01/December/2024

بنگلہ دیش میں سب سے زیادہ صحافی رواں برس قتل ہوئے

👁️ 158 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بنگلہ دیش میں سب سے زیادہ صحافی رواں برس قتل ہوئے

بنگلہ دیش میں سب سے زیادہ صحافی رواں برس قتل ہوئے

ڈھاکا (ڈیلی اردو/ڈی ڈبلیو) جولائی میں ڈھاکہ ٹائمز سے وابستہ صحافی مہدی حسن کو اس وقت ہلاک گیا جب وہ بنگلہ دیش کے دارالحکومت میں حکومت مخالف مظاہرے کی کوریج کر رہے تھے ۔ اور اسی روز ایکتور (اکہتر) ٹی وی کی رپورٹر نادیہ شرمین پولیس کی فائرنگ میں زخمی ہو گئیں۔

جولائی میں، خاص طور پر طلبہ کی قیادت میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران، میڈیا سے وابستہ افراد پر حملوں میں خاصا اضافہ دیکھا گیا۔ ان مظاہروں کی شدت نے ملک میں بے چینی کو بڑھا دیا اور وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی برطرفی کا سبب بنی۔

مقامی میڈیا کے مطابق، رواں سال میں اب تک آٹھ صحافی قتل کیے جا چکے ہیں اور سینکڑوں زخمی ہوئے ہیں، جو گزشتہ دہائی میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔

حفاظتی اشیاء اور تربیت کی کمی

رپورٹر نادیہ شرمین کا کہنا ہے کہ ملک گیر کریک ڈاؤن، جس کے دوران وہ زخمی ہوئیں، ان کے کیریئر کا سب سے بھیانک تجربہ تھا۔

انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ “وہ ہر جگہ لوگوں پر گولیاں چلا رہے تھے، میں خوش قسمتی سے محفوظ رہی کیونکہ میرے پاس حفاظتی سامان تھا۔ لیکن مہدی بغیر کسی حفاظتی سامان کے اس پرتشدد مظاہرے کی کوریج کر رہے تھے۔ شاید آج وہ زندہ ہوتے اگر ان کے میڈیا ہاؤس نے انہیں بلٹ پروف جیکٹ اور ہیلمٹ فراہم کیا ہوتا”۔

آزادی صحافت کی حالت مزید خراب

بنگلہ دیش اس وقت عالمی پریس فریڈم انڈیکس میں 180 ممالک میں سے 165ویں نمبر پر ہے، جو کہ ملک کی تاریخ میں سب سے خراب درجہ بندی ہے۔

نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی قیادت میں عبوری حکومت کے اقتدار میں آنے کے باوجود آزادی صحافت میں کوئی بہتری نہیں آئی۔

حکومت مخالف مظاہرین کےخلاف حسینہ حکومت کے کریک ڈاؤن میں مبینہ طور پر مدد فراہم کرنے کے الزام میں کئی صحافیوں کے خلاف قانونی مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ مقدمات شواہد پر مبنی نہیں ہیں اور یہ ایک خطرناک نظیر قائم کر سکتے ہیں۔

عبوری حکومت کے رہنما کے پریس سیکرٹری شفیق العالم نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ حکومت حسینہ مخالف ہنگاموں کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تحقیقات کر رہی ہے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ میڈیا تنظیموں کو صحافیوں کے تحفظ میں اپنے کردار پر غور کرنا چاہیے، خاص طور پر جب وہ تنازعات کے حالات میں رپورٹنگ کر رہے ہوں۔

انصاف کی تلاش، ایک مشکل جدوجہد

مہدی حسن کے والد مشرف حسین نے کہا، “میں اپنے بیٹے کے لیے انصاف چاہتا ہوں۔ اور پولیس کیس درج نہیں کر رہی، حالانکہ عدالت نے انہیں ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ میں پولیس اسٹیشن کم از کم 50 بار گیا، اور انہوں نے مجھے بار بار چکر لگانے پر مجبور کیا۔

سینئر رپورٹر، مسعود کامل، نے کہا کہ بنگلہ دیش کا انصاف کا نظام سیاسی اثرات کی وجہ سے کمزور ہے اور صحافیوں کے خاندان قانونی اخراجات برداشت نہیں کر پاتے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات غیر جانبدار نہیں ہوتیں اور مجرموں کو سزا نہ ملنے کی وجہ سے خوف کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔

کامل کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو، صرف اپنے صحافتی کردار کو نبھانے کے لیے حکومت، میڈیا مالکان، غربت اور جان کے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C