11/October/2022

سوات: اسکول وین پر حملے میں ہلاک ڈرائیور کی لاش کے ہمراہ دھرنا، ‘نتیجہ خیز’ کارروائی کا مطالبہ

👁️ 20 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
سوات: اسکول وین پر حملے میں ہلاک ڈرائیور کی لاش کے ہمراہ دھرنا، ‘نتیجہ خیز’ کارروائی کا مطالبہ

سوات: اسکول وین پر حملے میں ہلاک ڈرائیور کی لاش کے ہمراہ دھرنا، ‘نتیجہ خیز’ کارروائی کا مطالبہ

پشاور (ڈیلی اردو/ وی او اے) خیبرپختونخوا کی وادیٴ سوات کے علاقے چار باغ میں پیر کو اسکول وین پر عسکریت پسندوں کے مبینہ حملے کے خلاف دوسرے روز بھی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

فائرنگ کے اس واقعے میں ڈرائیور ہلاک اور دو طلبہ زخمی ہوئے تھے ۔دونوں زخمی طلبہ کم سن ہیں جو اب بھی سیدو شریف کے مرکزی اسپتال میں زیرِ علاج ہیں، جہاں ان کی حالت اب خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔

اسکو ل وین پر فائرنگ کے واقعے کے خلاف سوات میں منگل کو تمام نجی تعلیمی ادارے بطور احتجاج بند رہے جب کہ واقعے کے خلاف مٹہ ڈگری کالج کے طلبہ بھی سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاج کیا۔

اسکول وین پر حملے کے خلاف سیاسی اور مذہبی جماعتیں مشترکہ طور پر احتجاج کر رہی ہیں۔ قوم پرست سیاسی جماعتوں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی نے مشترکہ طور پر مینگورہ کے نشاط چوک میں احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا۔

ادھر مقتول اسکول وین کے ڈرائیور کے ورثا مدین اور کالام روڈ پر لاش رکھ کر دھرنا دیے بیٹھے ہیں جس میں طلبہ سمیت سوات بھر سے مختلف سیاسی جماعتوں، سماجی انجمنوں اور کاروباری تنظیموں سے منسلک افراد شریک ہیں۔

نتیجہ خیز کارروائی کا مطالبہ

سوات سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی عیسیٰ خان خیل نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ مظاہرین قاتلوں کی گرفتاری اور علاقے میں موجود مسلح نقاب پوش عسکریت پسندوں کے خلاف ‘نتیجہ خیز ‘کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

سوات پولیس نے اس واقعے میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔

پولیس کا مؤقف ہے کہ اس واقعے میں بچوں کو اسکول لے جانے والی گاڑی کے ڈرائیور کو ہدف بنا کر قتل کیا گیا ہے، جس کی بنیاد پر وہ اس واقعے کو ذاتی دشمنی کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں۔

مقامی صحافی عیسی خان خیل کہتے ہیں کہ ہلاک ہونے والے ڈرائیور کے عزیز اور مقامی افراد نے پولیس کے اس مؤقف کو مسترد کیا ہے۔

مالاکنڈ ڈویژن کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) پولیس ذیشان اصغر نے ایک روز قبل وائس آف امریکہ کو بتایا تھا کہ تحقیقات کے بعد اس واقعے کے اصل محرکات کے بارے میں کچھ بتایا جا سکتا ہے۔

وزیرِ اعلیٰ کا نوٹس

خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ محمود خان نے آبائی ضلع سوات میں اسکول وین پر ہونے والی فائرنگ کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس معظم جاہ انصاری کو ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

حالیہ دنوں میں سابق وفاقی وزیر مراد سعید نے بھی دہشت گردی کے پے در پے واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سیکیورٹی فورسز کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

مذاکرات ختم، جنگ شروع

سیاسی اور دفاعی تجزیہ کار عامر رانا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ سرحد پار افغانستان میں روپوش کالعدم شدت پسند تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان (پی ٹی آئی) کے ساتھ مذاکرات ختم ہو گئے ہیں اور اب باقاعدہ طور پر جنگ شروع ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے خاتمے پر اب بھی کچھ ابہام موجود ہے، جس کی وجہ سے تشدد اور دہشت گردی کے واقعات تواتر سے ہو رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی اداروں کو اس ابہام کو ختم کرنا ہوگا، جو ریاست کی عمل داری قائم کرنے کے لیے بہت ضروری ہے، اگر یہ ابہام ختم نہ کیے گئے تو اس کے مزید خوف ناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔

گھات لگا کر قتل کی وارداتوں کے بارے میں رانا عامر کا کہنا ہے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں، ٹارگٹ کلنگ عسکریت پسند کرتے رہے ہیں کیوں کہ وہ اپنے مخالفین، حکومتی اداروں یا حکومت کا ساتھ دینے والوں کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C