10/February/2026

51 نمازیوں کے مجرم کی نئی چال، اعترافِ جرم واپس لینے کی اپیل دائر

👁️ 212 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
51 نمازیوں کے مجرم کی نئی چال، اعترافِ جرم واپس لینے کی اپیل دائر

51 نمازیوں کے مجرم کی نئی چال، اعترافِ جرم واپس لینے کی اپیل دائر

کرائسٹ چرچ (ڈیلی اردو)2019  میں نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر حملہ کر کے 51 افراد کو قتل کرنے کے الزام میں عمر قید کی سزا پانے والے والا سفید فام نسل پرست شخص نے اپنا اعتراف جرم واپس لینے کے لیے عدالت میں پیش ہوئے۔

 

آسٹریلوی شہری برینٹن ٹارنٹ نے مارچ 2019 میں کرائسٹ چرچ میں نماز جمعہ کے دوران نمازیوں پر حملے میں 51 افراد کو ہلاک  کرنے اور مزید 40 کو قتل کرنے کی کوشش کا اعتراف کیا تھا جس کے بعد انھیں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ سزا کے دوران انھیں معافی کا حق بھی نہیں مل پائے گا۔ 

 

جج کی جانب سے ان کے عمل کو ’غیر انسانی‘ قرار دیا گیا اور انھوں نے کہا کہ میں نے اس معاملے میں ’کوئی رعایت نہیں برتی۔‘

 

ابتدائی طور پر ٹارنٹ نے خود پر لگے الزامات سے انکار کیا لیکن حملے کے ایک سال بعد ٹارنٹ نے اپنی درخواست بدل دی۔

 

35 سالہ مجرم جس نے دہشت گردی کے ایک جرم کا بھی اعتراف بھی کیا تھا نے اب ایک اپیل دائر کی ہے۔ ٹارنٹ نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ وہ جیل میں ’تشدد اور غیر انسانی‘ حالات کی وجہ سے اس وقت سوچ سمجھ کر فیصلے لینے کے قابل نہیں تھے۔

 

برینٹن ٹارنٹ اپنی سزا کے خلاف اپیل بھی کرنا چاہتے ہیں۔ ویلنگٹن میں نیوزی لینڈ کی کورٹ آف اپیل میں سماعت پورے ہفتے جاری رہنے کا امکان ہے جس کے دوران توقع ہے کہ ٹارنٹ ویڈیو لنک کے ذریعے ثبوت فراہم کریں گے۔

 

النور مسجد اور لنوڈ اسلامک سنٹر میں قتل عام کے کچھ حصے براہ راست نشر کیے گئے تھے۔ اس سانحے کی وجہ سے نیوزی لینڈ اسلحے سے متعلق قوانین میں ترمیم لانے پر بھی مجبور ہوا تھا۔

 

اس واقعے کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے کے بعد حکومت نے قانون میں ترمیم لاتے ہوئے ہر قسم کے نیم خود کار ہتھیاروں، خود کار رائفلز اور زیادہ گنجائش والے میگزینز پر پابندی عائد کر دی تھی۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C