23/May/2026

دوبارہ جنگ ہوئی تو جواب ’زیادہ تباہ کن‘ ہو گا، ایران

👁️ 460 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
دوبارہ جنگ ہوئی تو جواب ’زیادہ تباہ کن‘ ہو گا، ایران

دوبارہ جنگ ہوئی تو جواب ’زیادہ تباہ کن‘ ہو گا، ایران

تہران (ڈیلی اردو) ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے ہفتے کے روز خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے ایران کے خلاف دوبارہ جنگی کارروائیاں شروع کیں تو اسے ’’انتہائی تباہ کن‘‘ جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ 

 

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب امریکی میڈیا میں ایران پر نئے حملوں کے امکانات کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔

 

دوسری جانب پاکستان فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر، جو آٹھ اپریل کی جنگ بندی کو مستقل معاہدے میں تبدیل کرنے کی سفارتی کوششوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، تہران میں ایرانی حکام سے ملاقاتوں کے بعد ہفتے کے دن وطن واپس روانہ ہو گئے۔ ایرانی حکام نے امریکہ پر ’’ضرورت سے زیادہ مطالبات‘‘ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

 

قالیباف نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا، ’’ہماری مسلح افواج نے جنگ بندی کے دوران خود کو اس انداز میں دوبارہ منظم کیا ہے کہ اگر ٹرمپ نے دوبارہ کوئی حماقت کی اور جنگ شروع کی تو اس کا جواب امریکہ کے لیے جنگ کے پہلے دنوں کی نسبت کہیں زیادہ سخت اور تلخ ہو گا۔‘‘

 

امریکی میڈیا اداروں ایکسیوس اور سی بی ایس نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس ایران پر دوبارہ حملوں پر غور کر رہا ہے۔

 

قالیباف نے یہ انتباہ تہران میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کے بعد دیا۔ عاصم منیر ان بین الاقوامی کوششوں میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں، جن کا مقصد اس جنگ کا خاتمہ ہے، جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی۔ 

 

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر جمعہ کو تہران پہنچے تھے۔

امریکی حکام بارہا کہہ چکے ہیں کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ایران کے خلاف دوبارہ کارروائی کی جا سکتی ہے۔ 

 

حال ہی میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سویڈن میں نیٹو کانفرنس کے موقع پر کہا کہ پرامن حل کی جانب “کچھ پیش رفت” ضرور ہوئی ہے لیکن ’’معاملات ابھی حتمی مرحلے تک نہیں پہنچے۔‘‘

 

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیریش سے گفتگو میں کہا کہ تہران سفارتی عمل میں شامل ہے، باوجود اس کے کہ امریکہ ’’بار بار سفارت کاری سے دھوکا، فوجی جارحیت، متضاد مؤقف اور حد سے زیادہ مطالبات‘‘ کر رہا ہے۔

 

ارنا کے مطابق عراقچی نے ترکی، عراق، قطر اور عمان کے وزرائے خارجہ سے بھی متعدد سفارتی رابطے کیے۔

 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے بھی گفتگو کی۔ 

 

قطری حکام کے مطابق امیر قطر نے ٹرمپ کو بتایا کہ وہ ’’مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے بحران کو محدود کرنے کی تمام کوششوں‘‘ کی حمایت کرتے ہیں۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C