06/February/2026

مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی سرگرمیاں بڑھ گئیں

👁️ 197 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی سرگرمیاں بڑھ گئیں

مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی سرگرمیاں بڑھ گئیں

واشنگٹن (ڈیلی اردو/نیوز ایجنسیاں) امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام پر مذاکرات جمعے کو عمان میں طے ہوئے ہیں، جبکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اور جنگی وسائل کی نقل و حرکت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

 

وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی جمعے کو عمان میں امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات میں شریک ہوں گے، جبکہ امریکہ کی نمائندگی مشرق وسطیٰ کے امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف کریں گے۔ 

 

ایرانی میڈیا کے مطابق یہ مذاکرات صرف ایران کے جوہری پروگرام اور اس پر عائد پابندیوں تک محدود رہیں گے، اور ایران نے واضح کیا ہے کہ اس کے بیلسٹک میزائل پروگرام یا دفاعی صلاحیتوں پر کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔

 

ایران نے مذاکرات کی جگہ ابتدائی طور پر ترکی میں ہونے والی تھی، لیکن ایرانی درخواست پر اسے عمان منتقل کر دیا گیا۔ 

 

ایرانی حکام نے کہا کہ یہ تبدیلی اس لیے کی گئی تاکہ بات چیت کو محدود رکھا جائے اور بیلسٹک میزائل جیسے حساس مسائل مذاکرات میں شامل نہ ہوں۔ 

 

دوسری جانب، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ مذاکرات میں ایران کے بیلسٹک میزائل، مشرق وسطیٰ میں اس کی حمایت یافتہ گروپوں اور انسانی حقوق کے مسائل بھی شامل کرنا چاہتا ہے۔

 

امریکی فوجی سرگرمیاں بڑھ گئیں

 

گذشتہ چند دنوں میں 100 سے زائد امریکی فوجی پروازیں سینٹ کام کے مشرق وسطیٰ کے اڈوں پر پہنچ چکی ہیں۔ ان میں سے متعدد پروازیں امکان ہے کہ پیٹریاٹ سسٹمز لے کر اردن پہنچی ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں ایک درجن ایف-15 لڑاکا طیارے، ایک ایم کیو-9 ریپر جنگی ڈرون اور متعدد اے-10 سی تھنڈر بولٹ ٹو طیارے اردن کے پرنس سلطان ایئر بیس پر تعینات ہیں۔

 

اس کے علاوہ امریکی فضائیہ کا ای-11 اے طیارہ یونان کے جزیرے کریٹ سے روانہ ہو کر سعودی عرب کے پرنس سلطان ایئر بیس پہنچا۔ یہ تجارتی طیارے خصوصی طور پر تبدیل کیے گئے ہیں تاکہ وہ ایک فضائی مواصلاتی مرکز کے طور پر کام کریں اور امریکی افواج کو وسیع علاقوں میں معلومات کی محفوظ اور تیز تر ترسیل ممکن بنائیں۔

 

امریکی بحریہ کے یو ایس ایس ڈیلبرٹ ڈی بلیک گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر نے مصر میں سوئز نہر عبور کی، جبکہ ایم کیو-4 سی ٹرائیٹن نگرانی ڈرون کی پروازیں بھی جاری ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں پی ایٹ پوسیڈن اور ای تھری جی سینٹری سرویلینس طیاروں کی موجودگی بھی نوٹ کی گئی ہے۔

 

ایران کا دو آئل ٹینکر پر قبضہ

 

ایران کے پاسداران انقلاب نے خلیج میں دو آئل ٹینکرز قبضے میں لے لیے، جن میں 10 لاکھ لیٹر سے زیادہ سمگل شدہ ایندھن موجود تھا، اور 15 غیر ملکی عملے کو حراست میں لیا گیا۔ 

 

ایرانی میڈیا کے مطابق یہ کارروائی واشنگٹن کی خطے میں بحری فوج کی تعیناتی کے بعد بڑھتی کشیدگی کے دوران کی گئی۔ 

 

ایران کا کہنا ہے کہ یہ آئل ٹینکرز غیر قانونی تجارتی سرگرمیوں میں ملوث تھے، جبکہ یہ پانی کی راہداری عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے۔

 

مذاکرات میں کون شریک ہوگا؟

 

ایران کی نمائندگی وزیر خارجہ عباس عراقچی کریں گے، جو تجربہ کار سفارت کار ہیں اور طویل عرصے سے ایرانی وزارت خارجہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ امریکی نمائندگی مشرق وسطیٰ کے امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف کریں گے، جنہوں نے ٹرمپ انتظامیہ میں اہم خارجہ پالیسی امور میں کردار ادا کیا اور یوکرین میں روسی جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں بھی پیش پیش ہیں۔

 

خطے میں کشیدگی کے تناظر میں اہم نکات

 

امریکی اور ایرانی مذاکرات عمان میں ہوں گے اور صرف جوہری پروگرام اور پابندیوں پر محدود رہیں گے۔

 

امریکہ نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور پراکسی گروپوں کی حمایت سمیت دیگر امور مذاکرات میں شامل کرنے پر زور دیا۔

 

مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اور جنگی اثاثوں کی تعداد اور نقل و حرکت میں شدت دیکھی گئی۔

 

ایران نے خلیج میں دو آئل ٹینکر قبضے میں لیے اور عملے کو حراست میں لیا، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C