24/January/2026

پاکستانی فوج کی ناقد وکیل ایمان مزاری اور شوہر گرفتار

👁️ 236 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پاکستانی فوج کی ناقد وکیل ایمان مزاری اور شوہر گرفتار

پاکستانی فوج کی ناقد وکیل ایمان مزاری اور شوہر گرفتار

اسلام آباد (ڈیلی اردو) پاکستان کی پولیس نے جمعے کو انسانی حقوق کی معروف کارکن ایمان مزاری اور ان کے شوہر کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان کے خاندان اور ایک وکلاء ایسوسی ایشن نے بتایا کہ انہیں اسلام آباد کی ایک عدالت میں پیشی کے لیے جاتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔ ان کی گرفتاری ’’سائبر دہشت گردی‘‘ کے الزامات کے تحت ہوئی ہے۔  

 

32 سالہ وکیل ایمان مزاری، جو پاکستانی فوج پر کھل کر تنقید کرتی ہیں، ایک درجن الزامات کا سامنا کر رہی ہیں۔

 

ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو منگل کے روز ایک سائبر کرائم کیس میں ضمانت مل گئی تھی۔ جوڑے نے دیگر ممکنہ مقدمات میں گرفتاری سے بچنے کے لیے جامع ضمانت کی درخواست دی تھی تاکہ وہ آئندہ سماعتوں میں پیش ہو سکیں۔  

 

اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سید واجد علی شاہ گیلانی نے ایک ویڈیو بیان میں الزام لگایا کہ پولیس نے جوڑے کو گرفتار کرنے سے پہلے ان کے ساتھ بدسلوکی بھی کی۔  

 

ایمان مزاری کی والدہ اور سابق وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ان کی بیٹی کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور گرفتاری کے دوران پولیس نے تشدد کا استعمال کیا۔  

 

اسلام آباد پولیس نے تبصرے کے لیے درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔

 

ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ پر الزام ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے لسانی بنیادوں پر تقسیم کو ہوا دی اور ملک میں مسلح افواج کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کا تاثر پیدا کیا۔ انہی الزامات کی بنیاد پر ان کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔

 

 ایمان مزاری کے مطابق یہ بات بالکل واضح ہے کہ اس مقدمے کا آغاز سے لے کر اب تک کا واحد مقصد  انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچانا ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’یہ وہی رویہ ہے، جو ٹرائل کورٹ نے پہلے اپنایا تھا، جب ہماری غیر موجودگی میں یکطرفہ کارروائی کی گئی اور ہمیں جوابی سوالات کا کوئی حق نہیں دیا گیا۔‘‘

 

ایمان مزاری نے بتایا کہ اب ایک بار پھر نہ صرف ان کا جوابی سوالات اور دفاع کا بنیادی حق ختم کر دیا گیا ہے بلکہ عدالت نے یہ حکم بھی دے دیا ہے کہ انہیں صرف ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا جائے۔، ’’اس کا مقصد واضح ہے۔ عدالت میں جسمانی موجودگی نہیں، جوابی سوالات نہیں، دفاع کا کوئی حق نہیں۔

 

یاد رہے کہ ہادی علی چٹھہ اور ایمان مزاری کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے مقدمہ درج کر رکھا ہے۔

 

این سی سی آئی اے کی جانب سے درج مقدمے کے مطابق ایمان مزاری اور ان کے شوہر پر الزام ہے کہ وہ سوشل میڈیا پوسٹس کے ذریعے لسانی بنیادوں پر تقسیم کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے تھے۔

 

الزام لگایا گیا کہ انہوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں لاپتا افراد کے معاملات کی ذمہ داری سیکیورٹی فورسز پر ڈالی۔

یہ مقدمہ الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ایکٹ (پیکا) کی دفعات 9، 10، 11 اور 26 کے تحت درج کیا گیا تھا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C