23/March/2020

23 مارچ (راٶ محمد نعمان)

👁️ 214 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
23 مارچ    (راٶ محمد نعمان)

23 مارچ (راٶ محمد نعمان)

ویسے تو 23 مارچ کو دنیا کی تاریخ میں بہت سے اہم واقعات ہوئے مگر ہم صرف 23 مارچ 1940 میں ہی دلچسپی رکھتے ہیں۔ 23 مارچ 1940 کے ذکر سے قبل دنیا کے چند اہم واقعات کا ذکر کرتے جو 23 مارچ کو ہی وقوع پذیر ہوئے جیسے 23 مارچ 1839 کو امریکی اخبار بوسٹن مورننگ پوسٹ (Boston Morning Post) نے سب سے پہلے لفظ اوکے استعمال کیا “جو سب ٹھیک ہے” یعنی “All Correct” کا مختصر ترین استعمال تھا اب اوکے دنیا بھر میں کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔
اسی طرح 23 مارچ 1896 کو امریکی ریاست نیویارک میں جون رینس (John Raines) کا پیش کردہ رینس قانون (Raines ) منظور ہوا۔ جس کا مقصد قواعد و ضوابط نافذ کر کے شراب کے استعمال کو روکنا تھا۔ اس قانون کی دیگر دفعات کے علاوہ اس سے نیویارک کی اکثریتی آبادی مسیحیوں کے مقدس دن اتوار کے روز شراب کی فروخت پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔

23 مارچ 1840 کو برطانوی نژاد امریکی جون ولیم ڈراپر (John William Draper) نے چاند کی پہلی تصویر لی جو اب تک محفوظ شدہ تصاویر میں سب سے پرانی ہے۔ 23 مارچ 1970، 23 مارچ 1973، 23 مارچ 1978 اور 23 مارچ 1985 کو امریکہ جبکہ 1971 میں روس اور 1980 میں فرانس نے بھی 23 مارچ کو ہی جوہری تجربات (ایٹمی دھماکے) کیے۔

اسی طرح 23 مارچ 1919 کو اٹلی کے سابق وزیر اعظم بینیتو موسولینی نے حصول اقتدار کی کامیاب تحریک کا آغاز کیا۔ 23 مارچ 1919 کو ہی روس کی کمیونسٹ پارٹی نے ولادیمیر لینن اور جوزف سٹالن سمیت پانچ ممبران پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جو تمام اختیارات کا مرکز بنی اور اس نے سوویت یونین کی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا۔ 23 مارچ 1933 کو ایڈلف ہٹلر کو لامحدود اختیارات حاصل ہوئے۔

23 مارچ 1931 کو لاہور میں برطانوی راج کے باغی بھگت سنگھ کو ان کے ساتھیوں شیو رام راجگرو اور سکھدیو تھاپڑ کے ساتھ پھانسی دی گئی۔ پھانسی کے وقت بھگت سنگھ اور سکھدیو کی عمر 23 سال تھی جبکہ راجگرو کی عمر 22 سال تھی۔ پھانسی کے بعد ان کی لاشوں کے ٹکڑے کیے گئے اور ان ٹکڑوں کو فیروز پور کے قریب دریائے ستلج کے کنارے لیجا کر آگ لگا دی گئی۔

پاکستان کی تاریخ کی جانب آئیں تو ہم زیادہ تر 23 مارچ کا ذکر ہوتے ہی آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس 1940 کی قرارداد لاہور (جو بعد میں قرارداد پاکستان کہلائی) کا سوچ لیتے ہیں جبکہ یوم جمہوریہ 23 مارچ 1956 کا کم از کم موجودہ نسل کو بلکل بھی نہیں پتا۔ 23 مارچ 1956 کو پاکستان کا پہلا دستور نافذ ہوا جس کے نفاذ سے ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہو گیا اور ملک سے تاج برطانیہ کی بادشاہت کا خاتمہ ہوا۔ منتخب صدر ریاست کا سربراہ بن گیا۔ جبکہ اس سے قبل گورنر جنرل آف پاکستان تاج برطانیہ کے نمائندے کی حیثیت سے ملک کا اعلیٰ ترین عہدہ تھا۔ گورنر جنرل 15 اگست 1947ء سے 6 فروری 1952 تک برطانوی بادشاہ جارج ششم اور 6 فروری 1952 سے 23 مارچ 195 تک ملکہ ایلزبتھ دوم کا نمائندہ ہوتا تھا۔ 1956 میں آئین کی تکمیل کے ساتھ ہی گورنر جنرل کا عہدہ ختم ہو گیا اور ہمیں تاج برطانیہ سے آزادی نصیب ہوئی۔ بیشک اس وقت کئی مشکلات درپیش ہوئی بہت سے معاملات میں سمجھوتے بھی کئے گئے پھر بھی اس عمل کیلئے اس وقت کے وزیراعظم چوہدری محمد علی صاحب اور ان کے ساتھیوں کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔

23 مارچ 1956 کو دستور کے نافذ العمل ہونے کے بعد گورنر جنرل اسکندر مرزا ہی پاکستان کے پہلے صدر بنے۔ جنہوں نے ہی تاج برطانیہ سے آزادی کے مرتکب وزیراعظم چوہدری محمد علی صاحب کو اس واقع کے چھ ماہ کے اندر ہی حکومت سے علیحدہ کر دیا اور 12ستمبر 1956 کو انہیں استعفیٰ دینے پر مجبور کر کے حسین شہید سہروردی صاحب کو وزیر اعظم پاکستان بنایا گیا۔ تیرہ ماہ بعد یہ بھی نا قابل برداشت ہوئے تو 17 اکتوبر 1957 کو انہیں فارغ کر کے ابراہیم اسماعیل چندریگر صاحب کو وزیر اعظم پاکستان بنایا گیا جو دو مہینے بھی برداشت نہ ہوئے تو 16 دسمبر 1957 کو انہیں بھی گھر بھیج کر فیروز خان نون صاحب کو منصب عطا کیا گیا جو اگلے دس ماہ تک وزیر اعظم پاکستان رہے۔ اس کے بعد وزیر اعظم کا عہدہ ختم ہو گیا کیونکہ تاج برطانیہ کے سابق ملازم اور اس وقت صدر پاکستان اسکندر مرزا نے 7 اکتوبر 1958 کو اپنے اختیارات کو خطرے میں دیکھ کر پاکستان کا پہلا دستور منسوخ کر دیا اور ملک میں مارشل لگاتے ہوئے ایک نیا دستور بنانے کا اعلان کیا۔

افسوس کہ ملک کا یہ پہلا آئین صرف اکتیس مہینے ہی چل سکا ۔ اس دوران صدر اسکندر مرزا نے چار وزرائے اعظم کو برطرف کیا۔ دستور منسوخی کے محض بیس دن بعد ہی 27 اکتوبر 1958 کو تاج برطانیہ ہی کہ ایک اور سابق نوکر اور پاکستان کے آرمی چیف جنرل ایوب خان نے اسکندر مرزا کو بھی نکال باہر کیا اور اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ اس طرح اسکندر مرزا اور ایوب خان نے تاج برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے والوں سے بدلہ لیا اور تاریخ سے ان کا نام گمنام کر دیا۔

ایوب خان اپنی کتاب ”فرینڈز ناٹ ماسٹرز“ میں لکھا کہ ”چوہدری محمد علی نے جیسے تیسے آئین تیار کرلیا جو 23 مارچ 1956 کو نافذ کیا گیا۔ یہ بڑی مایوس کن دستاویز تھی۔ وزیرِ اعظم، جو اس امر کے سخت متمنی تھے کہ انہیں تاریخ میں آئین کے مصنف کی حیثیت سے یاد رکھا جائے۔ انہوں نے اپنی کوشش کو کامیاب بنانے کے لیے ہر قسم کے نظریات کو اس آئین میں سمو لیا تھا۔ آئین کیا تھا، بس چوں چوں کا مربہ تھا۔“ کیونکہ 23 مارچ 1957 اور 1958 کو پاکستان کا یوم جمہویہ بڑی دھوم دھام سے منایا گیا تھا۔

23 مارچ 1957 کو یوم جمہوریہ پر ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی جاری ہوا تھا۔ اب 23 مارچ 1959 آنے والا تھا اور گزشتہ دو سال کو جس آئین کے نفاذ کا جشن منایا گیا اب اس آئین کو ہی اٹھا کر پھینک دیا گیا تھا اس لیے 23 مارچ کی تاریخ کو کسی تاریخی واقعہ سے جوڑنا ضروری تھا اس مقصد کیلئے تلاش شروع کی گئی تو تلاش 1940 کے آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس پر جا کر اختتام پذیر ہوئی کہا گیا کہ 23 مارچ 1940 کو منظور ہونے والی قرارداد کی وجہ سے اس روز یوم پاکستان منایا جائے گا جبکہ حقیقت میں اس روز کوئی قرارداد منظور نہیں ہوئی، پیش ضرور ہوئی جو 24 مارچ کو منظور ہوئی اس لیے اس قرارداد کی اگر کوئی یاد منانی تھی تو 24 مارچ کو منائی جانی چاہیے تھی مگر گزشتہ دو سال سے ہونے والے جشن کو جاری رکھنے کیلئے 23 مارچ 1959 سے یوم جمہوریہ کو یوم پاکستان بنا کر منانا شروع کر دیا جو ابتک جاری ہے۔

ذرا مارچ 1940 کا بھی ذکر کر لیں جب مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی کا سالانہ اجلاس 22 سے 24 مارچ 1940 کو منٹو پارک لاہور میں ہوا جس کے پہلے دن وزیر اعلٰی بنگال اے کے فضل حق (جو مولوی فضل حق کے نام سے شہرت رکھتے تھے بعد میں ان کیلئے شیر بنگال کا نام بھی استعمال ہوا ان کا اصلی نام ابو القاسم فضل الحق تھا) نے شرکت ہی نہیں کی تھی کیونکہ تین دن قبل لاہور میں خاکسار تحریک کے سینکڑوں کارکنان کو انگریر افسران کیجانب سے شہید کیا گیا تھا جس کے باعث لاہور کے حالات کشیدہ تھے اس لیے کئی لوگ اس دن غیر حاضر رہے۔

23 مارچ کو مولوی فضل حق صاحب نے قرارداد اوپن سیشن میں پیش کی جس کو 24 مارچ 1940 کو منظور کیا گیا تھا۔ جب قرارداد 24 مارچ کو منظور ہوئی تو 23 مارچ کو قرار داد کی منظوری کا دن کیسے ہوگیا؟ 23 مارچ یوم جمہوریہ یا یوم پاکستان 1940 کی جائے 1956 ہی کا تھا مگر بدقسمتی کسے ہماری تاریخ قلم کے بجائے بندوق کی نوک سے تحریر ہوئی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C