05/March/2025

اسلام آباد کی انتظامیہ نے لال مسجد سے ملحقہ زیر تعمیر مدرسہ جامعہ حفصہ کی دیواریں گرا دیں

👁️ 215 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
اسلام آباد کی انتظامیہ نے لال مسجد سے ملحقہ زیر تعمیر مدرسہ جامعہ حفصہ کی دیواریں گرا دیں

اسلام آباد کی انتظامیہ نے لال مسجد سے ملحقہ زیر تعمیر مدرسہ جامعہ حفصہ کی دیواریں گرا دیں

اسلام آباد (ڈیلی اردو/بی بی سی) اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور سی ڈی اے نے لال مسجد سے ملحقہ زیر تعمیر مدرسہ جامعہ حفصہ کا ایک حصہ گرادیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار کے مطابق سرکاری اراضی پر مدرسے کی دوبارہ سے غیر قانونی تعمیر کی جارہی تھی جس کی وجہ سے اس کے کچھ حصے کو گرایا گیا ہے۔

ان کے مطابق سرکاری اراضی پر ابھی صرف اس عمارت کی دیواریں کھڑی کی گئی تھیں جن کے بیشتر حصوں کو گرا دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سنہ 2007 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں لال مسجد آپریشن کے بعد لال مسجد سے ملحقہ جامعہ حفصہ کو منہدم کر دیا گیا تھا اور اُس وقت کی ضلعی انتظامیہ نے خواتین کے مدرسے کے لیے مسجد کی انتظامیہ کو اسلام آباد کے علاقے ترنول کے قریب دس مرلے کی زمین الاٹ کرنے کی پیشکش کی تھی۔ تاہم لال مسجد کی انتظامیہ نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا تھا۔

دوسری جانب، لال مسجد کے انتظامی امور کی نگرانی کرنے والے مولانا عبدالعزیز کا کہنا ہے کہ جامعہ حفصہ کی دیواریں ضلعی انتظامیہ یا سی ڈی اے کے اہلکاروں نے نہیں بلکہ لال مسجد کی انتظامیہ نے خود گرائی ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے دعوی کیا کہ ضلعی انتظامیہ کے اہلکار یہ کام کرنے سے گھبراتے تھے اور انھیں خطرہ تھا کہ اگر وہ لال مسجد کی جانب پیش قدمی کریں گے تو انھیں تشدد کا نشانہ بنایا جائے گا۔

اسلام آباد کے ایک مدرسے کی منتقلی اور لال مسجد کے سابق خطیب عبدالعزیز کی اہلیہ اُم حسان کی گرفتاری پر تنازع کیوں؟

مولانا عبدالعزیز نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے اس معاملے میں کچھ علما کی خدمات بھی حاصل کی تھیں جس کی وجہ سے دیواریں گرانے کے عمل میں کوئی تصادم نہیں ہوا۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے پیشکش کی گئی تھی کہ اگر وہ جامعہ حفصہ کی دیواریں گرا دیں تو انتظامیہ کی جانب سے دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج مقدمے میں گرفتار ام حسان کی درخواستِ ضمانت میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔

واضح رہے کہ 20 فروری کی شب پولیس نے ام حسان سمیت دیگر افراد کو کارِ سرکار میں مداخلت اور حکومتی اہلکاروں پر حملے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

مولانا عبالعزیز کا کہنا ہے کہ ام حسان اور اس مقدمے میں گرفتار دیگر خواتین کی آج ضمانت کی درخواست کی سماعت ہونا تھی جو ابھی تک نہیں ہوئی۔

ان کا کہنا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس پیشکش کے بعد ہی لال مسجد انتظامیہ نے زیر تعمیر عمارت کی کچھ دیورایں گرائی ہیں۔

مولانا عبدالعزیز کے اس دعوے کے متعلق اسلام اباد کی ضلعی انتظامیہ کے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے اس بارے میں کوئی ردعمل نہیں دیا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C