14/November/2025

بلوچستان بھر میں انٹرنیٹ سروس معطل، ٹرانسپورٹ محدود، اسکول بند

👁️ 489 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بلوچستان بھر میں انٹرنیٹ سروس معطل، ٹرانسپورٹ محدود، اسکول بند

بلوچستان بھر میں انٹرنیٹ سروس معطل، ٹرانسپورٹ محدود، اسکول بند

کوئٹہ (ڈیلی اردو/بی بی سی/ڈی پی اے) پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سمیت 37 اضلاع میں ایک مرتبہ پھر انٹرنیٹ سروس معطل کردی گئی ہے۔

 

بلوچستان حکومت کے ایک سینیئر اہلکار نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ انٹرنیٹ سروس 16 نومبر تک سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر ملتوی کر دی گئی ہے۔

 

اگرچہ ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق ان اضلاع کے دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ سروس معطل رہے گی لیکن کوئٹہ شہر میں بھی گذشتہ روز سے انٹرنیٹ سروس کی معطلی شروع ہو گئی ہے۔

 

موبائل فون پر انٹرنیٹ سروس کی معطلی سے لوگوں کو پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بلوچستان میں گذشتہ دو تین روز سے سکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔

 

اس سلسلے میں جہاں انٹرنیٹ سروس کو معطل کیا گیا ہے وہیں قلعہ سیف اللہ اور ڈیرہ غازیخان کے راستے پبلک ٹرانسپورٹ پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

 

سیکریٹری ٹرانسپورٹ حکومت بلوچستان کی جانب سے جاری ہونے والے ایک نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے قلعہ سیف اللہ اور ڈیرہ غازی خان کے راستے پنجاب جانے والی پبلک ٹرانسپورٹ کے مالکان سے کہا گیا ہے کہ وہ 14 نومبر تک اپنی ٹرانسپورٹ اس شاہراہ پر نکالنے سے گریز کریں۔ اس سے قبل کوئٹہ اور دیگر صوبوں کے درمیان ٹرین سروس کو بھی 13 نومبر تک معطل کی گئی۔

 

ٹرانسپورٹ خدمات محدود اور اسکول بند

 

صوبائی حکومت نے نیشنل ہائی وے کے لورالائی حصے پر تمام ٹرانسپورٹ خدمات، بشمول ٹیکسیوں اور نجی گاڑیوں، کی نقل و حرکت کو 14 نومبر تک عارضی طور پر معطل کر دیا ہے۔

 

تاہم، یہ پابندی مقامی یا شہر کے اندرونی ٹریفک پر لاگو نہیں ہو گی، تاکہ شہری اپنی روزمرہ ضروریات کے لیے اپنے علاقوں میں سفر کر سکیں۔

 

محکمہ داخلہ نے تمام ضلعی انتظامیہ، پولیس اور متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس فیصلے پر فوری عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور عوام کی سہولت کے لیے متبادل انتظامات کریں۔

 

شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی سفر کی منصوبہ بندی کرنے سے پہلے لورالائی روٹ سے متعلق سرکاری سفری ہدایت نامہ ضرور چیک کریں تاکہ کسی بھی تکلیف یا رکاوٹ سے بچا جا سکے۔

 

بدھ کے روز کوئٹہ کے کینٹ علاقے میں تمام تعلیمی ادارے بند رہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر 12 سے 16 نومبر تک اس علاقے کے اسکول اور کالجز بند رہیں گے۔ تاہم، کوئٹہ کے بعض سرکاری اسکول معمول کے مطابق کھلے رہے۔

 

سب کا نقصان

 

انٹرنیٹ اور ٹرانسپورٹ بند ہونے کی وجہ سے تاجروں، طلبہ اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹ کی بندش سے نہ صرف انہیں بلکہ حکومت کو بھی شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

 

موبائل انٹرنیٹ کی معطلی سے معیشت پر وسیع اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جنوری میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق، پاکستان انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایپس کی بندشوں کے باعث مالی نقصانات کے اعتبار سے دنیا بھر میں سرفہرست رہا۔

 

پاکستان نے مجموعی طور پر 1.62 بلین ڈالر کے مالی نقصان کے ساتھ تمام ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا۔ یہ نقصان سوڈان اور میانمار جیسے ممالک سے بھی زیادہ تھا، جو خانہ جنگی کا شکار ہیں۔

 

انٹرنیٹ سروس متاثر ہونے سے نہ صرف تاجر طبقہ اور عام شہری متاثر ہیں بلکہ طلبہ، خاص طور پر میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیوں کے طلبہ بھی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C