23/September/2025

کراچی میں صحافی امتیاز میر پر فائرنگ، بھائی سمیت زخمی، لشکرِ ثاراللہ نے ذمہ داری قبول کر لی

👁️ 914 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
کراچی میں صحافی امتیاز میر پر فائرنگ، بھائی سمیت زخمی، لشکرِ ثاراللہ نے ذمہ داری قبول کر لی

کراچی میں صحافی امتیاز میر پر فائرنگ، بھائی سمیت زخمی، لشکرِ ثاراللہ نے ذمہ داری قبول کر لی

کراچی (ڈیلی اردو) پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں نامعلوم مسلح افراد نے معروف صحافی امتیاز میر پر قاتلانہ حملہ کیا جس کے نتیجے میں وہ اپنے بھائی محمد صالح سمیت زخمی ہوگئے۔

 

پولیس کے مطابق واقعہ گذشتہ شب ملیر کالا بورڈ کے قریب پیش آیا، جب امتیاز میر اپنے گھر کی جانب جا رہے تھے۔ اسی دوران موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ اس وقت گاڑی ان کے بھائی محمد صالح چلا رہے تھے۔

 

پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے نتیجے میں امتیاز میر کو تین جبکہ محمد صالح کو ایک گولی لگی۔ دونوں کو فوری طور پر قریبی نجی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی طور پر امتیاز میر کو وینٹی لیٹر پر رکھا گیا۔

 

 تاہم ڈی آئی جی کراچی فرخ لنجار کے مطابق اب ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ انہوں نے ہسپتال میں زخمی صحافی سے ملاقات بھی کی اور بتایا کہ جائے وقوعہ سے سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی گئی ہے، جس کی مدد سے پولیس ملزمان تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔

 

صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ حکومت صحافیوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے اور جلد ملزمان کو گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

 

امتیاز میر ایک دہائی سے صحافت کے شعبے سے وابستہ ہیں اور سندھی چینل "آواز" اور اردو چینل "میٹرو" پر حالات حاضرہ کے پروگرام بھی کر چکے ہیں۔ وہ ان صحافیوں میں شامل تھے جنھوں نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا۔ تاہم ڈی آئی جی فرخ رضا کا کہنا ہے کہ اس حملے کا اس دورے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

 

ادھر ایک غیر معروف "الحسینی ریزسٹنس" کی ذیلی تنظیم "لشکرِ ثاراللہ" نے اسرائیل کے حامی صحافی امتیاز میر پر فائرنگ کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

 

ادھر "الحسینی ریزسٹنس" کی ذیلی تنظیم "لشکرِ ثاراللہ" نے اسرائیل کے حامی صحافی امتیاز میر پر فائرنگ کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ تنظیم نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہے: “پاکستان میں صیہونی اثر و رسوخ کی کوئی جگہ نہیں۔ ان کے کسی بھی ایجنٹ یا سرگرمی کا مقابلہ کیا جائے گا اور اسے ختم کر دیا جائے گا۔ امتیاز میر کو صحافی کے طور پر پیش کیا گیا، مگر درحقیقت وہ صیہونی رژیم کے حامی، ان کے فنڈ سے چلنے والے اور ادارہ 'شرکہ' کے ملازم تھے۔ ان کا کام عوام کو گمراہ کرنا، ان کا ایجنڈا پھیلانا اور ہماری قوم کے حوصلے کو توڑنا تھا۔ ہم صیہونی رژیم کے کسی بھی ایجنٹ کو پاکستان میں آزادانہ کام کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ یہ ہماری سرزمین ہے اور ہم اس کا دفاع کریں گے۔ یہ امتیاز میر کے لیے آخری انتباہ ہے۔”

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C