23/October/2025

بنگلہ دیش: جبری گمشدگیوں میں ملوث 15 فوجی افسران جیل بھیجنے کا حکم

👁️ 565 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بنگلہ دیش: جبری گمشدگیوں میں ملوث 15 فوجی افسران جیل بھیجنے کا حکم

بنگلہ دیش: جبری گمشدگیوں میں ملوث 15 فوجی افسران جیل بھیجنے کا حکم

ڈھاکا (ڈیلی اردو) بنگلہ دیشی عدالت نے جبری گمشدگیوں میں ملوث 15 حاضر سروس فوجی افسران کو جیل بھیجنے کا حکم دے دیا ہے۔

 

تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش کے بین الاقوامی جرائم کے ٹریبونل نے جبری گمشدگیوں اور انسانیت کے خلاف دیگر جرائم میں نامزد 15 حاضر سروس فوجی افسران کو گرفتار کر کے جیل بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

 

عدالت نے اخبارات کو ہدایت کی ہے کہ وہ سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ اور دیگر مفرور ملزمان کو عدالت میں پیش ہونے کے لیے نوٹسز شائع کریں۔

 

بدھ کو سماعت کے بعد چیف پراسیکیوٹر تاج الاسلام نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ جیل حکام فیصلہ کریں گے کہ ملزمان کو کس جیل میں رکھا جائے گا۔ چند روز قبل حکومت نے ایک خصوصی حکم نامے کے ذریعے چھاؤنی میں ایک عمارت کو خصوصی جیل کا درجہ دیا تھا، جہاں ممکنہ طور پر یہ افسران رکھا جا سکتے ہیں۔

 

ملزمان کے وکیل، بیرسٹر محمد سرور حسین کا کہنا ہے کہ “ان فوجی افسران نے قانون کے احترام میں عدالت کے سامنے گرفتاری پیش کی ہے۔ وہ بے قصور ہیں، اور یہ بات عدالت میں ثابت ہو جائے گی۔ جنھوں نے یہ جرم کیا وہ انڈیا فرار ہو چکے ہیں۔”

 

ان افسران پر دو جبری گمشدگی کے مقدمات درج ہیں، جبکہ کچھ کو گزشتہ سال جولائی اور اگست میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران قتل کے الزامات کا سامنا بھی ہے۔

 

8 اکتوبر کو ٹریبونل نے ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے، جس کے بعد 11 اکتوبر کو بنگلہ دیش آرمی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ 15 حاضر سروس افسران کو فوجی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

 

عدالت میں پیشی کے بعد ملزمان کے وکیل نے درخواست دی کہ مقدمے کے دوران انہیں فوجی بیرکوں میں قائم ایک سب جیل میں رکھا جائے۔ سپریم کورٹ کے زاہد اقبال نے کہا کہ استغاثہ ممکنہ طور پر ملزمان کو کسی محفوظ مقام پر رکھ کر تفتیش کرنا چاہے گا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C