17/December/2025

امریکی صدر ٹرمپ نے 18 ممالک کے شہریوں کے داخلے پر مکمل پابندیاں عائد کر دی

👁️ 280 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
امریکی صدر ٹرمپ نے 18 ممالک کے شہریوں کے داخلے پر مکمل پابندیاں عائد کر دی

امریکی صدر ٹرمپ نے 18 ممالک کے شہریوں کے داخلے پر مکمل پابندیاں عائد کر دی

واشنگٹن (نمائندہ ڈیلی اردو) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے 17 ممالک کے شہریوں کے داخلے پر مکمل پابندیاں برقرار رکھنے اور بعض ممالک کے لیے نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 

 

صدر ٹرمپ کے مطابق یہ اقدام ان ممالک میں موجود دہشت گردی، غیر مستحکم حکومتوں، اور غیر مؤثر ویزا اور شناختی نظام کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔

 

کون سے ممالک شامل ہیں؟

 

اصل 12 ممالک جن پر پہلے ہی مکمل پابندیاں عائد تھیں، وہ یہ ہیں: افغانستان، برما، چاڈ، کانگو، ایکواٹوریل گنی، اریٹیریا، ہیٹی، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن۔

 

نئے پانچ ممالک

 

نئی پابندیوں کے تحت 5 اضافی ممالک کو بھی مکمل پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے جن میں برکینا فاسو، مالی، نائجر، جنوبی سوڈان اور شام شامل ہے۔

 

فلسطین

 

مزید برآں، فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ سفر کے دستاویزات رکھنے والے افراد پر بھی مکمل پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ دو ممالک، لاؤس اور سیرالیون، جن پر پہلے جزوی پابندیاں تھیں، انہیں بھی مکمل پابندیوں کے دائرے میں شامل کر لیا گیا ہے۔

 

جزوی پابندیاں برقرار

 

بروونڈی، کیوبا، ٹوگو، اور وینزویلا کے شہریوں پر جزوی پابندیاں جاری رہیں گی۔ 

 

اسی طرح 15 دیگر ممالک پر جزوی پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جن میں انگولا، انتگوا اور باربوڈا، بینن، کوٹ ڈی آئیوری، ڈومینیکا، گیبون، گیمبیا، ملاوی، موریطانیہ، نائجیریا، سینیگال، تنزانیہ، ٹونگا، زیمبیا اور زمبابوے شامل ہیں۔

 

استثنیٰ

 

ان پابندیوں میں کچھ افراد کو استثنیٰ بھی دیا گیا ہے، جیسے قانونی مستقل رہائشی، موجودہ ویزہ ہولڈر، کھلاڑی، سفارتکار اور وہ افراد جن کا داخلہ امریکی قومی مفادات کے لیے ضروری ہے۔

وجوہات

 

صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان ممالک میں وسیع پیمانے پر کرپشن، جعلی یا ناقابل اعتماد شناختی دستاویزات، جرمی ریکارڈ کی کمی، اور پیدائش کے رجسٹریشن کے ناقص نظام کی وجہ سے درست جانچ کرنا ممکن نہیں ہے۔

 

کچھ ممالک پاسپورٹ یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ڈیٹا فراہم کرنے سے انکار کرتے ہیں، جبکہ دیگر ممالک شہریتی سرمایہ کاری کے ذریعے شناخت چھپانے اور ویزا کی پابندیوں کو نظر انداز کرنے کی سہولت دیتے ہیں۔

 

صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ یہ پابندیاں امریکی شہریوں اور قومی مفادات کو خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔

 

استثنائی ممالک اور اہم معلومات

 

ترکمانستان نے امریکہ کے ساتھ تعمیری تعاون کیا ہے، لہٰذا غیر امیگرینٹ ویزوں پر پابندی اٹھا دی گئی ہے، مگر امیگرینٹ ویز پر پابندی برقرار ہے۔

 

شام میں جاری خانہ جنگی اور داخلی انتشار کی وجہ سے مناسب پاسپورٹ یا شناختی نظام موجود نہیں، لہٰذا وہاں سے آنے والے شہریوں کی جانچ مشکل ہے۔

 

برکینا فاسو، مالی، نائجر، جنوبی سوڈان اور سیرالیون میں دہشت گرد تنظیمیں فعال ہیں اور ان ممالک کی حکومتیں بعض اوقات اپنے شہریوں کو واپس قبول کرنے سے انکار کر دیتی ہیں۔

 

صدر ٹرمپ کا موقف

 

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام امریکی قومی سلامتی کے تحفظ اور ممکنہ سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان پابندیوں کا مقصد ان ممالک کو بھی مجبور کرنا ہے کہ وہ اپنے ویزا اور شناختی نظام کو بہتر بنائیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C