13/January/2026

قبائلی اضلاع میں صحافی شدید خطرات کی زد میں، آزاد صحافت مفلوج

👁️ 308 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
قبائلی اضلاع میں صحافی شدید خطرات کی زد میں، آزاد صحافت مفلوج

قبائلی اضلاع میں صحافی شدید خطرات کی زد میں، آزاد صحافت مفلوج

اسلام آباد (ڈیلی اردو) پاکستان کے شورش زدہ صوبے خیبرپختونخوا کے بیشتر قبائلی اضلاع، جن میں شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، باجوڑ اور خیبر شامل ہیں، میں صحافیوں کو مسلح گروہوں اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے شدید دباؤ اور سنگین سیکیورٹی خدشات کا سامنا ہے، جس کے باعث آزاد اور غیر جانبدار صحافت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

 

مقامی صحافیوں کے مطابق ان علاقوں میں بیشتر صحافی مقامی مسائل، بدامنی، جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق سے متعلق خبریں تیار اور شائع کرنے سے قاصر ہیں۔

 

صحافیوں کا کہنا ہے کہ مسلح گروہوں کی جانب سے انہیں صحافت چھوڑنے یا علاقہ چھوڑنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جبکہ بعض صحافیوں کو سیکیورٹی اداروں کی طرف سے اس حد تک دباؤ کا سامنا ہے کہ وہ متعلقہ اداروں اور موجودہ انتظامیہ کی اجازت کے بغیر کوئی خبر شائع نہیں کر سکتے۔

 

ڈیلی اردو کے مطابق جو صحافی قبائلی اضلاع میں آزادانہ صحافت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں قتل کی دھمکیوں، گھروں کو مسمار کرنے اور خاندان کے افراد کو نشانہ بنانے جیسی کارروائیوں کا سامنا ہے۔ 

 

اسی دوران سیکیورٹی اداروں اور مقامی انتظامیہ کی مبینہ مداخلت کے باعث پریس کلبوں میں بعض صحافیوں کے خلاف ایک منظم بلاک تشکیل دیا گیا ہے، جس کے تحت انہیں پریس کلب انتخابات میں رکنیت دینے سے انکار کیا جاتا ہے۔

 

2026 کے آغاز پر وانا پریس کلب کے سالانہ انتخابات بھی مبینہ سیکیورٹی مداخلت کے باعث متنازع ہو گئے، جس کے نتیجے میں صحافی برادری تین دھڑوں میں تقسیم ہو گئی۔

 

حالیہ دنوں میں شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، باجوڑ اور خیبر میں صحافیوں اور سِٹیزن جرنلزم سے وابستہ افراد کے خلاف مسلح سرگرمیوں میں اضافہ رپورٹ ہوا ہے۔ 

 

مقامی ذرائع کے مطابق متعدد صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں لعل وزیر، معراج خالد اور دیگر شامل ہیں۔ معراج خالد کا گھر بم حملے میں تباہ کر دیا گیا، جبکہ صحافی لعل وزیر کے گھر پر حملے کے دوران ان کے دو چچا زاد بھائی اور دیگر اہلِ خانہ زخمی ہوئے۔

 

ذرائع کے مطابق صحافی لعل وزیر کو مسلسل موت کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور ان کا خاندان شدید خوف اور دباؤ کے ماحول میں زندگی گزار رہا ہے۔

 

اطلاعات کے مطابق عسکریت پسند تنظیموں کے مسلح کمانڈر ان کے اہلِ خانہ، حتیٰ کہ بچوں کو بھی ہراساں کرتے ہیں اور ان سے لعل وزیر کے ٹھکانے کے بارے میں پوچھ گچھ کی جاتی ہے۔

 

مزید بتایا گیا ہے کہ گزشتہ روز تحصیل برمل کے علاقے اعظم ورسک کژہ پنگا میں صحافی لعل وزیر کے گھر کے قریب سڑک پر بم نصب کیا گیا تھا، جسے بعد ازاں علاقے کے عمائدین اور مقامی مذہبی شخصیات کی درخواست پر ہٹا دیا گیا۔ 

 

مقامی ذرائع کے مطابق گزشتہ چند دنوں سے لعل وزیر کے گھر پر رات کے وقت فائرنگ کے واقعات بھی پیش آ رہے ہیں۔

 

صحافی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں نے ان واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ قبائلی اضلاع، خصوصاً باجوڑ اور خیبر سمیت دیگر علاقوں میں صحافیوں کو مؤثر تحفظ فراہم کیا جائے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C