31/May/2026

ایران میں نئی جنگ خامنہ ای کو نشانہ بنانے سے شروع ہونے کی پیشگوئی کی تھی، حسین علائی

👁️ 347 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران میں نئی جنگ خامنہ ای کو نشانہ بنانے سے شروع ہونے کی پیشگوئی کی تھی، حسین علائی

ایران میں نئی جنگ خامنہ ای کو نشانہ بنانے سے شروع ہونے کی پیشگوئی کی تھی، حسین علائی

تہران (ڈیلی اردو/بی بی سی) ایرانی پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے سابق کمانڈر حسین علائی نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے مبینہ امریکی و اسرائیلی حملوں سے تین روز قبل علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی کو خبردار کیا تھا کہ ایران پر نئی جنگ رہبرِ اعلیٰ کو نشانہ بنانے سے شروع ہو سکتی ہے۔

 

ایک ویڈیو انٹرویو میں حسین علائی نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے متعدد بار اپنے قریبی حلقوں اور اعلیٰ حکام کو خبردار کیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف ایک نئے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ 

 

ان کے مطابق، انہوں نے علی شمخانی سے ملاقات میں واضح طور پر کہا تھا کہ ’’ان کا منصوبہ یہ ہے کہ نئی جنگ لیڈر کو مارنے سے شروع ہوگی، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ نظام کو اس طرح زیادہ نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔‘‘

 

حسین علائی، جو پاسداران انقلاب کے بریگیڈیئر جنرل رہ چکے ہیں، 1985 سے 1990 تک آئی آر جی سی بحریہ کے کمانڈر رہے جبکہ بعد ازاں نائب وزیر دفاع، چیف آف جوائنٹ اسٹاف اور دیگر اعلیٰ عسکری عہدوں پر بھی خدمات انجام دیتے رہے۔

 

رپورٹس کے مطابق بعد میں ہونے والے حملوں میں علی خامنہ ای، علی شمخانی اور ایران کی اعلیٰ عسکری قیادت کے متعدد ارکان ہلاک ہو گئے۔ ان حملوں میں مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف عبدالرحیم موسوی، وزیر دفاع عزیز ناصر زادہ اور خامنہ ای کے خاندان کے بعض افراد کی ہلاکت کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

 

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ خامنہ ای کی بڑی بیٹی بشریٰ، ان کی سب سے چھوٹی پوتی، داماد مصباح الہدیٰ باقری کنی اور مجتبیٰ خامنہ ای کی اہلیہ زہرہ حداد عادل بھی ان حملوں میں ہلاک ہوئیں، جبکہ ابتدائی طور پر خامنہ ای کی اہلیہ منصورہ خواستہ باقرزادہ کی ہلاکت کی اطلاعات بھی آئیں، تاہم بعد میں بتایا گیا کہ وہ زندہ ہیں۔

 

علی شمخانی، جنہوں نے ماضی میں وزیر دفاع، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری اور دیگر اہم عہدوں پر خدمات انجام دیں، حملوں میں زخمی ہونے کے بعد بعد ازاں ہلاک ہوئے اور جنگ کے دوران ان کی تدفین بھی کی گئی۔

 

دوسری جانب ایران اور امریکہ کے درمیان اس وقت جنگ بندی برقرار ہے اور دونوں ممالک مبینہ امن منصوبے کی شرائط پر ایک دوسرے کے جواب کے منتظر ہیں۔ امریکہ ایران سے آبنائے ہرمز کھولنے اور افزودہ یورینیم حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ ایران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو سابقہ حالت میں بحال نہیں کرے گا اور ابتدائی معاہدے تک اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات بھی مؤخر کر دیے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C