05/July/2026

کراچی رینجرز خودکش حملہ: کالعدم جماعت الاحرار کے کمانڈرز مقدمے میں نامزد

👁️ 45 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
کراچی رینجرز خودکش حملہ: کالعدم جماعت الاحرار کے کمانڈرز مقدمے میں نامزد

کراچی رینجرز خودکش حملہ: کالعدم جماعت الاحرار کے کمانڈرز مقدمے میں نامزد

کراچی (ڈیلی اردو) پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں رینجرز کمپاؤنڈ پر خودکش حملے اور مسلح دہشت گردوں کی کارروائی کے مقدمے میں پولیس نے کالعدم جماعت الاحرار کے متعدد کمانڈرز کو حملے کا مبینہ ماسٹر مائنڈ قرار دے دیا۔

 

کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے تھانے میں رینجرز کے سب انسپکٹر اسد محمود خان کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، جس میں دہشت گردی، قتل، اقدامِ قتل، سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے، غیر قانونی اسلحہ اور دھماکا خیز مواد رکھنے و استعمال کرنے، دہشت گردانہ سازش اور دیگر متعلقہ دفعات شامل کی گئی ہیں۔

 

ایف آئی آر کے متن کے مطابق 27 جون 2026 کو رات تقریباً 8 بج کر 10 منٹ پر گلستانِ جوہر میں رینجرز ورکشاپ کمپنی کے ٹی سی بلڈنگ گیٹ پر ایک خودکش حملہ آور نے رینجرز اہلکاروں کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس کے نتیجے میں ڈیوٹی پر موجود حوالدار ریاض، سپاہی داؤد پرویز اور سپاہی عبدالقدیر سمیت پانچ دیگر افراد ہلاک ہوگئے۔

 

مقدمے کے مطابق خودکش دھماکے کے فوراً بعد خودکار ہتھیاروں سے لیس تین مسلح دہشت گرد دھماکے سے متاثرہ مقام کے راستے اندر داخل ہوئے اور اندھا دھند فائرنگ کے ساتھ ہینڈ گرنیڈ بھی پھینکے۔

 

ایف آئی آر کے مطابق اطلاع ملنے پر اسپیشل فورس اور کوئیک ریسپانس فورس (QRF) موقع پر پہنچ گئی، جہاں رینجرز اور سکیورٹی اہلکاروں کی جوابی کارروائی میں دو حملہ آور ہلاک جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔

 

پولیس کے مطابق گرفتار حملہ آور نے اپنی شناخت عثمان علی کے نام سے کرائی۔ اس نے اپنے ہلاک ساتھیوں کے نام عمر، عبدالہادی اور خودکش حملہ آور کا نام جانان بتایا۔ حکام کے مطابق ملزمان کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، ہینڈ گرنیڈ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔

 

حملے کے دوران سرکاری املاک اور متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا جبکہ چار رینجرز اہلکار زخمی ہوئے، جنہیں علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔

 

ایف آئی آر کے مطابق گرفتار ملزم نے تفتیش میں بتایا کہ وہ افغانستان کے شہر جلال آباد کا رہائشی ہے اور حملے سے ایک ہفتہ قبل اپنے ساتھیوں جانان اور عمر، جو افغان شہری ہیں، جبکہ عبدالہادی، جو ضلع باجوڑ کا رہائشی ہے اور مبینہ طور پر طویل عرصے سے افغانستان میں دہشت گرد تنظیم کے ساتھ وابستہ تھا، کے ہمراہ کراچی پہنچا تھا۔ اس نے بیان دیا کہ مقامی سہولت کاروں کی مدد سے انہوں نے کورنگی میں عارضی رہائش اختیار کی اور حملے سے قبل رینجرز ورکشاپ کی ریکی کی۔

 

مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ حملہ افغانستان میں موجود کالعدم جماعت الاحرار کے کمانڈرز عمر قاری، مولوی احرار اور عبدالواجد کی منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا، جنہوں نے مبینہ طور پر حملہ آوروں کو پاکستان بھیجا۔

 

ایف آئی آر کے مطابق حملہ آوروں کو افغانستان میں موجود کالعدم جماعت الاحرار کے کمانڈرز ملا طاہر افغانی، ملا عبدالمنان اور عمر آفریدی نے دہشت گردی کی تربیت بھی فراہم کی۔

 

پولیس کا کہنا ہے کہ حملے کے سلسلے میں مزید چار مقدمات بھی مختلف پولیس افسران کی مدعیت میں درج کیے گئے ہیں، جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C