17/March/2026

کابل کے ہسپتال پر پاکستانی فضائی حملے میں 400 سے زائد افراد ہلاک

👁️ 303 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
کابل کے ہسپتال پر پاکستانی فضائی حملے میں 400 سے زائد افراد ہلاک

کابل کے ہسپتال پر پاکستانی فضائی حملے میں 400 سے زائد افراد ہلاک

کابل (ڈیلی اردو) افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پاکستان کے  فضائی حملے کے بعد 400 سے زائد افراد ہلاک اور 250 زخمی ہوئے ہیں۔

 

افغانستان میں طالبان حکومت کے مطابق یہ حملہ منشیات کے عادی افراد کے علاج کے ایک ہسپتال پر کیا گیا۔

 

دوسری جانب پاکستان نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ فضائی حملوں میں کابل اور مشرقی افغان صوبے ننگرہار میں فوجی تنصیبات اور ’دہشت گردوں کے مراکز‘ کو نشانہ بنایا گیا۔

 

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق پیر کے روز ہسپتال کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔

 

ترجمان کے مطابق ہسپتال کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا اور وہاں درجنوں لاشیں منتقل کی گئیں، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ حملے کے وقت تقریباً دو ہزار افراد زیرِ علاج تھے۔

 

طالبان کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 400 جبکہ 250 افراد زخمی ہیں۔

افغان وزارتِ صحت کے ترجمان شرافت زمان امرخیل نے کہا کہ ہسپتال کے قریب کسی قسم کی عسکری تنصیبات موجود نہیں تھیں۔

 

مقامی رہائشیوں کے مطابق رات تقریباً آٹھ بج کر پچاس منٹ پر زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، جس کے بعد طیاروں کی پرواز کی آوازیں بھی سنی گئیں۔

 

زیرِ علاج افراد کے اہل خانہ ہسپتال کے باہر جمع ہو کر اپنے پیاروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

 

افغان طالبان کے ترجمان زبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا کہ حملے میں عام شہری اور منشیات کے عادی افراد ہلاک ہوئے۔

 

پاکستان کا مؤقف

 

پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج نے کابل اور ننگرہار میں ’عسکری تنصیبات اور دہشت گردی کے مراکز‘ کو نشانہ بنایا۔

 

ان کے مطابق کابل میں دو مقامات پر تکنیکی انفراسٹرکچر اور اسلحہ ذخیرہ کرنے کے مراکز کو تباہ کیا گیا، جبکہ ننگرہار میں چار مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔

 

پاکستانی حکام کے مطابق حملے انتہائی درستگی کے ساتھ کیے گئے اور صرف اُن اہداف کو نشانہ بنایا گیا جو دہشت گردی میں ملوث تھے۔

 

عسکری ذرائع نے کہا کہ حملوں کے بعد ہونے والے ثانوی دھماکے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہاں اسلحہ موجود تھا، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔

 

کشیدگی کی وجوہات

 

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی حالیہ ہفتوں میں دوبارہ بڑھ گئی ہے۔ پاکستان افغانستان پر شدت پسند گروہوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا ہے، جبکہ افغان طالبان اس الزام کو مسترد کرتے ہیں۔

 

حالیہ جھڑپوں کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔ اس سے قبل دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہوا تھا، تاہم جھڑپیں جاری رہیں۔

 

چین نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی کوششیں تیز کر دی ہیں اور فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے تنازعات بات چیت کے ذریعے حل کریں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C