07/October/2025

بلوچستان: خاران جوڈیشل کمپلیکس پر حملہ، جج اغواء، عمارت نذرِ آتش

👁️ 505 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بلوچستان: خاران جوڈیشل کمپلیکس پر حملہ، جج اغواء، عمارت نذرِ آتش

بلوچستان: خاران جوڈیشل کمپلیکس پر حملہ، جج اغواء، عمارت نذرِ آتش

کوئٹہ  (ڈیلی اردو) پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان کے ضلع خاران میں پیر کے روز بلوچ عسکریت پسندوں نے جوڈیشل کمپلیکس پر حملہ کر کے عمارت کو نذرِ آتش کر دیا اور ڈیوٹی پر موجود جج جان محمد کو اغواء کر لیا۔ واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز اور پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر مغوی جج کی تلاش کے لیے فوری سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

 

پولیس اور ریسکیو اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر آگ بجھانے کی کوششیں کیں، اور کئی گھنٹوں کی محنت کے بعد آگ پر قابو پایا گیا۔ تاہم شدید آتشزدگی کے باعث کمپلیکس میں موجود عدالتی ریکارڈ مکمل طور پر جل کر راکھ ہو گیا۔ پولیس نے تمام اہم راستوں پر ناکہ بندی کر کے علاقے کی نگرانی تیز کر دی ہے اور سرچ آپریشن جاری ہے۔

 

اس واقعے کے بعد صوبائی حکومت نے بھی ہنگامی اقدامات کی ہدایت کی ہے اور خاران میں صورتحال پر قابو پانے کے لیے سکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

 

پچھلے اغوا کی کامیاب بازیابی

 

واضح رہے کہ بلوچستان کے ضلع کیچ سے 3 ماہ قبل اغوا ہونے والے اسسٹنٹ کمشنر تمپ محمد حنیف نورزئی کو حال ہی میں بازیاب کر لیا گیا۔ انہیں وزیر اعلیٰ کے خصوصی طیارے کے ذریعے کوئٹہ پہنچایا گیا۔ حنیف نورزئی کی رہائی میں ڈپٹی کمشنر کیچ اور قبائلی شخصیات کی کوششیں رنگ لائیں، اور مسلح افراد نے انہیں بدھ کی شب رہا کر دیا تھا۔

 

محمد حنیف نورزئی کو 3 جون 2025 کو کیچ سے کوئٹہ جاتے ہوئے اغوا کیا گیا تھا، جب وہ اپنے خاندان، ڈرائیور اور محافظوں کے ہمراہ سفر کر رہے تھے۔ اغوا کاروں نے صرف انہیں اپنے ساتھ لے جایا، جبکہ ان کی اہلیہ اور محافظوں کو چھوڑ دیا گیا تھا۔

 

بلوچستان میں اس نوعیت کے حملے صوبائی حکومت اور سکیورٹی اداروں کے لیے بڑے چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں، اور ان کے سدباب کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C