روس یوکرین میں ہارا تو ایٹمی جنگ شروع ہو سکتی ہے، میدویدیف
👁️ 36 بار دیکھا گیا
روس یوکرین میں ہارا تو ایٹمی جنگ شروع ہو سکتی ہے، میدویدیف
ماسکو (ڈیلی اردو/رائٹرز/اے پی/اے ایف پی) سابق روسی صدر اور موجودہ صدر ولادیمیر پوٹن کے قریبی اتحادی دمیتری میدویدیف نے مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کو ممکنہ ایٹمی جنگ کی دھمکی دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین میں روس کی شکست جوہری ہتھیاروں سے جنگ کی وجہ بن سکتی ہے۔
یوکرین میں روسی فوجی مداخلت کے ساتھ گزشتہ برس فروری کے اواخر میں شروع ہونے والے جنگ تقریباﹰ گیارہ ماہ سے جاری ہے اور اس میں اب تک دونوں جنگی فریقوں کا بے تحاشا جانی اور مالی نقصان ہو چکا ہے۔
مغربی دنیا اس جنگ کی وجہ سے نہ صرف روس پر بہت سی پابندیاں لگا چکی ہے بلکہ روسی فوج کے خلاف یوکرین کی کھل کر عسکری مدد بھی کر رہی ہے۔ اس کے برعکس روس کا اندازہ تھا کہ وہ یوکرین کے خلاف اپنی جنگی مہم بہت جلد جیت لے گا تاہم ایسا نہ ہوا اور ماسکو کو اس جنگ میں ابھی تک بڑے جانی اور مالی نقصانات کا سامنا ہے۔ روس آج بھی یہ تسلیم کرنے پر تیار نہیں کہ اس کے لیے یہ جنگ جیتنا بہت مشکل ہو گا۔
’ایٹمی طاقتیں جنگیں نہیں ہارتیں‘
روسی یوکرینی جنگ کے پس منظر میں ماضی میں روسی صدر کے فرائض انجام دینے والے اور موجودہ صدر پوٹن کے بہت قریبی اتحادی دمیتری میدویدیف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلیگرام پر اپنے ایک بیان میں آج جمعرات انیس جنوری کے روز لکھا، ’’ایک ایٹمی طاقت کی ایک روایتی جنگ میں شکست جوہری ہتھیاروں سے جنگ شروع ہو جانے کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔‘‘
سن 2008ء سے لے کر 2012ء تک صدر کے عہدے پر فائز رہنے والے دمیتری میدویدیف موجودہ صدر پوٹن کی قیادت میں قائم روس کی بہت طاقت ور سکیورٹی کونسل کے نائب سربراہ بھی ہیں۔ انہوں نے ٹیلیگرام پر اپنی پوسٹ میں لکھا، ”ایٹمی طاقتیں آج تک کے ایسے بڑے تنازعات میں کبھی ناکام نہیں رہیں جو ان کے مستقبل کا تعین کر سکتے ہوں۔‘‘
نیٹو کو واضح تنبیہ
دمیتری میدویدیف نے اپنا یہ بیان ایک ایسے وقت پر دیا ہے جب کل جمعہ بیس جنوری کے روز جرمنی میں رامشٹائن کے فضائی اڈے پر مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے رکن ممالک کے وزرائے دفاع کا ایک اہم اجلاس ہو رہا ہے۔
اس اجلاس میں شریک وزراء یوکرین میں روس کو فوجی شکست دینے کے لیے کییف حکومت کی مدد اور اس جنگ سے متعلق مغربی دنیا کی اب تک کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کریں گے۔
اس تناظر میں دمیتری میدویدیف نے اپنے بیان میں لکھا کہ نیٹو کی رکن ریاستوں اور دیگر ممالک کے وزرائے دفاع کو اس بارے میں بھی غور کرنا چاہیے کہ ان کی حکمت عملی اپنے اندر کس کس طرح کے خطرات لیے ہوئے ہے۔
دنیا کی دو سب سے بڑی ایٹمی طاقتیں
روس اور امریکہ دنیا کی دو سب سے بڑی ایٹمی طاقتیں ہیں۔ یہ دونوں ملک دنیا کے 90 فیصد کے قریب جوہری ہتھیاروں کے مالک ہیں۔ آئینی طور پر روس کی طرف سے جوہری ہتھیاروں کے کسی بھی ممکنہ استعمال کا حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار صدر پوٹن کے پاس ہے۔
جہاں تک روس اور نیٹو کی عسکری طاقت کے موازنے کا تعلق ہے تو روایتی جنگی طاقت اور عسکری ساز و سامان کے شعبے میں نیٹو کو روس پر برتری حاصل ہے۔ لیکن اگر جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے دیکھا جائے تو یورپ میں، جہاں یوکرین کی جنگ جاری ہے، روس کو نیٹو پر برتری حاصل ہے۔
یوکرینی جنگ سے متعلق پوٹن کا موقف
چوبیس فروری 2022ء کے روز ماسکو کے فوجی دستوں کو یوکرین میں مسلح مداخلت کا حکم دینے والے صدر پوٹن اس جنگی تنازعے کو اپنی طرف سے باقاعدہ جنگ کا نام دینے سے عسکری اور سیاسی سطح پر احتراز کرتے ہیں۔
ولادیمیر پوٹن کے بقول یوکرین کے خلاف روسی فوجی مہم ماسکو کا ایک ‘خصوصی فوجی آپریشن‘ ہے اور اس تنازعے میں روس مبینہ طور پر مغرور اور جارحیت پسند مغرب کے خلاف اپنی بقا کی جہدوجہد میں مصروف ہے۔
صدر پوٹن یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ روس جارحیت کرنے والے کسی بھی ملک کے خلاف اپنا اور روسی عوام کا تحفظ کرنے کے لیے ہر قسم کے دستیاب ذرائع استعمال کرے گا۔
مغربی دنیا کا موقف
روسی یوکرینی جنگ براعظم یورپ میں دوسری عالمی جنگ کے بعد سے لے کر آج تک کا سب سے ہلاکت خیز تنازعہ ثابت ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ یہی جنگ ماسکو اور مغربی دنیا کے مابین 1962ء میں کیوبا کی سرزمین پر میزائل نصب کرنے کے منصوبے کے باعث پیدا ہونے والے بحران کے بعد سے آج تک کی سب سے بڑی مخاصمت بھی بن چکی ہے۔
امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی طرف سے یوکرین کی جنگ کے باعث روس کی یہ کہہ کر مذمت کی جاتی ہے کہ یوکرین میں فوجی مداخلت روس کی طرف سے یوکرینی علاقے پر سامراجی قبضے کے لیے شروع کی گئی۔
جہاں تک خود یوکرین کا تعلق ہے تو کییف حکومت کئی مرتبہ کہہ چکی ہے کہ یوکرین روس کے خلاف اس وقت تک لڑتا رہے گا، جب تک کہ آخری روسی فوجی کو بھی یوکرینی علاقے سے نکال نہیں دیا جاتا۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
طالبان نے افغانستان میں چھوٹی داڑھی پر امدادی کارکن گرفتار کر لیے
23/June/2026 👁️ 109 بار دیکھا گیا
امریکہ نے ایرانی تیل کی برآمدات پر عارضی پابندیاں نرم کر دیں، 60 روزہ لائسنس جاری
23/June/2026 👁️ 81 بار دیکھا گیا
ایران میں کریک ڈاؤن، “دشمن سے تعاون” کے الزام میں 3 ہزار سے زائد گرفتاریاں
23/June/2026 👁️ 249 بار دیکھا گیا
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ کو عمر قید
23/June/2026 👁️ 90 بار دیکھا گیا
ماسکو پر 60 ڈرون حملے ناکام، یوکرین میں روسی حملوں سے 5 افراد ہلاک
23/June/2026 👁️ 196 بار دیکھا گیا
لبنان میں حزب اللہ کا اسرائیل کے خلاف دفاعی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان
23/June/2026 👁️ 200 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8849 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4608 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3300 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2470 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2123 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1917 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C