31/August/2025

اسلام آباد: 45 دن سے بلوچ مائیں سڑکوں پر، لاپتہ بچوں کی بازیابی کیلئے احتجاج، حکومت خاموش

👁️ 748 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
اسلام آباد: 45 دن سے بلوچ مائیں سڑکوں پر، لاپتہ بچوں کی بازیابی کیلئے احتجاج، حکومت خاموش

اسلام آباد: 45 دن سے بلوچ مائیں سڑکوں پر، لاپتہ بچوں کی بازیابی کیلئے احتجاج، حکومت خاموش

اسلام آباد (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے ) پنتالیس دن سے اپنے لاپتہ بیٹے کی بازیابی کے لیے احتجاج کرنے والی اسّی سالہ بلوچ خاتون اماں حوری کہتی ہیں کہ اپنے کسی پیارے کے گم ہو جانے کی تکلیف اس کے دنیا سے چلے جانے سے کہیں زیادہ شدید ہوتی ہے۔

 

اماں حوری مسلسل تیرہ سال سے مبینہ طور پر ریاستی اداروں کی طرف سے کوئٹہ سے اٹھائے گئے بیٹے کی بازیابی کے لیے دربدر ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔ ان کا صرف یہ مطالبہ ہے کہ اگر ان کے بیٹے نے کوئی جرم بھی کیا ہے تو اس پر فرد جرم عائد کر کے پیش تو کیا جائے تاکہ ماں کو اتنا تو پتہ ہو کہ اس کا بیٹا کہاں ہے اور وہ اپنے بیٹے کے گم ہو جانے کی اذیت سے نکل سکے۔

 

اماں حوری اور کچھ دیگر بوڑھی مائیں اماں حوری کے ساتھ اپنے بچوں کی بازیابی کی اپیل کے لیے پنتالیس دن سے بلوچستان میں اپنے گھروں کو چھوڑ کر اسلام آباد کی سڑکوں پر بیٹھی ہیں۔ اس کے علاوہ بلوچ نوجوان لڑکے لڑکیاں بھی اس احتجاج میں شریک ہیں جو ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی رہائی چاہتے ہیں جو بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ہیں اور بلوچوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی ہیں۔

 

ریاست بلوچ متاثرین کے بچے بازیاب کرنا تو درکنار ان کی بات سننے کی بھی روادار نہیں۔ اسلام آباد کے پوش سیکٹر ایف سکس میں احتجاجی دھرنے میں بیٹھی بوڑھی ماؤں کا کہنا ہے کہ پنتالیس دنوں میں کوئی حکومتی نمائندہ ان کی بات سننے کے لیے بھی نہیں آیا اور جیسے حکومت انہیں مکمل طور پر بھول چکی ہے۔

اسلام آباد میں جس جگہ پر بلوچ متاثرین احتجاج کے لیے بیٹھے ہیں وہ اسلام آباد پریس کلب کے بالکل پاس ہے لیکن مظاہرین کے بقول حکومتی مشینری نے انہیں پریس کلب کے سامنے گراؤنڈ میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جس کی وجہ سے احتجاج کے لیے آئے ہوئے لوگ سڑک پر اور فٹ پاتھ پر بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ شہری انتظامیہ نے اس سڑک کو ہر طرف سے خاردار تار لگا کر ٹریفک کے لیے بند کر رکھا ہے۔

 

یہ ہی نہیں، ریاستی مشینری نے ہر ممکن کوشش کی کہ یہ متاثرہ خاندان شہر میں کہیں بھی قیام نہ کر سکیں، یہاں تک کہ جن مکان مالکان نے انہیں رہائش دی تھی، انہیں بھی دباؤ میں لایا گیا۔ سائرہ بلوچ، جو بلوچستان یونیورسٹی میں میڈیا اسٹڈیز کی طالبہ ہیں اور اپنے بھائی اور کزن کی رہائی کے لیے احتجاج کر رہی ہیں جو سات سال سے لاپتہ ہیں، نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ریاستی اداروں نے انہیں اُس رہائش گاہ سے نکلوایا جہاں وہ ٹھہری ہوئی تھیں، اور انہیں رات کے وقت یہ جگہ چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔

 

مختلف حلقوں کی اور بلوچ متاثرین کی تمام تر کوششوں کے باوجود کوئی ریاستی نمائندہ ان متاثرہ افراد سے بات کرنے کو تیار نہیں جو پارلیمنٹ ہاؤس سے محض دو کلومیٹر دور سڑک پر بیٹھے ہیں۔ حالانکہ حکومت نے ان لوگوں سے بات کرنے کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے، لیکن وہ کمیٹی بھی تاحال متاثرہ مظاہرین تک نہیں پہنچی۔

 

پی ٹی آئی کے رکنِ اسمبلی امجد علی خان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ انہوں نے گزشتہ اجلاس کے دوران بلوچ مظاہرین کے معاملے پر بات کرنے کی کوشش کی تو ڈپٹی اسپیکر نے ان کا مائیک بند کر دیا۔ بعد ازاں جب انہوں نے یہ معاملہ ایوان میں اٹھایا تو حکومتی بینچوں نے بھی اس بات سے اتفاق کیا کہ احتجاج کرنے والے خاندانوں کی داد رسی کی جائے، اور اسپیکر نے رکن قومی اسمبلی اور مسلم لیگ ن کے سیاستدان طارق فضل چوہدری کو کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی تاکہ مظاہرین سے بات کی جا سکے۔

 

امجد علی خان کا کہنا تھا کہ ایک کمیٹی تو بنا دی گئی، لیکن اس کے اراکین کے نام بھی وہ نہیں جانتے کیونکہ وہ نہ تو طارق فضل چوہدری اور نہ ہی اسپیکر سے بار بار رابطہ کرنے کے باوجود جواب پا رہے ہیں۔ تاہم انہیں بعض ذرائع سے اطلاع ملی کہ طارق فضل کی بنائی گئی کمیٹی بھی احتجاجی مقام پر آنے سے گریزاں ہے کیونکہ انہیں کسی نے روک رکھا ہے۔ امجد خان کا کہنا تھا، ''یہ کون ہے جو ریاست کو بلوچ متاثرین سے بات کرنے سے روک رہا ہے، یہ وہی جانتے ہیں جنہیں روکا جا رہا ہے۔‘‘

 

بلوچ متاثرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ ماضی میں ایک دفعہ انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ ان کے بچھڑے واپس کر دیے جائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ سائرا بلوچ کا کہنا تھا کہ دو ہزار تئیس میں انہوں نے کوئٹہ میں احتجاجی دھرنا دیا تھا اس وقت رانا ثنااللہ نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ کچھ دن میں سب لوگ واپس آجائیں گے تو ان بوڑھی ماؤں اور ہم سب نے دروازے کے پاس سونا شروع کر دیا تھا لیکن ان کا انتظار حتم نہیں ہو سکا اور حکومت نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا اور اب تو حکومت کوئی بات ہی نہیں کرنا چاہتی۔

 

سائرہ بلوچ کہتی ہیں کہ اب بھی دروازے پر ہونے والی دستک ان کے دل میں موہوم سی امید جگاتی ہے اور صرف وہی نہیں جن کے بھی بچوں یا عزیزوں کو غائب کیا گیا ہے وہ اسی امید اور مایوسی کے درمیان لٹکے رہنے کی اذیت سہ رہے ہیں کہ '' ریاست کم از کم ہم سے بات تو کرے۔‘‘

 

ڈی ڈبلیو نے رکن قومی اسمبلی طارق فضل چوہدری سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تاکہ جان سکے کہ ان کی بنائی گئی کمیٹی نے تاحال بلوچ متاثرہ خاندانوں کو کیوں نہیں سنا، لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا اور نہ ہی بھیجے گئے سوال کا کوئی جواب موصول ہوا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C