20/December/2025

بلوچستان کے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے ماما قدیر بلوچ انتقال کر گئے

👁️ 311 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بلوچستان کے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے ماما قدیر بلوچ انتقال کر گئے

بلوچستان کے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے جدوجہد کرنے والے ماما قدیر بلوچ انتقال کر گئے

کوئٹہ (ڈیلی اردو ) بلوچستان میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے طویل عرصے تک جدوجہد کرنے والے معروف سماجی کارکن ماما قدیر بلوچ سنیچر کے روز انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 85 برس تھی۔

 

خاندانی ذرائع کے مطابق ماما قدیر رواں سال عید الفطر کے بعد سے علیل تھے اور گزشتہ چند روز سے کوئٹہ کے ایک نجی ہسپتال میں وینٹی لیٹر پر زیرِ علاج تھے۔ ان کے بیٹے بجار ریکی نے بی بی سی سے گفتگو میں ان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ماما قدیر کی وصیت کے مطابق ان کی تدفین آبائی علاقے سوراب میں کی جائے گی۔

 

لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم ’وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز‘ کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کے مطابق ماما قدیر دمے کے عارضے میں مبتلا تھے، چند ہفتے قبل ان میں ٹی بی کی تشخیص ہوئی جبکہ جگر کے مسئلے کی بھی نشاندہی کی گئی تھی۔ تنظیم نے ماما قدیر کے انتقال پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے، اس دوران کوئٹہ میں قائم احتجاجی علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ بھی بند رہے گا۔

 

طویل جدوجہد اور علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ

 

نصراللہ بلوچ کے مطابق لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے قائم علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ جدید دنیا کے طویل ترین احتجاجی کیمپوں میں شمار ہوتا ہے، جو 6 ہزار 35 دن سے زائد عرصے سے جاری تھا، اور ماما قدیر اس کے روحِ رواں تھے۔

2009 سے وہ مستقل طور پر اس کیمپ میں بیٹھتے رہے، حتیٰ کہ اپنے بیٹے کی تشدد زدہ لاش ملنے کے بعد بھی انہوں نے احتجاج ترک نہیں کیا۔

 

بیٹے کی جبری گمشدگی

 

2009 میں ماما قدیر کے بڑے بیٹے جلیل ریکی کوئٹہ سے لاپتہ ہوئے۔ ماما قدیر کا الزام تھا کہ ان کے بیٹے کو سکیورٹی فورسز کے اہلکار اٹھا کر لے گئے۔ جلیل ریکی ڈبل ایم اے تھے اور یونائیٹڈ بینک میں افسر کے طور پر ملازمت کر چکے تھے۔

ماما قدیر کے مطابق جبری گمشدگی کے تین سال بعد ضلع کیچ سے جلیل ریکی کی تشدد زدہ لاش ملی، مگر اس کے باوجود انہوں نے دیگر لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ جدوجہد جاری رکھی۔

 

احتجاج اور مشکلات

 

کوئٹہ پریس کلب کے باہر قائم بھوک ہڑتالی کیمپ کو چار مرتبہ نذرِ آتش کیا گیا۔ ماما قدیر کے مطابق احتجاج پرامن تھا، تاہم انہیں متعدد بار بالواسطہ اور بلاواسطہ دھمکیاں دی گئیں، کیمپ میں گندگی پھینکی گئی اور ایک موقع پر انہیں مبینہ طور پر موٹر سائیکل سواروں نے ٹکر بھی ماری جس سے وہ زخمی ہوئے۔

 

پاکستان کی تاریخ کا طویل لانگ مارچ

 

ماما قدیر نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے اکتوبر 2013 میں کوئٹہ سے کراچی اور پھر اسلام آباد تک پاکستان کی تاریخ کا طویل لانگ مارچ کیا، جس میں لاپتہ افراد کے دیگر رشتہ دار بھی شامل تھے۔ یہ سفر تقریباً چار ماہ میں مکمل ہوا۔

 

سنہ 2018 میں ماما قدیر نے جنیوا کا دورہ کیا اور جبری گمشدگیوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کے اجلاسوں میں شرکت کی۔ انہوں نے امریکہ کا بھی دورہ کیا اور بتایا کہ اس دوران ان کی سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ملاقات ہوئی۔

 

بعد ازاں انہوں نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے جنیوا تک لانگ مارچ کا اعلان کیا، تاہم نصراللہ بلوچ کے مطابق حکومت کی جانب سے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالے جانے کے باعث یہ لانگ مارچ ممکن نہ ہو سکا۔

 

ماما قدیر بلوچ کا تعلق قلات ڈویژن کے علاقے سوراب سے تھا۔ وہ 6 جون 1940 کو پیدا ہوئے۔ تعلیم سوراب، خضدار اور کوئٹہ سے حاصل کی۔ وہ قوم پرست سیاست سے وابستہ رہے اور نیشنل عوامی پارٹی (این اے پی) کی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے۔

1974 میں انہوں نے یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ میں کیشیئر کے طور پر ملازمت اختیار کی اور 2009 میں گریڈ تھری افسر کے طور پر ریٹائر ہوئے۔

 

ماما قدیر بلوچ کا انتقال بلوچستان میں لاپتہ افراد کے مسئلے پر جدوجہد کرنے والی ایک مضبوط آواز کے خاموش ہو جانے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C