22/May/2026

ایران ۔امریکہ کشیدگی برقرار، پاکستان کی سفارتی کوششیں تیز

👁️ 389 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
ایران ۔امریکہ کشیدگی برقرار، پاکستان کی سفارتی کوششیں تیز

ایران ۔امریکہ کشیدگی برقرار، پاکستان کی سفارتی کوششیں تیز

اسلام آباد (ڈیلی اردو/روئٹرز) ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، اس دوران تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایران کے یورینیم ذخیرے اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے معاملے پر اختلافات بدستور برقرار ہیں۔

 

اسلام آباد کی جانب سے پیغام پہنچانے کے دو دن بعد، پاکستانی وزیر داخلہ سید محسن نقوی نے تہران میں  ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے دوبارہ ملاقات کی۔ ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے درمیان مزید بات چیت ہوئی۔ 

 

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں ’’کچھ مثبت اشارے‘‘ سامنے آئے ہیں، تاہم اگر تہران آبنائے ہرمز میں ٹول (محصول) کا نظام نافذ کرتا ہے تو کسی حل تک پہنچنا ممکن نہیں ہوگا۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد آبنائے ہرمز کو زیادہ تر جہازرانی کے لیے عملاً بند کر دیا تھا۔

 

مارکو روبیو کا کہنا تھا، ’’کچھ مثبت اشارے ضرور مل رہے ہیں، لیکن میں حد سے زیادہ پرامید نہیں ہونا چاہتا۔ آئندہ چند دنوں میں دیکھتے ہیں کیا صورت حال بنتی ہے۔‘‘

 

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ بالآخر ایران کے اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے پر کنٹرول حاصل کر لے گا۔ واشنگٹن کا خیال ہے کہ یہ ذخیرہ جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ اس کا مقصد صرف پُرامن سرگرمیاں ہیں۔

 

جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، ’’ہم اسے حاصل کر لیں گے۔ ہمیں اس کی ضرورت نہیں، نہ ہی ہم اسے رکھنا چاہتے ہیں۔ غالب امکان ہے کہ ہم اسے حاصل کرنے کے بعد تباہ کر دیں گے، لیکن ہم ایران کو اسے رکھنے نہیں دیں گے۔‘‘

 

ٹرمپ کے بیان سے قبل دو سینئر ایرانی ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے ہدایت جاری کی ہے کہ یورینیم کو ملک سے باہر نہ بھیجا جائے۔

 

امریکی صدر نے اس کے ساتھ ساتھ ایران کے اس منصوبے پر بھی تنقید کی جس کے تحت آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس وصول کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔

 

ٹرمپ نے  اس بارے میں کہا، ’’ہم چاہتے ہیں کہ یہ راستہ کھلا اور آزاد رہے۔ ہم ٹول یا فیس نہیں چاہتے۔ یہ ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے۔‘‘

 

ٹرمپ کو نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل داخلی دباؤ کا سامنا ہے۔ امریکہ  میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر عوامی غصہ بڑھ رہا ہے، جبکہ ان کی مقبولیت گزشتہ سال وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد سے اب تک کی نچلی سطح کے قریب پہنچ چکی ہے۔

 

اسی دوران تہران نے رواں ہفتے کے آغاز میں امریکہ کو اپنی نئی پیشکش بھی ارسال کر دی ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C