روس مغربی اتحاد کیلئے ’براہ راست خطرہ‘ ہے، نیٹو
👁️ 26 بار دیکھا گیا
روس مغربی اتحاد کیلئے ’براہ راست خطرہ‘ ہے، نیٹو
برسلز (ڈیلی اردو/ڈی پی اے/نیوز ایجنسیاں) نیٹو نے روس کو اتحادی طاقتوں کے لیے ‘ایک براہ راست خطرہ‘ قرار دیتے ہوئے کییف کو فوجی سازوسامان فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا۔ روس کی طاقتور فوج کے خلاف کامیاب مزاحمت پر یوکرینی فوجیوں کی دلیری کو سراہا جا رہا ہے۔
❝Russia’s withdrawal from Kherson demonstrates the incredible courage of the Ukrainian armed forces… it also shows the importance of our continued support to Ukraine????????❞@jensstoltenberg | #NATO
— NATO (@NATO) November 14, 2022
امریکہ نے یوکرین کے لیے اضافی 725 ملین ڈالر کی فوجی امداد کا اعلان کیا ہے۔ یہ امداد ایک ایسے وقت میں منظور کی گئی ہے، جب روسی افواج کی طرف سے یوکرین میں بہیمانہ میزائل حملوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ ان راکٹ حملوں سے بچنے کی خاطر یوکرین کی کوشش ہے کہ اسے ایک مضبوط میزائل دفاعی نظام فراہم کیا جائے۔
#NATO Military Staff welcomes Ukrainian cadets, building awareness of the partnership between NATO and Ukraine ????????
More information: https://t.co/rWy1fumXJx pic.twitter.com/8kTv9kFihp
— NATO (@NATO) November 15, 2022
یوکرین جنگ شروع ہونے کے بعد سے واشنگٹن حکومت یوکرین کو 18.3 بلین ڈالر کی فوجی مدد دینے کا اعلان کر چکی ہے۔ مغربی دفاعی اتحاد نے خبردار کر رکھا ہے کہ یوکرین میں حملے کے نتیجے میں روس دراصل پورے مغربی اتحاد کے لیے ایک ‘براہ راست خطرہ‘ بن چکا ہے۔
اس تناظر میں امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین روس کی طاقتور فوج کا مقابلہ کرنے کی خاطر یک جا ہیں اور وہ یوکرینی فوجیوں کو جدید عسکری سازوسامان فراہم کرنے کےعلاوہ انہیں تربیت بھی فراہم کر رہے ہیں۔ نیٹو کا کہنا ہے کہ روسی جارحیت کی وجہ سے شروع ہونے والی جنگ طویل ثابت ہو گی۔
میزائلوں کی بارش
کریمیا کو روس کے مرکزی علاقے سے ملانے والے پل پر ہوئے دھماکے کو یوکرینی دہشت گردانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے روسی صدر نے یوکرین بھر میں میزائل حملے شروع کر رکھے ہیں۔ اس دوران کییف سمیت دیگر شہری علاقوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
امریکی وزریر خارجہ انٹونی بلنکن نے دعویٰ کیا ہے ایسے شواہد ملے ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ روسی افواج یوکرین جنگ میں اپنی کارروائیوں کے دوران ظلم و جبر کی مرتکب ہوئی ہیں۔
دریں اثنا روسی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ دونٹسک ریجن کے صنعتی شہر باخموٹ کے قریب پہنچ گئی ہیں۔ یوکرینی فوج کے مطابق اس محاذ پر روسی عسکری جارحیت کا بھرپور جواب دیا جا رہا ہے۔
مقدس جنگ کا بیانیہ
روسی آرتھوڈکس چرچ کے سربراہ پیٹرک کیریل کی طرف سے روسی جارحیت کو ایک ‘مقدس جنگ‘ قرار دیے جانے پر جرمن شہر میونخ کے کارڈینینل رائنہارڈ مارکس نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے اس جنگ کو مذہبی رنگ دینے پر مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کیریل کے نزدیک ‘مقدس جنگ‘ کا جو نظریہ ہے، وہ دیگر مسیحیوں کے مقابلے میں انتہائی مختلف ہے۔
جرمن روزنامے ویلٹ ام زونٹاگ سے گفتگو میں مسیحی مذہبی رہنما مارکس نے یوکرین کو فوجی سازوسامان فراہم کیے جانے پر جرمنوں کی منقسم رائے پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت یوکرین کی فوجی مدد دراصل بڑی برائی کے مقابلے میں ایک چھوٹی برائی ہے، انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں یہی ایک مناسب آپشن بچتا ہے۔
روس کو اسلحہ نہیں بھیجا، ایران
ایرانی وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان نے ایسی خبروں کو مسترد کر دیا ہے کہ تہران حکومت روس کو اسلحہ ارسال کر رہی ہے۔ یورپین یونین کے خارجہ امور کے چیف جوزف بوریل سے ٹیلی فونک گفتگو میں انہوں نے واضح کیا کہ ان کی حکومت یوکرین جنگ کے کسی فریق کو بھی عسکری مدد فراہم نہیں کر رہی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ایران اس مسلح تنازعے کا پر امن حل چاہتا ہے۔ واضح رہے کہ کییف حکومت نے الزام عائد کیا ہے کہ روسی افواج ایران میں بنائے گئے ڈرون طیارے بھی استعمال کر رہی ہیں۔ اس الزام کے بعد یوکرین نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات میں بھی سرد مہری دکھانا شروع کر دی ہے۔
‘کوئی افسوس نہیں‘، پوٹن اپنے مؤقف پر برقرار
روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے نے کہا ہے کہ یوکرین جنگ کے دوران وہ درست اقدامات کر رہے ہیں۔ 24 فروری سے جاری اس جنگ میں کئی مقامات پر روسی فورسز کو پسپائی ہوئی ہے لیکن پوٹن کا کہنا ہے کہ وہ اپنی عسکری حکمت عملی میں کامیاب رہے ہیں۔
پوٹن کا کہنا ہے کہ اب یوکرین میں مزید بڑے پیمانے پر حملے نہیں کیے جائیں گے کیونکہ وہ اپنے اس ہمسایہ ملک کو تباہ نہیں کرنا چاہتے۔ تاہم اس کے باوجود ایسی خبریں ہیں کہ روسی افواج یوکرین میں شہری مقامات کو بھی نشانہ بنانے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کر رہیں۔
روسی صدر نے نارتھ اسٹریم 2 گیس پراجیکٹ کو منسوخ کرنے پر بھی جرمنی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ یوکرین پر روسی حملے کی وجہ سے برلن حکومت نے اس منصوبے کو ختم کر دیا تھا۔
تاہم پوٹن نے کہا کہ یوکرین جنگ میں جرمنی نے نیٹو کا ساتھ دے کر ‘غلطی‘ کی ہے۔ قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں صحافیوں سے گفتگو میں انہوں نے مزید کہا کہ قومی مفاد پر نیٹو اور یورپی سلامتی کو ترجیح دینا جرمنی کی غلطی تھی۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
طالبان نے افغانستان میں چھوٹی داڑھی پر امدادی کارکن گرفتار کر لیے
23/June/2026 👁️ 109 بار دیکھا گیا
امریکہ نے ایرانی تیل کی برآمدات پر عارضی پابندیاں نرم کر دیں، 60 روزہ لائسنس جاری
23/June/2026 👁️ 80 بار دیکھا گیا
ایران میں کریک ڈاؤن، “دشمن سے تعاون” کے الزام میں 3 ہزار سے زائد گرفتاریاں
23/June/2026 👁️ 243 بار دیکھا گیا
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ کو عمر قید
23/June/2026 👁️ 90 بار دیکھا گیا
ماسکو پر 60 ڈرون حملے ناکام، یوکرین میں روسی حملوں سے 5 افراد ہلاک
23/June/2026 👁️ 194 بار دیکھا گیا
لبنان میں حزب اللہ کا اسرائیل کے خلاف دفاعی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان
23/June/2026 👁️ 197 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8849 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4608 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3300 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2470 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2123 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1917 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C