17/May/2025

روس-یوکرین جنگ: استنبول میں مذاکرات کا آغاز، ایک ہزار قیدیوں کی رہائی پر اتفاق

👁️ 116 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
روس-یوکرین جنگ: استنبول میں مذاکرات کا آغاز، ایک ہزار قیدیوں کی رہائی پر اتفاق

روس-یوکرین جنگ: استنبول میں مذاکرات کا آغاز، ایک ہزار قیدیوں کی رہائی پر اتفاق

استنبول (ڈیلی اردو) یوکرین اور روس نے تین سال سے جاری جنگ کے بعد پہلی بار باضابطہ مذاکرات کا آغاز کرتے ہوئے ایک اہم پیش رفت کی ہے۔ جمعے کو ترکی کے شہر استنبول میں ہونے والے اس اجلاس میں دونوں فریقوں نے ایک دوسرے کے ایک ہزار جنگی قیدیوں کو رہا کرنے پر اتفاق کر لیا۔

مارچ 2022 کے بعد پہلی بار یوکرینی اور روسی وفود آمنے سامنے ہوئے، تاہم ملاقات کا آغاز رسمی مصافحے کے بغیر ہوا۔ یوکرینی وفد کے بیشتر اراکین نے فوجی وردیاں پہن رکھی تھیں تاکہ یہ باور کروایا جا سکے کہ ان کا ملک اب بھی روسی حملے کی زد میں ہے۔

ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے فریقین کو خبردار کیا کہ “یہاں سے دو راستے نکلتے ہیں: ایک امن کی جانب، دوسرا مزید ہلاکتوں اور تباہی کی طرف۔”

جنگ بندی پر ڈیڈلاک، قیدیوں کی رہائی پر اتفاق

اگرچہ ابتدائی بات چیت دو گھنٹے سے بھی کم جاری رہی اور جلد ہی شدید اختلافات سامنے آ گئے، لیکن دونوں ممالک نے 1000 جنگی قیدیوں کے تبادلے پر رضامندی ظاہر کی۔ یوکرینی وزیر دفاع رستم عمروف نے بتایا کہ تبادلے کی تاریخ طے پا چکی ہے تاہم اس کا اعلان فی الحال نہیں کیا جائے گا۔

یوکرین کے نائب وزیر خارجہ سرہی کیسلیٹس نے اس پیش رفت کو “مشکل دن کا اچھا اختتام” قرار دیا اور کہا کہ یہ خبر ایک ہزار یوکرینی خاندانوں کے لیے راحت کا سبب بنے گی۔

روسی مطالبات اور خدشات

یوکرینی اہلکاروں کے مطابق روس نے بات چیت کے دوران “نئے اور ناقابل قبول مطالبات” پیش کیے، جن میں کیئو سے اپنے زیرقبضہ علاقوں سے فوجی انخلا کی شرط بھی شامل تھی۔ جنگ بندی کے حوالے سے کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہو سکی۔

روسی وفد کے سربراہ ولادیمیر میڈنسکی، جو صدر پوتن کے معاون بھی ہیں، نے کہا کہ ان کا وفد مذاکرات سے مطمئن ہے اور رابطے جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔ تاہم یوکرین اور اس کے کچھ مغربی اتحادیوں کو خدشہ ہے کہ روس یہ بات چیت صرف وقت حاصل کرنے، سفارتی دباؤ کم کرنے اور یورپی پابندیوں کے نئے دور کو روکنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔

“اصل بات چیت پوتن اور میرے درمیان ہو گی” ٹرمپ

ادھر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس عمل کو کم اہمیت دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ جب تک ان کی اور صدر پوتن کی براہ راست ملاقات نہیں ہوتی، تب تک کوئی بڑی پیش رفت ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا، “جب تک پوتن اور میں اکٹھے نہیں ہو جاتے، کچھ نہیں ہوگا۔”

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے بھی اس بات کی تائید کی ہے کہ سربراہی اجلاس کی ضرورت ہے، لیکن اس کی تیاری میں وقت لگے گا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C