03/March/2026

آرمی پبلک اسکول حملہ کیس: عدالت نے دو اہم ملزمان بری کر دیے

👁️ 239 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
آرمی پبلک اسکول حملہ کیس: عدالت نے دو اہم ملزمان بری کر دیے

آرمی پبلک اسکول حملہ کیس: عدالت نے دو اہم ملزمان بری کر دیے

پشاور (ڈیلی اردو رپورٹ) انسداد دہشت گردی عدالت پشاور نے آرمی پبلک اسکول حملہ کیس میں نامزد ملزمان کی ضمانت درخواست پر سماعت کرتے ہوئے دو ملزمان کو بری کر دیا۔

 

عدالت نے مقدمے میں نامزد ملزمان جان ولی عرف شینا اور شکیل کو عدم ثبوت کی بنیاد پر بری کرنے کا حکم دیا۔

 

سماعت کے دوران عدالت نے کیس میں نامزد 16 ملزمان کو مفرور قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف وارنٹِ گرفتاری جاری کر دیے۔

 

پراسیکیوشن کے مطابق اشتہاری قرار دیے گئے ملزمان میں منگل باغ، حاجی گل بہادر، کمانڈر عمر خالد خراسانی، کمانڈر حافظ سعید، کمانڈر اورنگزیب، کمانڈر فضل اللہ، حافظ دولت، قاری شکیل، قاری سیف اللہ، اسلام فاروقی، مولوی فقیر، اجنبی، انگارا اپاجی، ابوذر اور سرور شاہ سمیت دیگر شامل ہیں۔

 

پراسیکیوشن نے عدالت کو بتایا کہ 16 دسمبر 2014 کو دہشت گردوں نے پشاور میں واقع آرمی پبلک اسکول پر حملہ کیا تھا، جس میں 140 سے زائد بچے ہلاک جبکہ 200 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے تھے۔

 

عدالت نے شواہد کا جائزہ لینے کے بعد درخواست منظور کرتے ہوئے دو ملزمان کو مقدمے سے بری کرنے کا حکم جاری کیا، جبکہ مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے قانونی کارروائی تیز کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

 

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ آرمی پبلک اسکول حملہ پاکستان کی تاریخ کے مہلک ترین دہشت گرد حملوں میں شمار ہوتا ہے۔ پشاور کے وارسک روڈ پر قائم آرمی پبلک اسکول پر 16 دسمبر 2014 کو مسلح شدت پسندوں نے حملہ کر کے طلبہ، اساتذہ اور عملے کے ارکان کو نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں 147 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے تھے۔

 

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق حملہ آور گروپ 27 ارکان پر مشتمل تھا، جن میں سے نو مارے گئے جبکہ 12 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں پاکستانی حکام نے اس واقعے میں ملوث متعدد افراد کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلا کر سزائیں بھی سنائیں۔

 

تاہم ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین کا مؤقف مسلسل یہ رہا ہے کہ ان کے بچے ایک چھاؤنی میں قائم، فوج کے زیرِ انتظام اسکول میں تعلیم حاصل کر رہے تھے، وہ کسی جنگی محاذ پر نہیں تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے اسکول انتظامیہ کو باقاعدگی سے فیس ادا کرتے تھے، اس کے باوجود یہ سانحہ کیسے پیش آیا، کس کی ایما پر ہوا اور کس کی غفلت یا لاپرواہی کا نتیجہ تھا؟

 

متاثرہ خاندانوں کا مطالبہ ہے کہ اس سلسلے میں واضح طور پر ذمہ داری کا تعین کیا جائے اور جن عناصر کی غفلت یا کوتاہی کے باعث یہ حملہ ممکن ہوا، انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C