سرینگر شارجہ پروازیں: پاکستان کا فضائی حدود کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار
👁️ 32 بار دیکھا گیا
سرینگر شارجہ پروازیں: پاکستان کا فضائی حدود کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار
سرینگر (ڈیلی اردو/وی او اے) ایک بھارتی نجی ہوائی کمپنی نے کہا ہے کہ پاکستان نے سرینگر اور شارجہ کے درمیان براہِ راست مسافر پروازوں کے لئے اس کی فضائی حدود کو استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ چنانچہ اب ان پروازوں کو سفر طے کرنے میں ڈیڑھ گھنٹے کا اضافی وقت لگے گا اور امکان یہ ہے کہ سفر کا کرایہ بھی بڑھے گا۔
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت سرینگر اور شارجہ کے درمیان براہِ راست پرواز کا بھارت کے وزیرِ داخلہ امیت شاہ نے علاقے کے اپنے حالیہ دورے کے دوران 23 اکتوبر کو افتتاح کیا تھا۔
انہوں نے اس موقع پر کہا تھا کہ سرینگر اور متحدہ عرب امارات کے درمیان فضائی رابطہ جموں و کشمیر میں سیاحت کو فروغ دینے اور علاقے میں مزید بیرونی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنے میں مدد دے گا۔
‘گو فرسٹ’ ایئرویز کے عہدیداروں نے بتایا کہ پاکستان کے انکار کے بعد یہ پرواز اب بھارتی شہروں ادھے پور اور احمد آباد سے ہوتی ہوئی،عُمان کی فضائی حدود سے گزرنے کے بعد ہی شارجہ پہنچے گی اور واپسی کے سفر کے لئے بھی یہی راستہ اختیار کیا جائے گا اور اس طرح پرواز کی تکمیل کے مجموعی وقت میں کم سے کم ڈیڑھ گھنٹے کا اضافہ ہو گا۔
“گو فرسٹ” نے بُدھ کو یہ اعلان کیا کہ وہ مجبوراً سرینگر اور شارجہ کے درمیان فلائٹ کے لئے لمبا راستہ اختیار کررہی ہے۔ کل منگل سے ‘گو فرسٹ’ نے اس فلائٹ کے لئے راستہ بدل دیا ہے کیونکہ پاکستان نے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے منع دیا ہے۔
عہدیداروں نے کہا کہ اسلام آباد میں حکام نے اس فلائٹ کے لئے پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس نئی صورتِ حال سے نئی دہلی میں امور خارجہ، داخلہ اور ہوا بازی کی وزارتوں کو مطلع کر دیا گیا ہے اور وہ اس معاملے کا جائزہ لے رہی ہیں۔
تاہم پاکستان نے تاحال اس پر کوئی ردِ عمل ظاہر کیا ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی سرکاری بیان جاری کیا ہے۔
اسلام آباد میں وائس آف امریکہ کے نمائندے نے اس سلسلے میں ترجمان سول ایوی ایشن اتھارٹی سیف اللہ سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس بارے میں پاکستان کا موقف اعلیٰ حکام کی طرف سے موصول ہونے کے بعد جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے اس ضمن میں کسی بھی سوال کا جواب دینے سے معذرت کر لی۔
گزشتہ ماہ کی 23 تاریخ کو افتتاحی پرواز کے بعد سرینگر اور شارجہ کے درمیان 24، 26 اور 28 اکتوبر کو بھی سرینگر اور شارجہ کے درمیان براہِ راست پروازیں پاکستانی فضائی حدود کے راستے چلائی گئی تھیں۔
دبئی۔ سرینگر فلائٹ بھی اسی مسئلے کا شکار ہوئی تھی
اس سے پہلے فروری 2009 میں سرینگر اور دبئی کے درمیان براہِ راست ہوائی پروازوں کا آغاز ہوا تھا، جس سے وادی کشمیر میں جاری شورش کے نتیجے میں متاثرہ سیاحت کے شعبے سے وابستہ افراد اور دوسرے اسٹیک ہولڈرز کو امید کی ایک نئی کرن نظر آئی تھی اور خلیجی ممالک میں کام کرنے والے کشمیریوں نے اس پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا تھا۔
14 فروری 2009 کو کانگریس پارٹی کی رہنما سونیا گاندھی، جموں و کشمیر کے اُس وقت کے وزیرِ اعلیٰ عمر عبد اللہ اور دوسری اہم بھارتی اور مقامی شخصیات نے سرینگر کے جدید ہوائی اڈے پر منعقدہ ایک بڑی تقریب میں افتتاحی فلائٹ کے ذریعے دبئی سے سرینگر پہنچنے والے مسافروں کا استقبال کیا تھا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے کہا تھا، ” کشمیر میں امن لوٹ رہا ہے اور اب جب کہ سرینگر بین الاقوامی ہوا بازی کے نقشے میں جگہ حاصل کرچکا ہے، اس خطے کی معیشت کا ترقی کے منازل طے کرنا طے ہے”۔
ایئر انڈیا ایکسپریس نے اس روٹ کے لئے ایک نئے طیارے کو اپنی فلیٹ میں شامل کر لیا تھا۔ لیکن چند ہفتے بعد ہی سرینگر۔ دبئی ہوائی سروس روک دی گئی۔ شروع میں یہ خبریں آئی تھیں کہ کیونکہ یہ سروس ایئر انڈیا ایکسپریس کے لئے منافع بخش ثابت نہیں ہوئی ہے، اس لئے اسے براہِ راست کی بجائے امرتسر یا دہلی کے راستے چلایا جا رہا ہے لیکن بعد میں وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے یہ انکشاف کیا تھا کہ انہیں بھارت کے وزیر ہوا بازی نے مطلع کیا ہے کہ پاکستان نے سرینگر دبئی فلائٹ کے لئے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی ممانعت کر دی ہے۔
23 اکتوبر کو سرینگر۔ شارجہ فلائٹ کا افتتاح کیا گیا تو عمر عبداللہ نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا “یہ اچھا لگ رہا ہے کہ فضائی حدود کو استعمال کرنے سے انکار اب ایک قصہء پارینہ ہے”۔
انہوں نے مزید کہا تھا، “آج سرینگر۔شارجہ فلائٹ کا جو اعلان ہوا ہے اس بارے میں کیا پاکستان کے دل میں تبدیلی آ گئی ہے اور اس نے سرینگر سے شروع ہونے والی پر وازوں کو اپنی ایئر اسپیس استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ اگر نہیں تو اس فلائٹ کا وہی حشر ہو گا جو (نئی دہلی میں برسر اقتدار) یو پی اے 2 (متحدہ ترقی پسند اتحاد) کے دوران سرینگر۔ دبئی فلائٹ کا ہوا تھا”۔
Regarding the Srinagar-Sharjah flight that has been announced today – has Pakistan had a change of heart & allowed flights originating from Srinagar to use its airspace? If not then this flight will die the way the Srinagar-Dubai flight died during UPA2.
— Omar Abdullah (@OmarAbdullah) October 23, 2021
انہوں نے اپنی ایک اور ٹویٹ میں کہا تھا “پاکستان کی طرف سے اس کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کے بعد سرینگر۔ دبئی فلائٹ کو دہلی میں تیکنیکی وقفے کے لئے رکنا پڑتا تھا اور پھر جنوب کی طرف جا کر پاکستان کی فضائی حدود کے نزدیک سے ہوتے ہوئے آگے پرواز کرنا پڑتی تھی۔ اس سے یہ فلائٹ خرچے اور وقت دونوں حساب سے مکمل طور پر ناقابل عمل بن کر رہ گئی”۔
عمر عبد اللہ کو رشتوں میں نرمی کی امید نظر آئی تھی
عمر عبداللہ نے جو بھارت کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور رہ چکے ہیں اور اس وقت نیشنل کانفرنس پارٹی کے نائب صدر ہیں، بدھ کو اس سلسلے میں ایک بار پھر سماجی رابطے کی سائٹ ٹویٹر کا کا رخ کیا اور کہا ” بڑی بدقسمتی۔ پاکستان نے 2009-2010 میں سرینگر سے دبئی کے درمیان چلنے والی ایئر انڈیا ایکسپریس فلائٹ کے ساتھ بھی یہی کچھ کیا تھا۔ مجھے یہ امید تھی کہ گو فرسٹ ایئرویز کو پاکستان کی فضا سے پرواز کرنے کی اجازت دی گئی ہے جو رشتوں میں پگھلاہٹ کی عکاسی کرتی ہے لیکن افسوس ایسا نہیں تھا”۔
Very unfortunate. Pakistan did the same thing with the Air India Express flight from Srinagar to Dubai in 2009-2010. I had hoped that @GoFirstairways being permitted to overfly Pak airspace was indicative of a thaw in relations but alas that wasn’t to be. https://t.co/WhXzLbftxf
— Omar Abdullah (@OmarAbdullah) November 3, 2021
تاہم بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی ایک اور سابق وزیرِ اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے بھارتی حکومت کو اس بات پر آڑے ہاتھوں لیا کہ اُن کے بقول اس نے بظاہر پاکستان کو اعتماد میں لئے بغیر سرینگر اور شارجہ کے درمیان براہِ راست مسافر پروازں کا آغاز کیا۔ انہوں نے ٹویٹ میں کہا “یہ حیران کُن ہےکہ حکومتِ بھارت نے سرینگر سے بین الاقوامی پروازوں کے لئے پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت حاصل کرنا بھی گوارا نہیں کیا۔ کسی بنیادی کام کے بغیر صرف تشہیرات کے لئے نظر فریب نمائش”۔
Puzzling that GOI didn’t even bother securing permission from Pakistan to use its airspace for international flights from Srinagar. Only PR extravaganza without any groundwork. https://t.co/3Cbj91C6Pb
— Mehbooba Mufti (@MehboobaMufti) November 3, 2021
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
لبنان کی فوجی قیادت کی سینٹکام کمانڈر سے ملاقات، اسرائیل معاہدے کے نفاذ پر گفتگو
30/June/2026 👁️ 3 بار دیکھا گیا
باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، اہم کمانڈر سمیت چار دہشت گرد ہلاک
30/June/2026 👁️ 8 بار دیکھا گیا
افغانستان: پاکستانی فضائی حملوں میں 36 افغان شہری ہلاک، طالبان کا دعویٰ
30/June/2026 👁️ 6 بار دیکھا گیا
عراق کا ایران نواز ملیشیاؤں کو آخری الٹی میٹم
30/June/2026 👁️ 9 بار دیکھا گیا
پاکستان کا افغانستان میں بڑا فوجی آپریشن، 29 جنگجو ہلاک
29/June/2026 👁️ 188 بار دیکھا گیا
عباس عراقچی کی بغداد میں عراقی وزیرِاعظم سمیت اعلیٰ قیادت سے اہم ملاقاتیں
29/June/2026 👁️ 123 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8869 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4645 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3484 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2486 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2244 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1932 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C