کیچ اور ہوشاب میں آپریشنز: بلوچ نیشنلسٹ آرمی کے اہم کمانڈروں سمیت 13 دہشت گرد ہلاک
👁️ 28 بار دیکھا گیا
کیچ اور ہوشاب میں آپریشنز: بلوچ نیشنلسٹ آرمی کے اہم کمانڈروں سمیت 13 دہشت گرد ہلاک
اسلام آباد (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے) پاکستانی جنوب مغربی صوبہ بلوچستان کے بلوچ اکثریتی علاقے ہوشاب اور ملحقہ علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے ایک تازہ آپریشن میں 13 عسکریت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔
تازہ ترین آپریشن میں ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں کا تعلق بلوچستان کی آزادی کے لیے برسر پیکار کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیموں سے بتایا گیا ہے ۔ مذکورہ تنظیموں نے حال ہی میں شورش زدہ ضلع پنجگور اور نوشکی میں فرنٹیئر کور کے ہیڈ کوارٹرز پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
حکام نے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد میں کالعدم تنظیم کا ایک اہم کمانڈرماسٹر آصف عرف مکیش بھی شامل ہے جو کہ تنظیم کے اپریشنل ونگ کے سربراہی کررہے تھے۔ تربت میں تعینات ایک سینیئر سکیورٹی اہلکار، شعیب نذیر کہتے ہیں، ”بلوچستان کی بدآمنی میں ملوث عسکریت پسند گروپوں کے خلاف بڑے پیمانے پر جاری یہ کارروائی نیشنل ایکشن پلان کا حصہ ہے۔‘‘
ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا، ”بلوچستان کے تمام شورش زدہ علاقوں میں اس وقت انٹیلی جنس اطلاعات پر یہ آپریشن کیے جا رہے ہیں۔ آپریشن میں انسداد دہشت گردی یونٹ کے اہلکار بھی حصہ لے رہے ہیں۔ ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث گروپوں کے حملوں میں رواں سال کے آغاز سے ہی غیرمعمولی تیزی آئی تھی۔ قیام آمن کو یقینی بنانے کے لیے ہرممکن اقدامات کیے جار ہے ہیں۔‘‘
شعیب نذیر کا کہنا تھا کہ عسکریت پسند شہری علاقوں میں روپوش ہیں اور مقامی لوگوں کے بھیس میں حملے کرکے فرارہو جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا، ”بلوچستان میں دہشت گردی میں ملوث گروپوں کے خلاف حالیہ کارروائی کے موثر نتائج سامنے آرہے ہیں۔ اب تک جو عسکریت پسند جھڑپوں میں ہلاک ہوئے ہیں ان میں حال ہی میں منظر عام پر آنے والی حکومت مخالف مسلح تنظیم بلوچ نیشنلسٹ آرمی (بی این آے) کے اہم کمانڈرز، نور سلام، زبیر اکرم بلوچ، کمبر بلوچ عرف طارق، نوربخش اور رسول جان عرف چراغ بھی شامل ہیں۔‘‘ خصوصی آپریشن کے دوران بڑے پیمانے پر جدید اور خودکار اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔
دوسری طرف ضلع ژوب کے علاقے شبوزئی میں بھی ایک کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے 4 ملزمان کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔ اس واقعے کے خلاف ہلاک شدگان کے لواحقین نے بدھ 23 فروری کوکوئٹہ ژوب قومی شاہراہ کو احتجاج کے طور پر بلاک کیا۔
مظاہرین نے لاشیں سڑکوں پر رکھ کر حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور دعویٰ کیا کہ فورسز نے بے گناہ نوجوانوں کو بلاوجہ فائرنگ کرکے قتل کیا ہے۔ ژوب میں پیش آنے والے اس واقعے کے خلاف پشتون تحفظ موومنٹ، پی ٹی ایم کے کارکنوں نے بھی احتجاج کیا اور ریاستی اداروں پر شدید تنقید کی۔ ژؤب میں مقیم قبائلی رہنما، آمیرجان مندوخیل کہتے ہیں کہ ریاستی ادارے اپنے غیرآئینی اقدامات کی وجہ سے عوام میں اپنا اعتماد کھو رہے ہیں۔
ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”کلی شبوزئی میں ہونے والی فورسز کی کارروائی کے دوران چادر اورچاردیواری پامال کی گئی۔ یہ واقعہ ریاستی ظلم کی ایک منفرد داستان ہے ۔ جن چارنوجوانوں کوقتل کیا گیا ہے وہ طالبعلم تھے۔ کیا کوئی سرکاری ادارہ اپنے شہریوں پر اس طرح ظلم کرسکتا ہے۔ اس واقعے کے خلاف مظلوم خاندان نے دن بھر احتجاج کیا مگر ان کی کسی نے داد رسی نہ کی۔‘‘
امیرجان کا کہنا تھا کہ قانون کے محافظ اگر اختیارات سے اسی طرح تجاوز کرتے رہے تو ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان دوریاں مزید بڑھ سکتی ہیں ان کے بقول، ”حکومت اگر واقعی یہاں امن کو یقینی بنانا چاہتی ہے تو پہلے خود اپنے لیے آئینی حدود کا تعین کرے۔ جو اہلکار بے گناہ شہریوں کے خون سے کھیل رہے ہیں انہیں تحفظ فراہم کرنے کی بجائے گرفتار کرکے واقعی سزا دی جائے۔‘‘
ژوب میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے بعد حکومت نے متعلقہ حکام کو واقعے کی تحقیقات کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ صوبائی وزیراعلیٰ قدوس بزنجو نے کمشنر ژوب ڈویژن کو اڑتالیس گھنٹوں میں مذکورہ واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ عسکریت پسندوں کے خلاف جاری آپریشن کے دوران ضلع کوہلو کےعلاقےمیں گزشتہ روزفائرنگ کے تبادلےمیں کیپٹن حیدرعباس بھی ہلاک ہوئے تھے۔ حیدرعباس کا تعلق پاکستانی فوج کے اسپیشل سروسز گروپ (ایس ایس جی) سے تھا۔
پاکستان میں دفاعی امور کے سینیئر تجزیہ کار ، میجر ریٹائرڈ عمر فاروق کہتے ہیں کہ بلوچستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کا تعلق خطے کے بدلتے ہوئے جغرافیائی حالات سے ہے۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”دیکھیں بلوچستان کی اسٹریٹیجک اہمیت کئی حوالوں سے بہت اہم ہے۔ یہاں بدامنی پھیلا کرپاکستان مخالف قوتیں اپنے مقاصد میں کامیاب ہونا چاہتی ہیں۔ شدت پسند اور بلوچ عسکریت پسند گروپوں کو ایک منظم پلان کے تحت متحرک بنایا گیا ہے۔ یہاں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں۔ آزادی پسند مسلح تنظیمیں یہ نہیں چاہتیں کہ یہاں غیرملکی سرمایہ کاری بڑھے۔ حکومتی سطح پر بھی کئی ایسی خامیاں ہیں جنہیں اس ضمن میں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ قیام آمن کے لیے ضروری ہے کہ یہاں کی قیادت کو بھی اعتماد میں لیا جائے۔‘‘
عمر فاروق کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں حقوق کی جنگ میں عسکریت پسند بڑے پیمانے پر اپنے لوگوں کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا،”خطے کی مجموعی سلامتی کے معاملات میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس حوالے سے حکومت نے جو پالیسی مرتب کی ہے اس کا از سرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ اگر دہشت گردی کی یہی لہرجاری رہی توصوبے میں غیرملکی سرمایہ کاری پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں ۔‘‘
رواں ماہ 16 فروری کو ایرانی سرحد سے ملحقہ بلوچ علاقے بلیدہ میں بھی آپریشن کے دوران 6 عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ، آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک ہونے والے عسکریت پسند کیچ کے علاقے میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں ملوث تھے۔
دوسری جانب کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی، بلوچ لبریشن فرنٹ اور بلوچ نیشنلسٹ آرمی نے مختلف علاقوں میں فوجی چوکیوں اور دیگر اہداف پر حملوں کے دعوے کیے ہیں۔ عسکریت پسند تنظیموں نے دعویٰ کیا ہے کہ فوجی تنصیبات پر تازہ حملوں میں کئی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
بلوچستان میں فائرنگ، حملے اور دھماکہ، معروف تاجر سمیت 3 افراد ہلاک
28/June/2026 👁️ 67 بار دیکھا گیا
آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار، امریکہ کے ایران پر دوسرے روز بھی فضائی حملے
28/June/2026 👁️ 48 بار دیکھا گیا
کراچی میں رینجرز کمپاؤنڈ پر خودکش حملہ، 10 افراد ہلاک، متعدد زخمی
28/June/2026 👁️ 79 بار دیکھا گیا
بحرین پر ایرانی حملے: خلیجی ریاستوں کا سخت ردعمل
28/June/2026 👁️ 62 بار دیکھا گیا
بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے آپریشنز، آٹھ دہشت گرد ہلاک
28/June/2026 👁️ 44 بار دیکھا گیا
امریکہ کا ایران کو دوٹوک پیغام: ”تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا“
28/June/2026 👁️ 48 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8863 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4639 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3313 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2483 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2242 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1929 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C