07/September/2022

خیبر میں شدت پسند کے حملوں میں اضافہ، ایک اہلکار ہلاک، دوسرا زخمی

👁️ 19 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
خیبر میں شدت پسند کے حملوں میں اضافہ، ایک اہلکار ہلاک، دوسرا زخمی

خیبر میں شدت پسند کے حملوں میں اضافہ، ایک اہلکار ہلاک، دوسرا زخمی

باڑہ (ڈیلی اردو/ٹی این این) صوبہ خیبر پختون خواہ کے قبائلی ضلع خیبر کے علاقے وادی تیراہ برقمبر خیل میں نامعلوم موٹرسائیکل سواروں کی فائرنگ سے سیکورٹی فورسز کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا۔ خیبر پختونخوا میں کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) پولیس اور سیکورٹی فورسز پر ہونے والے حملوں کی ذمے داری قبول کرنے کے ساتھ حکومت سے جنگ بندی کے معاہدے پر قائم رہنے کا دعویٰ بھی کر رہی ہیں۔

پولیس کے مطابق تیراہ کے علاقے برقمبر خیل میں خوجلخیل 235 ونگ کی چیک پوسٹ پر سیکورٹی پر مامور اہلکار شاہ جہان پر مسلح موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کر دی جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا، اسے طبی امداد کیلئے تیراہ بریگیڈ اور بعد ازاں ہیلی کاپٹر کے ذریعے سی ایم ایچ منتقل کر دیا گیا تاہم طبی امداد کے دوران شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

واقعے کی اطلاع تیراہ بریگیڈ کو ملتے ہی سیکورٹی فورسز کا قافلہ جائے وقوعہ کیلئے روانہ ہوا اور جیسے ہی وہ ملک دین خیل کے علاقہ شمشے پہنچا تو اس دوران نامعلوم شرپسندوں کی جانب سے پہلے سے نصب شدہ بم اچانک دھماکے سے پھٹ گیا تاہم دھماکے سے سیکورٹی فورسز کا قافلہ محفوظ رہا۔ تاہم گاڑی کو نقصان پہنچا۔

بم دھماکے کے بعد مقامی پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا تاہم تاحال کسی قسم کی گرفتاری کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔

ادھر خیبر رائفل 103 ونگ کے سندانہ چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کے حملے میں عجب نور محسود نامی سپاہی شدید زخمی ہوگیا۔

طالبان ترجمان محمد خراسانی نے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ شب اورکزئی ایجنسی کے ”سمہ بازار“ کے قریب فوج نے ان کے جنگجوں پر حملہ کرنے کیلئے گھات لگائی تھی ـ جنگجوں کو بر وقت گھات کی خبر موصول ہوئی اور جوابی حملے کا منصوبہ بناکر کامیابی سے حملہ انجام دیاـ

خراسانی نے مزید کہا کہ مذکورہ جھڑپ کئی گھنٹوں تک جاری رہی جسمیں متعدد فوجی اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے اور ان کے ساتھی فوج کے حصار توڑ کر نکلنے میں کامیاب ہوگئے ـ

ابھی تک فوج اور ضلعی انتظامیہ نے باقاعدہ طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ہےـ

خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں شدت پسندوں کی جانب سے کارروائیوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے، گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اورکزئی، چارسدہ، پشاور، ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں اور لکی مروت میں سیکورٹی فورسز بالخصوص پولیس فورس پر حملے کئے گئے جن میں دوران چھ سے زائد پولیس اہلکار ہلاک اور کئی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) گزشتہ چند روز کے دوران کی جانے والی اپنی کارروائیوں کو ‘دفاعی حملوں’ کا نام دے رہی ہے۔

ٹی ٹی پی نے ایک بیان میں اعتراف کیا ہے کہ پیر کو سیکیورٹی فورسز کے چھاپے کے دوران ان کے دو جنگجو مارے گئے تھے جب کہ پاکستان فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) نے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں جھڑپ کے دوران کیپٹن سمیت پانچ اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

شمالی وزیرستان میں یہ جھڑپ ایسے موقع پر ہوئی ہے جب فریقین نےجون میں غیر معینہ مدت تک جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔ لیکن اسی دوران ایک دوسرے پر حملوں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C