بھارت: دھرم گرو پر کمسن بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات
👁️ 64 بار دیکھا گیا
بھارت: دھرم گرو پر کمسن بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات
نئی دہلی (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے) جنوبی ریاست کرناٹک میں سیاسی لحاظ سے انتہائی اہم لنگایت کمیونٹی کے ایک دھرم گرو کو دو کمسن لڑکیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں حراست میں لینے کے فوراً بعد ہی رہا کر دیا گیا۔
جنوبی ریاست کرناٹک کے چتردرگا میں واقع انتہائی اہمیت کے حامل مروگا مٹھ (آشرم) کے چیف اور لنگایت فرقے کے مذہبی رہنما شیوامورتی شرنارو کو پیر 29 اگست کو اس وقت حراست میں لے لیا گیا جب وہ کرناٹک سے مبینہ طور پر فرار ہو کر پڑوسی ریاست مہاراشٹر کی طرف جا رہے تھے۔ حالانکہ شرنارو نے اس کی تردید کی ہے۔
اطلاعات کے مطابق پولیس کے اصرار پر دھرم گرو شیوا مورتی شرنارو چتردرگا میں اپنے مروگا آشرم میں واپس لوٹ آئے۔ جہاں انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا، “وہ مفرور ہونے کی کوشش نہیں کر رہے تھے۔ وہ ملک کے قانون کا احترام کرتے ہیں اور پولیس کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔” انہوں نے اپنے اوپر عائد الزامات کی بھی تردید کی۔
بی جے پی حکومت والی کرناٹک میں اگلے برس اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔
کیا ہیں الزامات؟
لنگایت فرقے کا کرناٹک اور اطرف میں خاصا سیاسی اور سماجی اثر ورسوخ ہے۔ شرنارو جس مروگا آشرم کے چیف ہیں، اس کے تحت 150 سے زائد روحانی اور تعلیمی ادارے کام کرتے ہیں۔
ان کے زیرانتظام چلنے والے ایک ادارے میں زیر تعلیم 15 اور 16 برس کی دو لڑکیوں نے شرنارو پر گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل جنسی استحصال کرنے کے الزامات لگائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شرنارو انہیں مختلف بہانے سے اپنے مخصوص کمرے میں بلاتے تھے اور ان کا جنسی استحصال کرتے تھے۔ ایک لڑکی کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ پچھلے ساڑھے تین برس سے جب کہ دوسری لڑکی کا کہنا ہے کہ ڈیڑھ برس سے جنسی استحصال کیا جا رہا تھا۔
انہوں نے ایک مقامی این جی او ‘اوداندی’ کے عہدیداروں کو اپنی کہانی سنائی، جس نے چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کے ساتھ مل کر پولیس میں اس کی باضابطہ شکایت درج کرائی۔اس کیس میں ہوسٹل کے وارڈن سمیت چار دیگر افراد کو بھی ملزم بنایا گیا ہے۔
‘اوداندی’ کے سربراہ کے وی اسٹینلی کا کہنا ہے، “یہ صرف دو لڑکیوں کا مسئلہ نہیں ہے۔ ادارے میں زیر تعلیم دیگر لڑکیوں کو بھی ہراساں کیے جانے کی خبریں ہیں۔ ہم بچیوں کے حوالے سے فکرمند ہیں۔”
لنگایت کمیونٹی کون ہیں؟
کرناٹک میں لنگایت کمیونٹی سیاسی لحاظ سے کافی طاقت ور ہے۔ ریاست کی مجموعی آبادی میں ان کا حصہ 17 فیصد ہے اور 224 اسمبلی سیٹوں میں سے تقریباً 100 پر ان کے پاس ہیں۔ اس فرقے سے تعلق رکھنے والے 9 افراد کرناٹک کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں۔
لنگایت کمیونٹی کو گوکہ عام طور پر ہندوؤں کا ہی ایک فرقہ سمجھا جاتا ہے تاہم یہ گروپ خود کو ہندوؤں سے الگ قرار دیتا ہے۔ یہ ہندوؤں کے روایتی پوجا کو تسلیم نہیں کرتے اور بارہویں صدی کے سنت فلسفی باسوونا کی تعلیمات پر عمل کرتا ہے۔ آر ایس ایس جیسی تنظیمیں لنگایت کو ہندو دھرم کا حصہ بنانے کی مہم چلاتی رہی ہیں لیکن لنگایت فرقے سے اس کی مخالفت بھی ہوتی رہی ہے۔
سیاسی لحاظ سے ان کی اہمیت کے مدنظر تمام سیاسی جماعتیں ان سے اچھے تعلقات بنانے کی کوشش کرتی رہتی ہیں۔ کانگریس کے رہنما راہول گاندھی بھی شرنارو کا آشیر واد لینے کے لیے اس ماہ کے اوائل میں مروگا آشرم گئے تھے۔
Rahul Gandhi with Lingayat Seer Shivamurthy accused Child Rapist & detained by Karnataka Police. pic.twitter.com/z4xFyaUmic
— Sarcastic (@AAAyokobo) August 29, 2022
شرناروکے کیس پر بی جے پی میں اختلافات
شرنارو کے خلاف بچوں کے جنسی استحصال کے حوالے سے پوسکو قانون اور اغوا کے تحت کیس درج کیا گیا ہے۔ لیکن اس پر ریاست کی حکمراں ہندو قوم پرست جماعت بی جے پی میں اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔
ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اور بی جے پی کے سینیئر رہنما بی ایس یدیورپا نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا، “یہ ایک سازش ہے، تفتیش ہو رہی ہے اور سچائی سامنے آجائے گی۔”
لیکن بی جے پی کے رکن پارلیمان لہر سنگھ سرویا نے ملزم کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا، “ایسے سنگین واقعات جب بھی ہمارے سامنے آتے ہیں تو ہمارے اپنے افراد اور ہمارے اطراف پر سے ہمارا یقین متزلزل ہوجاتا ہے۔” انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت ہو تو اس کیس کو کرناٹک سے باہر کسی دوسری ریاست میں منتقل کیا جائے۔
وزیر اعلی باسوراج بومئی کا کہنا تھا، “پولیس تفتیش کررہی ہے۔ اس لیے فی الحال کچھ کہنا مناسب نہیں۔ پولیس تفصیلی جانچ کرے گی اور حقیقت سامنے آجائے گی۔”
کانگریس پارٹی کے ریاستی ترجمان ڈاکٹر شنکر گوہا نے کہا کہ ریاست میں انتخابات ہونے والے ہیں اس لیے اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
کرناٹک میں اگلے برس اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں اور تمام سیاسی جماعتیں لنگایت کمیونٹی کو اپنی جانب راغب کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکن راگھوویندرا کا کہنا ہے کہ مروگا آشرم کے چیف کے ساتھ وی وی آئی پی جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس لیے ہمیں کرناٹک پولیس پر اعتماد نہیں ہے۔
بھارت میں مختلف دھرم گروؤں پر خواتین کے ساتھ جنسی استحصال اور ریپ کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں۔ اس وقت بھی کئی معروف دھرم گرو اور سنت مختلف الزامات کے تحت جیلوں میں بند ہیں۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
امریکہ نے ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان کر دیا
19/June/2026 👁️ 2 بار دیکھا گیا
ایرانی سپریم لیڈر نے امریکہ سے براہِ راست مذاکرات کی اجازت دے دی
19/June/2026 👁️ 3 بار دیکھا گیا
باجوڑ: دہشت گردوں نے گرلز ہائی اسکول کو بارودی مواد سے اڑا دیا
19/June/2026 👁️ 3 بار دیکھا گیا
ایران نے معاہدہ توڑا تو فوجی کارروائی اور بحری ناکہ بندی دوبارہ ہوگی، امریکی وزیر دفاع
19/June/2026 👁️ 2 بار دیکھا گیا
لکی مروت میں پولیس چیک پوسٹ پر کواڈ کاپٹر حملہ، 3 اہلکار زخمی
19/June/2026 👁️ 4 بار دیکھا گیا
لبنان میں اسرائیلی کارروائی میں تین افراد ہلاک
18/June/2026 👁️ 14 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8835 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4576 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3279 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2460 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2102 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1906 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C