04/October/2025

حریت یا غداری؟ یاسین ملک پر "بھارتی ایجنٹ" ہونے کے الزامات نے ہلچل مچا دی

👁️ 501 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
حریت یا غداری؟ یاسین ملک پر "بھارتی ایجنٹ" ہونے کے الزامات نے ہلچل مچا دی

حریت یا غداری؟ یاسین ملک پر "بھارتی ایجنٹ" ہونے کے الزامات نے ہلچل مچا دی

واشنگٹن (ش ح ط) قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ میں شائع رپورٹ کے مطابق، معروف کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کے بارے میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا وہ درحقیقت بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے اثاثے تھے۔ اس سلسلے میں یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ میں اپنے شوہر کو پھنسانے کی شدید مذمت کرتی ہوں۔ انہیں ’’ہندوستان کا اثاثہ‘‘ قرار دینا نہ صرف گمراہ کن ہے بلکہ ان کی زندگی بھر کی قربانیوں کے ساتھ سنگین ناانصافی ہے۔ مشعال ملک نے مزید کہا کہ یہ دعویٰ غلط تاثر پیدا کرتا ہے کہ یاسین ملک کشمیری عوام کے بجائے بھارت کے کہنے پر کام کر رہے ہیں، جو کہ انتہائی متعصبانہ اور بے بنیاد ہے۔

 

حلف نامے کے دعوے

 

الجزیرہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی عدالت میں یاسین ملک نے مبینہ طور پر 84 صفحات پر مشتمل بیان حلفی جمع کرایا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے متعدد بھارتی وزرائے اعظم اور انٹیلی جنس ایجنٹوں کے ساتھ کام کیا، جو امن کے لیے پاکستانی مسلح گروپوں سے ملاقاتوں میں سہولت فراہم کرتے رہے۔

 

یاسین ملک کی ساکھ ایک حریت رہنما کی ہے جو فی الحال نئی دہلی کی جیل میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ بھارت کی سیکورٹی سروسز اور حکومتی اسٹریٹجک حلقوں میں انہیں اکثر ایک "ولن" کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جبکہ پاکستان میں بھی ان پر مکمل اعتماد نہیں کیا جاتا۔

 

بھارتی حکام اور تجزیہ کاروں کا ردعمل

 

بیان حلفی کے کچھ مندرجات بھارتی سرکاری حکام اور تجزیہ کاروں کے مطابق درست ہو سکتے ہیں۔ ملک کے دعوے میں سب سے حیران کن سوال یہ ہے کہ کیا وہ درحقیقت بھارتی انٹیلی جنس کا اثاثہ تھے؟ 

 

ملک نے اپنے حلف نامے میں دعویٰ کیا ہے کہ 1990 کی دہائی سے، جب کشمیر میں نوجوان کشمیریوں کی مسلح بغاوت عروج پر تھی، وہ تنازعے کے حل کے لیے بھارتی حکومت کے اعلیٰ حکام کے ساتھ رابطے میں رہے۔

 

ملک نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے متعدد بھارتی وزرائے اعظم، وفاقی وزراء، بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سربراہان، آر ایس ایس کے ارکان اور دو ممتاز ہندو مذہبی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، جو سری نگر میں ان کی رہائش گاہ پر متعدد بار آئیں۔

 

اہم ملاقاتیں اور اقدامات

 

ملک کے مطابق، 2006 میں لشکر طیبہ کے بانی حافظ سعید سے ملاقات بھارتی انٹیلی جنس (IB) نے کرائی تھی۔ اس ملاقات کا مقصد حافظ سعید کو مسلح جدوجہد ترک کرنے اور ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرنا تھا۔

 

حلف نامے کی پس منظر

 

یاسین ملک نے یہ حلف نامہ اس وقت دائر کیا جب بھارت کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) نے ان کی سزا بڑھا کر موت کی سزا دینے کی کوشش کی۔ ملک نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ غیر مسلح جدوجہد کی اور بھارتی حکومت کے ساتھ تعاون کیا، اور ان کے خلاف مقدمات کو اب سیاسی مقاصد کے لیے غلط انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔

 

ردعمل

 

یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے اس بیان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ سابق بھارتی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے حکومت سے رحم کی اپیل کی ہے۔ سیکیورٹی ماہر اجائے سہنی کے مطابق ملک نے دونوں جانب سے فائدہ اٹھایا، جبکہ صحافی وکرم جیت سنگھ کے مطابق یہ دعوے "قابل یقین" لگتے ہیں اور دکھاتے ہیں کہ حکومتیں امن کے لیے غیر روایتی ذرائع استعمال کرتی ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C