23/January/2026

جرمن تارکینِ وطن کو تیسرے ممالک بھیجنے پر غور، یورپ میں امیگریشن پالیسیاں مزید سخت

👁️ 248 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
جرمن تارکینِ وطن کو تیسرے ممالک بھیجنے پر غور، یورپ میں امیگریشن پالیسیاں مزید سخت

جرمن تارکینِ وطن کو تیسرے ممالک بھیجنے پر غور، یورپ میں امیگریشن پالیسیاں مزید سخت

برلن (ڈیلی اردو/ ڈی پی اے)  جرمنی ان یورپی ممالک کے ایک گروپ میں شامل ہو رہا ہے جو تارکین وطن کے لیے ریٹرن ہب قائم کرنے اور انہیں کسی تیسرے ملک میں ڈی پورٹ کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

 

قبرص میں یورپی یونین کے وزرائے داخلہ کے اجلاس کے موقع پر ہونے والی بات چیت کے بعد، جرمنی کے وزیر داخلہ آلیکسزانڈر ڈوبرینڈٹ نے کہا کہ یہ گروپ آئندہ ہفتوں میں ایک روڈ میپ تیار کرنے اور آئندہ کے  عملی اقدامات طے کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ان کے مطابق، مقصد یہ ہے کہ رواں سال کے آخر تک ''تھرڈ کنٹریز‘‘ کے ساتھ ممکنہ معاہدوں تک پہنچا جائے۔

 

ڈوبرینٹ نے بتایا کہ اس اقدام میں آسٹریا، ڈنمارک، نیدرلینڈز اور یونان بھی شامل ہیں اور بعد ازاں دیگر ممالک کو بھی اس میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپی کمیشن س عمل میں قریبی طور پر شامل ہے، تاہم سیاسی ذمہ داری شریک رکن ممالک ہی کی رہے گی۔

 

جرمنی سے ڈی پورٹیشنز میں نمایاں اضافہ

 

ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران جرمنی سے بے دخلیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

 

وفاقی وزارت داخلہ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے جرمن اخبار ڈی ویلٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ 2025 میں جرمنی سے تقریباً 23 ہزار افراد کو ڈی پورٹ کیا گیا، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 15 فیصد زیادہ ہے۔ 2023 کے مقابلے میں یہ اضافہ 45 فیصد بنتا ہے۔

 

ڈوبرینڈٹ کے مطابق امیگریشن پالیسی میں تبدیلی جاری ہے: ''زیادہ تعداد میں جلاوطنی، کشش میں کمی کے عوامل اور موثر کنٹرولز کے ذریعے ہم امیگریشن پالیسی میں نظم و ضبط لا رہے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C