19/July/2026

بنوں میں سیکورٹی فورسز کے آپریشنز جاری، مزید 3 دہشت گرد ہلاک، سرچ آپریشن میں 28 مشتبہ افراد گرفتار

👁️ 159 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بنوں میں سیکورٹی فورسز کے آپریشنز جاری، مزید 3 دہشت گرد ہلاک، سرچ آپریشن میں 28 مشتبہ افراد گرفتار

بنوں میں سیکورٹی فورسز کے آپریشنز جاری، مزید 3 دہشت گرد ہلاک، سرچ آپریشن میں 28 مشتبہ افراد گرفتار

بنوں (نمائندہ ڈیلی اردو) پاکستان کے شورش زدہ صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں سیکیورٹی فورسز اور پولیس کی دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔ تحصیل بکاخیل میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران مزید تین دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے، جبکہ دوسری جانب بنوں پولیس نے تحصیل میریان کے علاقوں نورڑ اور ممباتی بارکزئی میں سرچ آپریشن کے دوران 28 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا۔

 

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بکاخیل میں دہشت گردوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر سیکیورٹی فورسز نے ایک مشتبہ ٹھکانے پر انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کی۔ آپریشن کے دوران دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس میں تین دہشت گرد مارے گئے۔ حکام کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کی شناخت اور ان سے برآمد ہونے والے اسلحہ و دیگر سامان کی تفصیلات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔

 

حکام کا کہنا ہے کہ ضلع بھر میں دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور مبینہ ٹھکانوں کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ 

 

سیکیورٹی فورسز اور بنوں پولیس اس وقت بکاخیل، جانی خیل، میریان، سررہ درگاہ اور وزیر سب ڈویژن میں مشترکہ طور پر انٹیلی جنس بیسڈ اور ٹارگٹڈ آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہیں۔

 

یہ کارروائیاں 15 جولائی کو تھانہ میریان پر بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے کیے جانے والے خودکش حملے کی ناکام کوشش کے بعد مزید تیز کر دی گئی ہیں۔ حملے کے اگلے روز سے بکاخیل، میریان اور ملحقہ علاقوں میں سرچ، کلیئرنس اور ٹارگٹڈ آپریشنز کا سلسلہ شروع کیا گیا، جن کے دوران متعدد مقامات سے دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔

 

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ دھماکے دہشت گردوں کے ٹھکانوں میں موجود بارودی مواد، دیسی ساختہ بموں اور گولہ بارود کے پھٹنے کے باعث ہوئے، جب سیکیورٹی فورسز متاثرہ علاقوں کو کلیئر کر رہی تھیں۔

 

یاد رہے کہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے جمعہ کو جاری بیان میں کہا تھا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بنوں میں مختلف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کے دوران 24 دہشت گرد ہلاک کیے گئے تھے۔ حکام کے مطابق بکاخیل میں تازہ کارروائی کے بعد حالیہ دنوں میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی مجموعی تعداد میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

 

ذرائع کے مطابق جانی خیل اور ملحقہ علاقوں میں کلیئرنس آپریشن مکمل ہونے کے بعد مزید سیکیورٹی اہلکاروں اور بکتر بند گاڑیوں کو تعینات کیا گیا ہے تاکہ حاصل کی گئی پیش رفت کو برقرار رکھا جا سکے اور دہشت گردوں کی دوبارہ نقل و حرکت کو روکا جا سکے۔

 

دوسری جانب بنوں پولیس نے تحصیل میریان کے علاقوں نورڑ اور ممباتی بارکزئی میں سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن کے دوران 28 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا۔ پولیس حکام کے مطابق گرفتار افراد سے پوچھ گچھ جاری ہے، جبکہ ان کے ممکنہ روابط اور مجرمانہ ریکارڈ کی جانچ بھی کی جا رہی ہے۔

 

ضلع بھر میں سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ آپریشنل علاقوں میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروسز عارضی طور پر معطل ہیں، جبکہ شہریوں کو غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

 

حکام کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس بیسڈ اور ٹارگٹڈ آپریشنز اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور لاجسٹک نیٹ ورکس کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C