06/February/2025

بلوچستان:کیچ سے سات نوجوان لاپتہ

👁️ 157 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بلوچستان:کیچ سے سات نوجوان لاپتہ

بلوچستان:کیچ سے سات نوجوان لاپتہ

کوئٹہ (ڈیلی اردو/بی بی سی) پاکستان کے صوبے بلوچستان کے ضلع کیچ سے سات نوجوان لاپتہ ہو گئے ہیں جن میں سے چھ کا تعلق دو خاندانوں سے ہے۔

ان میں سے دو نوجوان کامل شریف اور احسان سرور چار فروری کو تربت شہر سے لاپتہ ہوئے تھے۔ دونوں نوجوان آپس میں کزنز ہیں جن میں سے کامل شریف ’عطا شاد ڈگری کالج، تربت‘ میں انٹرمیڈیٹ جبکہ احسان سرور ’یونیورسٹی آف تربت‘ کے طالب علم ہیں۔

ان میں سے کامل شریف کے والد محمد شریف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے نجی سکول میں میٹرک کے طلبا کے لیے ایک تقریب منعقد کی جا رہی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ ’میں نے دونوں کو چار فروری کی صبح چند اشیا کی خریداری کے لیے بازار بھیج دیا لیکن وہ واپس نہیں آئے اور ان کے موبائل فون نمبر مسلسل بند جا رہے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’انھوں نے تربت پولیس سٹیشن میں ان کی گمشدگی کی رپورٹ سے متعلق اطلاعی رپورٹ جمع کروائی ہے لیکن تاحال پولیس نے ایف آئی آر درج نہیں کی۔

انھوں نے کہا کہ پولیس حکام کے علاوہ انھوں نے ڈسٹرکٹ کونسل کیچ کے چیئرمین سے بھی بچوں کی بازیابی میں مدد کی درخواست کی ہے۔

جب اس سلسلے میں کیچ پولیس کے سربراہ راشد زہری سے فون پر رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے پولیس میں اطلاعی رپورٹ درج کی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کو دیکھا جا رہا ہے کہ آیا یہ دونوں نوجوان خود سے کہیں گئے ہیں یا ان کو اغوا کر لیا گیا ہے۔

باقی پانچ نوجوان کہاں سے لاپتہ پوئے؟

باقی پانچ نوجوان چار اور پانچ فروری کی درمیانی شب تربت شہر کے قریب بہمن کے علاقے سے لاپتہ ہوئےتھے۔

ان میں 18 سالہ روشن علی اور 14 سالہ ان کا چھوٹا بھائی راحیل علی، ان کے دو کزنز 14 سالہ نعیم بشیر اور 16 سالہ آدم بلوچ کے علاوہ نعمان رفیق شامل ہیں۔

ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے چاروں نوجوانوں کے رشتہ دار مراد بخش بلوچ نے فون پر بتایا کہ ان میں سے دو ان کے بھانجے اور دو بھتیجے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے بھانجوں اور بھتیجوں کے علاوہ پانچویں نوجوان کو چار اور پانچ فروری کی درمیانی شب تین سے چار کے درمیان ان کے گھروں سے اٹھا لیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے روشن علی اور آدم بلوچ دکانوں میں کام کرتے ہیں جبکہ راحیل علی اور نعیم بشیر آئندہ چند دنوں میں میٹرک کا امتحان دینے والے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ انھوں نے اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر کیچ سے ملاقات کی اور ان سے بچوں کی بازیابی کی درخواست کی۔

مراد بخش اور محمد شریف دونوں نے بتایا کہ ان کے بچے بے گناہ ہیں اور انھوں نے متعلقہ حکام سے بچوں کی بازیابی کی درخواست کی۔

ان نوجوانوں کے رشتہ داروں نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے تاہم اس حوالے سے ضلعی انتظامیہ کا مؤقف جاننے کے لیے ڈپٹی کمشنر کیچ سے فون پر رابطے کی کوشش کے علاوہ ان کو واٹس ایپ پر میسیج بھی بھیجا گیا لیکن انھوں نے نہ کال وصول کی اور نہ میسیج کا جواب دیا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C