02/February/2026

بلوچستان میں 145 ’دہشت گرد‘ ہلاک، وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی

👁️ 218 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بلوچستان میں 145 ’دہشت گرد‘ ہلاک، وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی

بلوچستان میں 145 ’دہشت گرد‘ ہلاک، وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی

کوئٹہ (ڈیلی اردو) پاکستانی حکام کے مطابق بلوچ عسکریت پسندوں کی جانب سے کیے گئے مربوط حملوں کے جواب میں ملکی سکیورٹی فورسز نے 145 شدت پسند ہلاک کر دیے ہیں۔ اس دوران 17 سکیورٹی اہلکار اور 31 شہری بھی مارے گئے۔

 

بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کے مطابق حملوں میں 17 قانون نافذ کرنے والے اہلکار اور 31 شہری بھی مارے گئے۔ فوج کے ابتدائی بیانات میں ہفتہ کو 15 سکیورٹی اہلکار اور 18 شہری ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی تھی، جبکہ 92 عسکریت پسند مارے گئے تھے۔ بعد میں یہ تعداد بڑھا دی گئی۔

 

پاکستان کی فورسز نے اتوار کو بھی بلوچستان میں ہونے والے ان حملوں کے ذمہ داروں کی تلاش جاری رکھی ہوئی ہے۔ حکومت نے شدید ردعمل کا عزم ظاہر کیا ہے۔

 

حملوں کے مقامات، جن میں صوبائی دارالحکومت کوئٹہ بھی شامل ہے، کی تقریباً ایک درجن جگہیں اب بھی سیل ہیں، جبکہ فوجی اہلکار علاقے کی تلاشی لے رہے ہیں۔ یہ کارروائی ایک دن بعد کی گئی، جب شدت پسندوں نے ایک ساتھ بینکوں، جیلوں اور فوجی تنصیبات پر حملے کیے تھے۔

 

ایک حکومتی اہلکار نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ بلوچ علیحدگی پسندوں نے ڈپٹی ڈسٹرکٹ کمشنر نوشکی، محمد حسین، اور اسسٹنٹ کمشنر ماریہ شمون کو اغوا کیا تھا، تاہم بعد میں انہیں چھوڑ دیا گیا۔

 

صوبے بھر میں موبائل انٹرنیٹ سروس 24 گھنٹوں سے زیادہ عرصے سے معطل ہے، سڑکوں پر ٹریفک متاثر ہے اور ٹرین سروسز بھی معطل ہیں۔ کوئٹہ میں دھماکوں کے بعد اہم سڑکیں اور کاروباری مراکز ویران پڑے تھے، اور شہری خوف کی وجہ سے گھروں سے باہر نہیں نکلے۔

 

پاکستانی فوج کے مطابق ہفتے کے حملوں سے متاثرہ علاقوں میں ’’صفائی کی کارروائیاں‘‘ جاری ہیں۔ فوج نے کہا، “ان گھناؤنے اور بزدلانہ حملوں کے مرتکب سہولت کاروں اور معاونین کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔”

 

بلوچستان کی سب سے فعال شدت پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے اے ایف پی کو بھیجے گئے بیان میں حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

 

گروپ نے کہا کہ مسلح اور خودکش حملوں کے ذریعے فوجی تنصیبات کے ساتھ ساتھ پولیس اور سول انتظامیہ کے افسران کو نشانہ بنایا گیا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ سول انتظامیہ کے ساتھ ان کی کوئی لڑائی نہیں ہے۔

 

پاکستان کئی عشروں سے بلوچ علیحدگی پسند بغاوت کا سامنا کر رہا ہے۔ معدنیات سے مالا مال اس صوبے میں، جو افغانستان اور ایران سے ملحق ہے، سکیورٹی فورسز، غیر ملکی شہریوں اور غیر مقامی پاکستانیوں پر مسلسل مسلح حملے ہوتے رہتے ہیں۔

 

قدرتی وسائل کی وافر مقدار کے باوجود پاکستان کا سب سے غریب صوبہ بلوچستان تعلیم، روزگار اور معاشی ترقی کے تقریباً تمام اشاریوں میں ملک کے دیگر حصوں سے پیچھے ہے۔ 

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C