طالبان نے کابل ایئرپورٹ حملے میں ملوث داعش لیڈر کو ہلاک کر دیا
👁️ 31 بار دیکھا گیا
طالبان نے کابل ایئرپورٹ حملے میں ملوث داعش لیڈر کو ہلاک کر دیا
کابل (ڈیلی اردو/ڈی پی اے/اے پی/رائٹرز/اے ایف پی) اگست سن 2021 میں افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے دوران کابل ہوائی اڈے پر ایک خودکش دھماکہ ہوا تھا، جس میں 13 امریکی فوجیوں سمیت درجنوں افغان شہری ہلاک ہو گئے تھے۔
امریکی حکام نے 26 اپریل بدھ کے روز بتایا کہ اگست 2021 میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے دوران کابل ہوائی اڈے پر ہونے والے خودکش بم حملے کے مشتبہ ماسٹر مائنڈ کو اس ماہ کے اوائل میں طالبان نے ہلاک کر دیا۔
26 اگست 2021 کے روز خود کش حملے میں کابل کے ہوائی اڈے کے ایبی گیٹ کو نشانہ بنایا گیا تھا، جہاں طالبان کے کنٹرول کے بعد بڑی تعداد میں لوگ شہر سے باہر جانے کی کوشش کر رہے تھے اور ایئرپورٹ کے آس پاس لوگوں کا زبردست ہجوم تھا۔
اس حملے میں تقریباً 170 افغان اور 13 امریکی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔
امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے بدھ کے روز کہا کہ ”وہ آئی ایس آئی ایس خراسان ونگ (داعش) کا ایک اہلکار تھا، جو ایبی گیٹ جیسی کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں براہ راست ملوث تھا، اور اب وہ حملوں کی منصوبہ بندی یا ایسی کارروائی کرنے کے قابل نہیں رہا۔”
امریکہ نے متاثرین کے اہل خانہ کو مطلع کر دیا
ہفتے کے اواخر میں امریکی فوج نے کابل ہوائی اڈے پر ہلاک ہونے والے 13 امریکی فوجی اہلکاروں کے اہلخانہ کو اس بارے میں اطلاع دینا شروع کیا تھا۔
ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں میں سے ایک کے والد ڈیرن ہوور نے خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹیڈ پریس کو بتایا کہ داعش سیل کے رہنما کی موت سے انہیں کچھ سکون ملا ہے۔
اسٹاف سارجنٹ ڈیرن ٹیلر ہوور کے والد نے کہا: ”اب چاہے کچھ بھی ہو، ٹیلر کو کبھی واپس نہیں لایا جا سکتا اور میں اس بات کو سمجھتا ہوں۔”
ڈیرن ہوؤر نے مزید کہا، ”اب میں اور اس کی ماں صرف ایک ہی چیز کر سکتے ہیں اور وہ ہے اس کا وکیل بننا۔ ہم صرف سچائی چاہتے ہیں، تاہم ہمیں وہ حاصل نہیں ہو رہی ہے۔ یہ بڑا مایوس کن ہے۔”
انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کی اہلیہ نے گزشتہ ڈیڑھ برس اپنے بیٹے کی موت کے غم میں گزارے ہیں اور جس طرح سے انخلا کیا گیا اس کے لیے بائیڈن انتظامیہ کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے وہ دعا کرتے رہے ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے اے پی کا کہنا ہے کہ اس نے متاثرہ فوجیوں کے جن اہل خانہ سے بات کی انہیں، ہلاک ہونے والے داعش کے عسکریت پسند کی موت کے حالات کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے، اس سیل کے سربراہ کا نام عوامی طور پر یا خاندان کے افراد کو نہیں بتایا گیا۔
امریکی حکام نے بس اتنا بتایا کہ مذکورہ عسکریت پسند اس ماہ کے اوائل میں جنوبی افغانستان میں طالبان اور داعش کے درمیان ہونے والی لڑائی کے دوران مارا گیا۔
بائیڈن انتظامیہ کے سینیئر حکام کے مطابق امریکی انٹیلیجنس نے بعد میں اس کی ”بڑے اعتماد” کے ساتھ تصدیق کی کہ حالیہ دنوں میں دہشت گردی سیل کا سربراہ مارا گیا ہے۔
عسکریت پسند کی ہلاکت میں امریکہ کا کوئی کردار نہیں
خبر رساں ایجنسی اے پی نے اطلاع دی ہے کہ متعدد امریکی عہدیداروں نے اسے بتایا کہ داعش کے عسکریت پسند کی ہلاکت میں امریکہ نے کوئی کردار ادا نہیں کیا اور نہ ہی طالبان کے ساتھ اس میں کوئی تعاون یا رابطہ کیا۔
تاہم امریکی انتظامیہ کے اہلکاروں نے کہا کہ انہیں اس آپریشن کے بارے میں اپنی ” افق پردستیاب صلاحیت” سے پتہ چلا۔ امریکہ انسداد دہشت گردی سے متعلق انٹیلیجنس جمع کرنے کی اپنی مخصوص صلاحیت کے لیے یہ اصطلاح استعمال کرتا ہے، جہاں زمین پر اگر اس کے فوجی نہ بھی موجود ہوں تو بھی ایسے دور دراز کے خطرات کی نشاندہی کرنے کے ساتھ ہی اس سے نمٹا جا سکتا ہے۔
صدر جو بائیڈن نے بارہا امریکہ کی اس صلاحیت کو ایک ایسی صلاحیت کے طور پر بیان کرتے رہے ہیں، جو حکام کو امریکہ کے لیے کسی بھی خطرے کی نگرانی کرنے کے عمل کو آسان بناتی ہے۔
بیس سالہ جنگ کے بعد ہنگامہ خیز انخلاء
افغانستان میں طالبان اورداعش کے جنگجوؤں میں ماضی میں بھی آپس میں لڑائی ہوتی رہی ہے۔ لیکن فکر یہ تھی کہ کیا افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد بھی یہ ملک امریکہ یا دیگر ممالک پر حملہ کرنے کے لیے انتہا پسندوں کی محفوظ پناہ گاہ بن جائے گا۔
سن 2021 میں کابل سے افراتفری پر مبنی امریکی انخلاء کے لیے بائیڈن انتظامیہ پر شدید تنقید ہوتی رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے تو ملک 20 برس سے جاری جنگ کی حمایت کرتا تھا اور پھر اس نے اچانک امریکیوں اور افغانوں کو وہاں سے نکالنے کی کوشش کی۔
اس ماہ کے اوائل میں وائٹ ہاؤس نے انخلا کے عمل کے اپنے جائزے میں، بائیڈن کے تمام فوجیوں کو نکالنے کے فیصلے کا دفاع کیا۔ تاہم اس نے یہ بھی اعتراف کیا کہ طالبان نے جس تیزی سے ملک کو فتح کیا، امریکی انٹیلیجینس اس کی پیش گوئی کرنے میں بری طرح ناکام رہی تھی۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
طالبان نے افغانستان میں چھوٹی داڑھی پر امدادی کارکن گرفتار کر لیے
23/June/2026 👁️ 53 بار دیکھا گیا
امریکہ نے ایرانی تیل کی برآمدات پر عارضی پابندیاں نرم کر دیں، 60 روزہ لائسنس جاری
23/June/2026 👁️ 40 بار دیکھا گیا
ایران میں کریک ڈاؤن، “دشمن سے تعاون” کے الزام میں 3 ہزار سے زائد گرفتاریاں
23/June/2026 👁️ 62 بار دیکھا گیا
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ کو عمر قید
23/June/2026 👁️ 46 بار دیکھا گیا
ماسکو پر 60 ڈرون حملے ناکام، یوکرین میں روسی حملوں سے 5 افراد ہلاک
23/June/2026 👁️ 99 بار دیکھا گیا
لبنان میں حزب اللہ کا اسرائیل کے خلاف دفاعی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان
23/June/2026 👁️ 69 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8847 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4603 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3298 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2469 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2121 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1916 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C