22/April/2022

پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں میں تیزی

👁️ 27 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں میں تیزی

پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں میں تیزی

پشاور (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے) خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال تیزی سے بگڑتی جارہی ہے۔ سال رواں کے دوران خود کش حملوں، بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور سیکورٹی اداروں کے اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

سال رواں کے پہلے تین ماہ کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے پچھتر واقعات میں ایک سو نواسی افراد ہلاک جب کہ ڈھائی سو زخمی ہوئے۔ دہشت گردی کے واقعات میں پشاور میں سب سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جبکہ دوسرے نمبر پر شمالی وزیرستان میں چالیس افراد مارے گئے۔

تحقیقاتی ادارے سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکورٹی اسٹڈیز کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے تین ماہ کے مقابلے میں سال رواں کے تین ماہ میں دہشت گردی کے واقعات میں ایک سو تہتر فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

ضم قبائلی اضلاع میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کے ساتھ ساتھ پختونخوا کے دیگر اضلاع میں بھی ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں میں اضافہ ہوا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس دوران پولیس، فوج اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے اہلکاروں سمیت نیم فوجی دستوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق ان تین مہینوں کے دوران تیرسٹھ مشتبہ دہشت گردوں کو مقابلے مارا گیا۔ سی آر ایس ایس کی رپورٹ کے مطابق ان دھماکوں میں چند حملوں کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان نے قبول کی تھی۔

سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکورٹی اسٹڈیز سے وابستہ شمس مومند نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا، ” دیکھا جائے تو خیبر پختونخوا میں اگست کے مہینے(طالبان کے کابل پر قبضے) سے دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے لیکن سال رواں کے دوران افغانستان کے سرحدی علاقوں میں اس میں مزید تیزی آئی۔ رواں ہفتے کے دوران شمالی اور جنوبی وزیرستان میں سیکورٹی فورسز پر مسلسل حملے ہوئے، جن میں متعدد اہلکار ہلاک ہوئے۔

اسی طرح پاکستان اور افغانستان کے مابین اہم تجارتی راستہ انگور اڈہ آٹھ دن کے لیے بند رہا۔ ان واقعات کی وجہ سے دونوں ممالک کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا، ” دس سال سے سیکورٹی فورسز ملک بھر میں ٹارگٹڈ آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی اگر دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے تو یہ سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔‘‘

افغانستان کے ساتھ تعلقات
اگست میں افغانستان میں طالبان نے اقتدار سنبھالا تو زیادہ تر لوگوں کا یہ خیال رہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری آئے گی اور دہشت گردی کے واقعات میں کمی کے ساتھ دونوں ممالک کے مابین معاشی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا لیکن ایسا نہ ہو سکا بلکہ الزام تراشی اور ایک دوسرے پر عدم اعتماد کی فضا بدستور جاری رہی۔

معاشی سرگرمیوں کے حوالے سے اہم تجارتی گذرگاہیں طورخم ،غلام خان، انگور اڈہ، خرلاچی اور دیگر آئے روز ا‌ختلافات کی وجہ سے بند کر دی جاتی ہیں۔گزشتہ روز انگور اڈہ اور اس سے قبل غلام خان سرحد کو ایک ہفتے کی بندش کے بعد پیدل آمد و رفت کے لیے کھول دیا گیا۔ اس سرحدوں کی بندش کی وجہ سے دونوں ممالک کے شہریوں کو شدید مشکل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پاک افغان جائینٹ چیمبر آف کامرس کے نائب صدر ضیا الحق سرحدی نے اس سلسلے میں ڈی ڈبلیوکو بتایا، ” تجارت اپنی جگہ ہے لیکن ہمیں اپنی سرزمین کی حفاظت توکرنی ہے یہی ترجیحات ہیں۔‘‘

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C