کی جانشینی کی تصدیق کردی تھی۔ ان کی موت کے بعد گروپ کے سینئر رہنماوں نے ان کی تقرری کی توثیق کردی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان کے سابق رہنما “ابو ابراہیم القریشی اور داعش کے ترجمان ابو حمزہ القریشی گزشتہ دنوں مارے گئے۔ ”

دراصل داعش کے سابق رہنما ابو ابراہیم القریشی شام کے شمال مغرب میں 3 فروری کو امریکی اسپیشل فورسز کی کارروائی کے دوران ہلاک ہوگئے تھے۔ ایک سینیئر امریکی اہلکار نے امریکی میڈیا کو بتایا ہے کہ ابو ابراہیم القریشی نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا جس سے ان کے خاندان کے دیگر افراد بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

شامی سول ڈیفنس کے طور پر جانے جانے والے وائٹ ہیلمٹس کے مطابق ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے والے تین بج کر 15 منٹ پر عمارت میں داخل ہوئے جس میں 13 افراد کی لاشیں بھی شامل تھیں جن میں چھ بچے اور چار خواتین بھی شامل تھیں۔

واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی کے ایک فیلو ہارون زیلن نےجو جہاد کے موضوع پر مہارت رکھتے ہیں، وی او اے کو ابوالحسن کی داعش کے امیر بننے کے حوالے سے بتایا کہ ” مجھے یقین نہیں ہے کہ ہم جان سکیں گے کہ انہیں امیر کب بنایا گیا”۔

زیلن نے کہا کہ ” ابوابراہیم کی مو ت کے چند دنوں کے اندر ہی ابوالحسن کے بارے میں افواہیں گردش کرنے لگی تھیں۔ اس لیے قابل فہم بات یہ ہے کہ یہ فوری فیصلہ کیا گیاہوگا، زیلن نے کہا کہ سیکورٹی خدشا ت کی وجہ سے اس بات کے اعلان میں تاخیر کی گئی ہوگی۔”

داعش کمزور لیکن ختم نہیں

داعش کے نئے رہنما نے شدت پسند گروپ کی کمان ایسے وقت سنبھالی ہے جب اس کی حالت بہت کمزور ہے اور اب یہ اتنی منظم اور طاقت ور نہیں رہ گئی ہے جیسا کہ اپنے قیام کے ابتدائی برسوں میں تھی۔ جب شام اور عراق کے بڑے حصے پر اس کا غلبہ تھا اور خطے کے لاکھوں لوگوں کی قسمت اس کے ہاتھوں میں تھی۔

سن 2014 میں ایک دیگر معروف جہادی گروپ القاعدہ سے الگ ہوجانے کے بعد بہت جلد یہ خطے کی سب سے خطرناک دہشت گرد تنظیم بن گئی تھی۔ تاہم خطے میں اس گروپ کی گرفت سن 2019 میں اس وقت تقریباً ختم ہوگئی جب امریکی حمایت یافتہ کرد فورسز نے شام اور عراق میں اس کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ شرو ع کیا۔

اقوام متحدہ کی طرف سے سن 2021 میں جاری ایک رپورٹ کے مطابق داعش کے تقریباً دس ہزار جنگجو اب بھی عراق اور شام میں سرگرم ہیں۔ ان علاقوں میں وہ کرد فورسز اور روسی حمایت یافتہ بشارالاسد حکومت کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

دہشت گردی پر تحقیقات کرنے والی ایک اسرائیلی تنظیم’ میر امت انٹلیجنس اینڈ ٹیررازم انفارمیشن سینٹر’ کا دعوی ہے کہ داعش نے سن 2021 کے دوران 2705 حملے کیے جن کے نتیجے میں 8147 افراد ہلا ک ہوگئے۔

داعش نے سن 2021 میں بیشتر حملے افغانستان میں کیے جہاں 2200 سے زیادہ اموات ہوئیں۔ ان میں سے بیشتر ہلاکتیں سن 2021 کے وسط میں امریکی اور مغربی اتحادیوں کی فورسز کے افغانستان سے انخلاء کے بعد ہوئیں۔ ہلاکتوں کی یہ تعداد عراق سے کچھ زیادہ تھیں جہاں داعش کے ہاتھوں تقریباً 2083 لوگ مارے گئے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C