09/June/2026

اسرائیلی حملوں میں ایران کی اہم میزائل اور پیٹروکیمیکل تنصیبات تباہ

👁️ 313 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
اسرائیلی حملوں میں ایران کی اہم میزائل اور پیٹروکیمیکل تنصیبات تباہ

اسرائیلی حملوں میں ایران کی اہم میزائل اور پیٹروکیمیکل تنصیبات تباہ

تہران (ڈیلی اردو) ایرانی میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق اسرائیلی دفاعی افواج  نے ایران میں ماہشہر کے علاقے میں ایک پیٹروکیمیکل پلانٹ پر فضائی حملہ کیا۔ 

 

مقامی میڈیا کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلیگرام پر پوسٹ ہونے والے پیغام میں کہا گیا کہ اسرائیل نے کارون پیٹروکیمیکل پلانٹ کو نشانہ بنایا ہے۔

 

پیر کی صبح اسرائیل اور ایران کے درمیان جوابی حملوں کے تبادلے کے باعث خدشہ پیدا ہو گیا کہ مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں ایک بڑی علاقائی جنگ چھڑ سکتی ہے۔

 

اس حملے کے بعد متعلقہ اقتصادی زون سے دن کے وقت کام کرنے والے ملازمین کو نکال لیا گیا۔

 

کارون پیٹروکیمیکل پلانٹ سالانہ دو لاکھ ٹن سے زیادہ مصنوعات تیار کرتا ہے۔ اسے 2002-2003 میں ایران کے پہلی ’’نالج بیسڈ‘‘ یعنی ٹیکنالوجی اور مہارت پر مبنی کام کرنے والے پیٹروکیمیکل پلانٹ کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔

 

اس پلانٹ کے ویب سائٹ پر شائع کردہ اعداد و شمار کے مطابق، یہ ہر سال دو لاکھ ٹن سے زیادہ پیٹروکیمیکل مصنوعات تیار کرتا ہے۔

 

اس حملے سے چند گھنٹے پہلے  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل سے کہا تھا کہ وہ ایران کے میزائل  حملوں کے جواب میں مزید کارروائی سے گریز کرے۔

 

دریں اثناء ایران کے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے بیان کے مطابق اسرائیل نے اس حملے میں فضاء سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائل استعمال کیے۔

 

اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) کا کہنا ہے کہ ایرانی شہر ماہشہر میں ایک پیٹروکیمیکل تنصیب پر اس کے حملوں کا مقصد میزائلوں کی تیاری سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنا تھا۔

 

آئی ڈی ایف کا دعویٰ ہے کہ اس مقام کو ایرانی مسلح افواج ’ہتھیاروں کی تیاری کے لیے خام مال تیار اور برآمد کرنے‘ کے لیے استعمال کر رہی تھیں اور یہ مواد ’بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کے لیے اہم اجزا‘ کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

 

جنوب مغربی ایران میں واقع ماہشہر پر حملوں کی تصدیق آئی ڈی ایف اور ایرانی سرکاری میڈیا دونوں نے کی ہے۔ تاہم کسی بھی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ آیا اس میں کوئی جانی نقصان ہوا یا نہیں

 

 

ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کورپس نے تاہم فوری طور پر ان حملوں کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

 

دوسری جانب، سرکاری ٹیلی ویژن کی  رپورٹوں میں بتایا گیا کہ ایران کے شہر تہران، کرج، اصفہان اور تبریز سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔

 

اسرائیل نے پیر کی صبح تہران کی جانب سے میزائل فائر کیے جانے کے جواب میں ایران کے وسطی اور مغربی علاقوں پر حملے کیے، اور ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے متعدد حملے کیے۔ یہ 8 اپریل کے  جنگ  بندی معاہدے کے بعد سب سے شدید جھڑپ تھی۔

 

ادھر مرکزی اسرائیل میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ اسرائیلی فضائی دفاعی نظام آنے والے ایرانی حملوں  کو روکنے کی کوشش کرتا رہا۔ اس کے علاوہ پڑوسی ملک  اردن  میں بھی میزائل سائرن بجائے گئے۔

 

ایران نے خبردار کیا کہ اس کشیدگی میں کسی بھی اضافے کے  لیے امریکہ کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C