سرینگر: جنگجو تنظیم کی دھمکی کے بعد کشمیری صحافیوں کا استعفی
👁️ 107 بار دیکھا گیا
سرینگر: جنگجو تنظیم کی دھمکی کے بعد کشمیری صحافیوں کا استعفی
نئی دہلی (ڈیلی اردو/ڈوئچے ویلے) بھارتی کشمیر میں ایک عرصے سے سکیورٹی فورسزکے دباو کا سامنا کرنے والے صحافیوں کو اب جنگجو تنظیموں کی جانب سے اپنی جان کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ ایک جنگجو تنظیم کی جانب سے دھمکی کے بعد پانچ کشمیری صحافیوں نے استعفی دے دیے۔
ایک عسکریت پسند تنظیم ‘دی ریزسسٹنس فرنٹ’ (ٹی آر ایف) کی طرف سے ایک درجن سے زائد صحافیوں پر سکیورٹی فورسز کا مخبر ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کے نام شائع کر دینے کے بعد’ رائزنگ کشمیر’ اور دیگر مقامی اخبارات کے لیے کام کرنے والے پانچ صحافیوں نے اپنی ملازمت سے استعفی دے دیا ہے۔
جموں و کشمیر پولیس کا کہنا ہے کہ ان دھمکیوں کے پیچھے مبینہ طور پر ٹی آر ایف کا ہاتھ ہے جو عسکریت پسند تنظیم لشکر طیبہ کی ایک شاخ ہے۔ ٹی آر ایف نے صحافیوں کو یہ دھمکی ٹیلی گرام اور وہاٹس ایپ جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کے ذریعہ دی۔ یہ دھمکی ایک بلیک لسٹ ویب سائٹ ‘کشمیر فائٹ ڈاٹ کوم’ پر بھی شائع کی گئی ہے۔
ٹی آر ایف نے جو فہرست شائع کی ہے ان میں صحافیوں کو “پولیس، فوج اور خفیہ ایجنسیوں کا ایجنٹ” بتایا گیا ہے۔ فہرست میں جن 12 صحافیوں کے نام درج ہیں ان میں کئی چیف ایڈیٹر جیسے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں اور مشہور ہیں۔ انہیں پولیس کی سکیورٹی بھی حاصل ہے۔
تاہم کئی ایسے صحافی بھی ہیں جو نہ تو اونچے عہدوں پر فائز ہیں اور نہ ہی مشہور ہیں۔ ان میں سے کئی ایک نے تو کشمیر میں عسکریت پسندی یا فوج اور سیاست کے متعلق کبھی کچھ لکھا بھی نہیں ہے۔
I announce my resignation from Reporter's position and disassociation from Media House Rising Kashmir W.E.F from today 14 Nov 2022. pic.twitter.com/uOzc8R6yvC
— Jahangir Sofi (@JahangirSofi4) November 14, 2022
اپنا نام شائع نہ کرنے کی شرط پر ایک کشمیری صحافی نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے کہ چیف ایڈیٹرز کے علاوہ دیگر صحافیوں کو بھی نشانہ بنانے کے پیچھے عسکریت پسند تنظیم کا مقصد ان اخبارات کو پوری طرح ‘معذور’ بنا دینا ہو۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کشمیر میں سن 2019 میں جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دیے جانے کے بعد یہاں کے دو معروف اخبارات پوری طرح خفیہ ایجنسیوں کے کنٹرول میں ہیں۔ انہیں بڑی تعداد میں سرکاری اشتہارات ملتے ہیں اور یہ تقریباً صرف اور صرف سرکار کا موقف ہی شائع کرتے ہیں۔ ان میں حکومت کی نکتہ چینی کو کوئی جگہ نہیں دی جاتی۔ اور ان کے مالکان اور چیف ایڈیٹرز کو زبردست سکیورٹی بھی فراہم کی گئی ہے۔
کشمیر پولیس کا بیان
بھارتی میڈیا کے مطابق صحافیوں کو دھمکی دیے جانے کے بعد سری نگر پولیس نے ٹی آر ایف کے خلاف غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام قانون کی مختلف دفعات کے تحت کیس درج کیا ہے۔
بھارتی پولیس کے مطابق یہ ویب سائٹ مبینہ طور پر پاکستان سے آپریٹ کی جاتی ہے اور اس کے ذریعہ کشمیر میں کام کرنے والے صحافیوں اور کارکنوں کے خلا ف گندی مہم چلائی جاتی ہے۔
ایک پولیس اہلکار نے اپنا نام شائع نہ کرنے کی شرط پر میڈیا کو بتایا کہ “سوشل میڈیا پر شائع پوسٹ کا مواد واضح طور پر دہشت گردوں اور قوم دشمن عناصر کے مقاصد کو اجاگر کرتا ہے۔ انہوں نے لوگوں بالخصوص میڈیا اہلکاروں کو سرعام بدعنوان قرار دے کر ان کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ”
بھارتی حکومت نے ’کشمیر ٹائمز‘ کا دفتر سیل کر دیا
استعفی دینے والوں میں شامل ایک صحافی کا کہنا تھاکہ ان پر فوج کا بیانیہ نشر کرنے کا الزام لگایا گیا ہے لیکن “میں صرف عوامی مسائل مثلاً پانی، سیور اور ٹرانسپورٹ وغیرہ کی رپورٹنگ کرتا ہوں، میں آرمی کی رپورٹنگ نہیں کرتا، میں نے تو ان کے کسی تقریب کی بھی آج تک رپورٹنگ نہیں کی۔ اس کے باوجود مجھے آرمی کا مخبر قرار دیا جا رہا ہے۔”
https://twitter.com/yaqoobali02/status/1592207306191958021?t=3lrv-tmWQLMzT-Ntjr055A&s=19
تین صحافیوں نے کسی پریشانی سے بچنے کے لیے اپنے استعفی نامے سوشل میڈیا پر شائع کردیے۔
کشمیری صحافیوں کی آواز سننے والا کوئی نہیں
کشمیری صحافی اب تک پولیس اور سکیورٹی فورسز کے دباو کا سامنا کررہے تھے لیکن اب انہیں دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے بھی اپنی جان کا خوف ستانے لگا ہے۔ صحافی اس لیے بھی خوف زدہ ہیں کہ دہشت گرد تنظیموں کی دھمکیاں اکثر اوقات حقیقت میں بدل جاتی ہیں۔
دوسری طرف کشمیر میں صحافیوں کے مسائل اور مصائب سننے والا کوئی نہیں ہے۔ وادی میں صحافیوں کی تنظیمیں غائب ہوچکی ہیں۔ پریس کلب آف کشمیر بند کر دیا گیا ہے۔
خوف کا عالم یہ ہے کہ جن صحافیوں کو دھمکیاں ملتی ہیں وہ اسے مقدر کا کھیل سمجھتے ہوئے خاموشی سے قبول کرلیتے ہیں۔ ان کے سر پر ہمیشہ تلوار لٹکتی رہتی ہیں۔ متعدد صحافی جیلوں میں بند ہیں جب کہ اب تک درجنوں صحافی اپنی ذمہ داریو ں کی ادائیگی کے دوران مارے جاچکے ہیں۔ ان میں رائزنگ کشمیر کے ایڈیٹر شجاعت بخاری بھی شامل ہیں، جنہیں دہشت گردوں نے سن 2018 میں ہلاک کر دیا تھا۔
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
روس کے زیرِ قبضہ یوکرینی علاقے میں بس پر ڈرون حملہ، 8 افراد ہلاک، 11 زخمی
03/June/2026 👁️ 2 بار دیکھا گیا
کویت انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر ایرانی ڈرون حملہ، ایک بھارتی شہری ہلاک، 70 زخمی
03/June/2026 👁️ 2 بار دیکھا گیا
شمالی وزیرستان میں چیک پوسٹ پر خودکش حملہ ناکام، 4 حملہ آور ہلاک
03/June/2026 👁️ 288 بار دیکھا گیا
امریکی طیاروں نے ایک بار پھر ایران میں فضائی حملے کیے، پاسداران انقلاب کی جوابی کارروائیاں
03/June/2026 👁️ 156 بار دیکھا گیا
ٹانک میں دہشت گردوں کی فائرنگ، چھٹی پر آیا پولیس اہلکار ہلاک
03/June/2026 👁️ 156 بار دیکھا گیا
جزوی جنگ بندی کے باوجود لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں جاری
03/June/2026 👁️ 326 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8783 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4464 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3190 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2366 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2049 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1861 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C