11/February/2026

امریکہ اور آرمینیا کے درمیان جوہری معاہدہ

👁️ 133 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکہ اور آرمینیا کے درمیان جوہری معاہدہ

امریکہ اور آرمینیا کے درمیان جوہری معاہدہ

واشنگٹن (ڈیلی اردو) آرمینیا اور امریکہ نے جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون پر اتفاق کر لیا۔ آرمینیا کے وزیرِ اعظم نکول پیشینیان اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایروان میں ’123 ایگریمنٹ‘ پر بات چیت مکمل کی۔ یہ معاہدہ امریکہ کو دیگر ممالک کے ساتھ جوہری ٹیکنالوجی اور آلات شیئر کرنے یا لائسنس دینے کی اجازت دیتا ہے۔

 

جے ڈی وینس کے مطابق یہ معاہدہ بنیادی طور پر اسمال ماڈیولر ری ایکٹرز سے متعلق ہے۔ اس کے تحت امریکہ ابتدا میں آرمینیا کو 5 ارب ڈالر کی برآمدات کرے گا، جبکہ ایندھن اور دیکھ بھال کے لیے 4 ارب ڈالر کے طویل مدتی معاہدے بھی اس میں شامل ہوں گے۔

 

پیر کے روز امریکی نائب صدر کا یہ دورہ وائٹ ہاؤس میں اگست 2025 میں آرمینیا اور آذربائیجان کے رہنماؤں کے درمیان معاہدے پر دستخط کے ٹھیک چھ ماہ بعد ہوا ہے، جسے تقریباً 40 سالہ جنگ کے بعد امن کی جانب پہلا قدم قرار دیا گیا تھا۔ 

 

وینس نے نکول پیشینیان کو ایک قریبی دوست اور خطے میں امن و ترقی کا حقیقی ساتھی قرار دیا، جبکہ پیشینیان نے وینس اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دہائیوں کے تنازع کے بعد آرمینیا اور ہمسایہ ملک آذربائیجان امن کے بہت قریب ہیں۔

 

توانائی کے حصول کے لیے طویل عرصے سے روس اور ایران پر انحصار کرنے والا آرمینیا اب امریکہ، روس، چین، فرانس اور جنوبی کوریا کی کمپنیوں کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے۔ تاکہ اپنے واحد، پرانے روسی ساختہ جوہری بجلی گھر میٹسامور کی جگہ نیا جوہری ری ایکٹر تعمیر کر سکے۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C