02/September/2022

بونیر میں مسلح طالبان کو کس نے کونسے راستے سے پروٹوکول میں داخل کرایا؟

👁️ 19 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
بونیر میں مسلح طالبان کو کس نے کونسے راستے سے پروٹوکول میں داخل کرایا؟

بونیر میں مسلح طالبان کو کس نے کونسے راستے سے پروٹوکول میں داخل کرایا؟

پشاور (ویب ڈیسک) ایک دہائی سے زائد عرصہ ملاکنڈ ڈویژن میں قیام امن کے بعد ایک بار پھر صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر میں مسلح افراد کی آمد نے خوف کی فضا قائم کر دی۔ مسلح افراد تورغر کے راستے سے بونیر میں داخل ہوئے۔ پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بونیر میں مسلح افراد کے داخلے کی بھی تصدیق کی ہے۔ تاہم پولیس حکام نے متعلقہ افراد کی کسی بھی کالعدم تنظیم سے وابستگی ظاہر کرنے سے معذوری ظاہر کی ہے۔

ضلعی پولیس سربراہ نے علاقہ میں امن و امان صورتحال برقرار رکھنے کیلئے کسی بھی مسلح جتھے کی آزادنہ گھومنے پھرنے پر بھرپور کاروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ بونیر کے علاقوں لنگر کلے، شیر گڑھ، ترینان، اصغر، چروڑئی، کھنڈر اور کٹنئی میں اسلحہ کیساتھ گشت کرنے سے عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ مسلح افراد کی گشت کے خلاف اہل علاقہ نے امن ریلی کا انعقاد کرتے ہوئے امن و امان برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے ودان نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 5 دن سے مسلح جھتے پرامن علاقے بونیر میں داخل ہوچکے ہیں۔ ان افراد کو تورغر کے راستے سے پروٹوکول میں بونیر داخل کرایا گیا۔ ہم حکومت اور ریاست سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ یہاں رات کو مسلح گشت کون کررہا ہے؟ کون انہیں لایا ہے؟ کیوں آئے ہیں؟ بونیر پولیس کو اجازت نہیں کہ وہ ان مسلح افراد کے قریب بھی جائے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ شدت پسندوں کے ساتھی خیبر پختونخوا حکومت میں بیٹھے ہیں۔ یہ لوگ بھتے دے رہے ہیں اور ان مسلح جتھوں کو راستہ بھی اسی حکومت نے دیا ہے۔ امازئی کیساتھ ساتھ شانگلہ، کرم، اورکزئی، باجوڑ سمیت دیگر پشتون علاقوں میں بھی یہ مسلح لوگ پروٹوکول میں داخل کروا دیئے گئے ہیں۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ مندنڑ بونیر میں آواز اٹھانے والا کوئی نہیں تو ہم انہیں کہنا چاہتے ہیں کہ ابھی ہم زندہ ہیں اور میدان میں کھڑے ہیں۔ اگر ہمارے علاقے میں ایک شخص کو بھی نقصان پہنچا تو پوری قوم کو وہ جگہ بتائیں گے۔

ہمیں اپنا مجرم معلوم ہے۔ سردار حسین بابک نے کہا کہ صوبائی حکومت کہاں ہے؟ ان کے ارکان اسمبلی کہاں چپ کر بیٹھے ہیں؟ پشتون قوم واضح طور پر اعلان کرتی ہے کہ یہ ڈرامے اب بند کرنے ہوں گے بصورت دیگر انسانوں کا سمند ر اس کے خلاف نکلے گا۔

بونیر میں امن و امان صورتحال پر ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر عبد الرشید خان کی سربراہی میں بونیر پولیس کا تھانہ نگرئی کے حدود ترینان، ملکا کے متصل پہاڑی سلسلوں میں مسلح افراد کے خلاف سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن کا انعقاد کیا گیا۔ پولیس نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی مسلح جتھے کو حکومتی اداروں کی رٹ چیلنج کرنے اور امن وامان کی صورتحال خراب کرنے کی ہر گز اجازت نہیں دی جائیگی۔

بونیرکے سرزمین پر امن و امان کی فضا کو کسی بھی صورت خراب نہیں ہونے دیں گے۔پولیس انتشار پھیلانے والے عناصر کے مذموم ارادوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ سرچ آپریشن کے بعد علاقہ تھانہ نگرئی کے عمائدین کو بھی اعتماد میں لیا گیا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C