09/June/2026

اسرائیل کے خلاف نیا محاذ کھل گیا، حوثیوں کا بحری ناکہ بندی کا اعلان

👁️ 250 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
اسرائیل کے خلاف نیا محاذ کھل گیا، حوثیوں کا بحری ناکہ بندی کا اعلان

اسرائیل کے خلاف نیا محاذ کھل گیا، حوثیوں کا بحری ناکہ بندی کا اعلان

صنعاء (ڈیلی اردو) یمن کی ایران نواز حوثی ملیشیا نے پیر کے روز اسرائیل پر متعدد میزائل داغنے کا دعویٰ کیا، اور کہا کہ یہ کئی ہفتوں کے بعد اسرائیل پر ان کا پہلا حملہ ہے۔

 

حوثی فوج کے ترجمان یحییٰ سریع نے مزید کہا کہ بحیرۂ احمر میں اسرائیل کے لیے جہازرانی پر ’’مکمل پابندی‘‘ عائد کر دی گئی ہے۔ ان کے بقول، اس علاقے میں  اسرائیل  سے وابستہ کسی بھی جہاز کو ’’فوجی ہدف‘‘ تصور کیا جائے گا۔

 

اس اعلان کے بعد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو دوبارہ خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، خاص طور پر وہ جہاز جو اسرائیلی بندرگاہوں کی طرف جا رہے ہوں یا جن کا کسی نہ کسی طرح اسرائیل سے تعلق ہو۔

 

یہ اپریل کے اوائل کے بعد  حوثیوں کا اسرائیل پر پہلا براہِ راست حملہ ہے۔ اسرائیلی فوج نے بھی پیر کی  صبح بتایا تھا کہ یمن سے اسرائیل کی جانب ایک میزائل داغا گیا، اور شہریوں کو حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کو کہا گیا ہے۔  

 

ایران جنگ کے دوران حوثیوں کی جانب سے ڈرونز، میزائلز اور کروز میزائلز کے ذریعے حملوں  کے دعوے کیے جاتے رہے ہیں۔

 

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب ایران نے اتوار کی شام کئی ماہ بعد پہلی بار اسرائیل پر حملے کیے، جس کے جواب میں اسرائیل نے ایران کے اندر اہداف کو نشانہ بنایا۔

 

دریں اثناء  ایران  کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’کوئی بھی یہ یقین نہیں کرتا کہ اسرائیلی حکومت امریکہ کی ہم آہنگی کے بغیر کوئی کارروائی کر سکتی ہے۔‘‘

 

 انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی جارحیت کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے، اور کشیدگی میں کسی بھی اضافے کے نتائج کی ذمہ داری بھی اسی پر ہوگی۔

 

دوسری جانب ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے اسرائیل کے دو فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔  ان حملوں کو آپریشن ’’نصر‘‘ (فتح) کا حصہ قرار دیا گیا۔ تنظیم کے مطابق یہ کارروائی اس کے بعد کی گئی جب اسرائیل نے ایران کے تین مختلف علاقوں میں ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

 

 تہران نے اتوار کے روز جوابی کارروائی کی دھمکی اس وقت دی تھی، جب اسرائیل نے چند روز قبل واشنگٹن کی درخواست کو نظرانداز کرتے ہوئے بیروت  کے جنوبی مضافات پر بغیر کسی پیشگی اطلاع کے حملہ کیا۔

 

اگرچہ 8 اپریل کو جنگ بندی معاہدہ طے پایا تھا، تاہم کشیدگی کے مکمل خاتمے کی کوششوں کو کئی چیلنجز درپیش ہیں، جن میں آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول اور اسرائیل و حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں شامل ہیں۔ 

 

عالمی توانائی کی فراہمی کو لاحق خطرات، ایران کے پاس افزودہ یورینیم کے بڑے ذخائر، اور یمن کے حوثی باغیوں کی لڑائی میں شمولیت کے باعث یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ یہ جنگ دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C