17/January/2026

متنازع ٹوئٹس کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم

👁️ 252 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
متنازع ٹوئٹس کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم

متنازع ٹوئٹس کیس: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم

اسلام آباد (ڈیلی اردو) اسلام آباد کی ضلعی عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی علی کے دوبارہ وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں اور ان کو 24 گھنٹے میں گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

 

اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹویٹس کیس کی سماعت ہوئی۔

 

سماعت کے دوران ڈی آئی جی آپریشنز اور ڈائریکٹر این سی سی آئی اے عدالت میں پیش ہوئے۔ جج افضل مجوکا نے وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں ایک شخص گرفتار نہیں ہوتا تو بلوچستان یا دیگر صوبوں میں کیا کریں گے۔

 

تفتیشی افسر عمران حیدر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان اپنی رہائش گاہ پر موجود نہیں تھے اور جان بوجھ کر گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہیں۔

 

این سی سی آئی اے حکام نے کہا کہ چار افسران پر مشتمل ٹیم تشکیل دی گئی تھی لیکن ملزمان ایڈریس پر موجود نہیں تھے۔ حکام نے مزید وقت دینے کی استدعا کی جس پر عدالت نے گرفتاری کے لیے 24 گھنٹے کا وقت دیا۔

 

ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا نے دونوں ملزمان کے دوبارہ وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے پولیس کو ہدایت دی کہ انھیں گرفتار کر کے کل ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا جائے۔

ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا نے واضح کیا کہ وارنٹ گرفتاری پر فوری عمل درآمد ہونا چاہیے اور پولیس کو کل صبح گیارہ بجے تک رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔

 

ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ پر الزام ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے لسانی بنیادوں پر تقسیم کو ہوا دی اور ملک میں مسلح افواج کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کا تاثر پیدا کیا۔ انہی الزامات کی بنیاد پر ان کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔

 

 ایمان مزاری کے مطابق یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس مقدمے کا آغاز سے لے کر اب تک کا واحد مقصد  انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچانا ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’یہ وہی رویہ ہے، جو ٹرائل کورٹ نے پہلے اپنایا تھا، جب ہماری غیر موجودگی میں یکطرفہ کارروائی کی گئی اور ہمیں جوابی سوالات کا کوئی حق نہیں دیا گیا۔‘‘

 

ایمان مزاری نے بتایا کہ اب ایک بار پھر نہ صرف ان کا جوابی سوالات اور دفاع کا بنیادی حق ختم کر دیا گیا ہے بلکہ عدالت نے یہ حکم بھی دے دیا ہے کہ انہیں صرف ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا جائے۔، ’’اس کا مقصد واضح ہے۔ عدالت میں جسمانی موجودگی نہیں، جوابی سوالات نہیں، دفاع کا کوئی حق نہیں۔

 

یاد رہے کہ ہادی علی چٹھہ اور ایمان مزاری کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

 

این سی سی آئی اے کی جانب سے درج مقدمے کے مطابق ایمان مزاری اور ان کے شوہر پر الزام ہے کہ وہ سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے لسانی بنیادوں پر تقسیم کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے تھے۔

 

الزام لگایا گیا کہ انہوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں لاپتا افراد کے معاملات کی ذمہ داری سیکیورٹی فورسز پر ڈالی۔

یہ مقدمہ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ایکٹ (پیکا) کی دفعات 9، 10، 11 اور 26 کے تحت درج کیا گیا تھا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C