سلمان اقبال کو پاکستان لایا جائے اور ارشد شریف کیس میں شامل تفتیش کیا جائے، ڈی جی آئی ایس پی آر
👁️ 96 بار دیکھا گیا
سلمان اقبال کو پاکستان لایا جائے اور ارشد شریف کیس میں شامل تفتیش کیا جائے، ڈی جی آئی ایس پی آر
اسلام آباد (ڈیلی اردو/بی بی سی) اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ ارشد شریف کی وفات پر سب کو شدید دکھ ہے کیونکہ وہ ایک فوجی کے بیٹے، ایک شہید کے بھائی اور ایک حاضر سروس افسر کے برادر نسبتی تھے۔
بابر افتخار نے کہا کہ جب سائفر کا معاملہ سامنے آیا تو انھوں نے اس پر متعدد پروگرام کیے اور اس وقت کے وزیر اعظم کے کئی انٹرویوز کیے، یہ بات بھی ہوئی کہ شاید اُن کو سائفر بھی دکھایا گیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ’سائفر اور ان کی وفات سے جڑے حقائق تک پہنچنا ضروری ہے تاکہ سب کو سچ معلوم ہر سکے۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’ارشد شریف اور کئی دیگر نے سخت باتیں بھی کیں۔ ارشد شریف نے اداروں کے حوالے سے کئی سخت پروگرام کیے۔ کئی اور لوگ بھی سخت سوالات کرتے رہے جو اب بھی پاکستان میں ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم نے ہمیشہ کہا کہ بنا ثبوت مفروضوں کی وجہ سے فوج کو نشانہ نہ بنایا جائے۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ’پانچ اگست 2022 کو حکومت نے تھریٹ الرٹ جاری کیا۔ یہ وزیر اعلی خیبرپختونخوا کی ہدایت پر جاری کیا گیا کہ افغانستان میں ٹی ٹی پی نے میٹنگ کی جو ارشد شریف کو ٹارگٹ کرنا چاہتے ہیں۔ مگر سکیورٹی اداروں کو کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’اس سے ظاہر ہوتا ہے یہ الرٹ اُن کو ملک چھوڑنے پر آمادہ کرنے کے لیے جاری کیا گیا۔ وہ نہیں جانا چاہتے تھے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’شہباز گل کے متنازع بیان کے بعد تفتیش میں ثابت ہوا کہ اے آر وائی کے سلمان اقبال نے عماد یوسف کو ہدایات دیں کہ ارشد شریف کو جلد از جلد پاکستان سے باہر بھجوا دیا جائے۔ اس حوالے سے ایک بیانیہ بنایا گیا کہ ارشد شریف کو بیرون ملک قتل کر دیا جائے گا۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’کراچی سے ارشد شریف کی کراچی سے ٹکٹ بک کی گئی جو عمران کے نام پر فضل ربی ٹریول ایجنٹ نے پانچ لاکھ پر کی۔ دس اگست کو ارشد شریف پشاور سے دبئِی روانہ ہوئے۔ کے پی حکومت نے انھیں پورا پروٹوکول دیا۔ عمر گل آفریدی نے ان کو گرین ڈبل کیبن میں ایئر پورٹ پہنچایا۔‘
انھوں نے کہا کہ اداروں کی جانب سے ارشد شریف کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی اس بات سے قطع نظر کہ حکومت ایف آئی اے کے ذریعے اس عمل کو روک سکتی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ’ارشد کینیا اس وقت روانہ ہوئے جب ان کا دبئی کا ویزا ختم ہوا۔ کسی نے ان کو نکلنے پر مجبور نہیں کیا۔ تو وہ کون تھے جنھوں نے ان کو جانے پر مجبور کیا؟‘
انھوں نے کہا ’یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ متحدہ عرب امارات میں ارشد شریف کے رہنے کا بندوبست کس نے کیا؟ کس نے ان کو کہا کہ ان کی جان کینیا میں محفوظ ہے اور پاکستان میں ان کو خطرہ ہے؟ کس نے ان کو کہا کہ صرف کینیا ویزہ فری ملک ہے؟ ان کی کینیا میں میزبانی کون کر رہا تھا؟ ان کا ارشد سے کیا تعلق تھا؟ کیا وہ ان کو پہلے سے جانتے تھے؟‘
مزید سوالات اٹھاتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ’ارشد شریف کی وفات ایک دور افتادہ علاقے میں ہوئی تو اُن کی وفات کی خبر پہلے کس کو ملی؟ کیا یہ واقعی حادثاتی ہلاکت تھی یا ٹارگٹ کلنگ؟‘ انھوں نے کہا کہ ’ہم نے حکومت سے درخواست کی ہے کہ بین الاقوامی فورم چاہے یو این کے ماہرین کی ضرورت ہو تو ان کو اس ہلاکت کی تفتیش میں شامل کرنا چاہیے۔ سلمان اقبال صاحب کو پاکستان لایا جائے اور شامل تفتیش کیا جائے۔‘
انھوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر الزامات کا رُخ فوج کی جانب کر دیا گیا۔ اس سے کون فائدہ اٹھا رہا ہے؟ ’میں نے اب تک کی تفصیلات سامنے رکھ دی ہیں۔ آپ کا فرض ہے کہ ان کی تہہ تک پہنچیں۔ جب تک انکوائری رپورٹ سامنے نہیں آتی، الزام تراشی نہیں ہونی چاہیے۔ ‘
انھوں نے کہا کہ ’ہم غلط ہو سکتے ہیں، غدار نہیں ہو سکتے۔‘
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ارشد شریف کیس میں تفتیش کو مکمل طور پر شفاف اور غیر جانب دار ہونا چاہیے۔ ’ہم نے ہی حکومت سے درخواست کی تھی۔ یہ کمیشن کسی کو بھی بلا سکتا ہے۔ اس واقعے کے جتنے شواہد ہیں، ان کو پوری طرح پرکھنا ہو گا۔‘
ارشد شریف نے واپسی کی خواہش کا اظہار کیا تھا، ڈی جی آئی ایس آئی
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا ہے کہ ارشد کی سیاسی رائے پر اختلاف ہو سکتا ہے مگر اُن کی کام سے لگن سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔
انھوں نے کہا کہ ’ان (ارشد شریف) کا ہمارے ادارے سے رابطہ تھا۔ انھوں نے ہمارے ایک جنرل سے رابطہ رکھا۔ انھوں نے واپسی کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا۔‘
ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ ’ہم اس واقعے پر کینیا کے سرکاری مؤقف سے مطمئن نہیں۔ میں نے اس سلسلے میں کینیا میں اپنے ہم منصب سے رابطہ کیا ہے۔‘
اس حوالے سے بننے والے کمیشن سے متعلق سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ ’میں نے دانستہ طور پر آئی ایس آئی کے رکن کو دونوں تحقیقاتی فورمز سے نکالا تاکہ شفاف تحقیقات کا نتیجہ سامنے آئے۔‘
ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس آئی نے کہا کہ ’ارشد شریف کے ہمارے ادارے کے افسران سے اچھے تعلقات تھے۔ میں نہیں سمجھتا کہ کسی نے ان کو دھمکایا۔ اگر حکومت یا اسٹیبلشمنٹ چاہتی کہ وہ ملک سے نہ جائیں تو کیا وہ جا سکتے تھے۔‘
متعلقہ خبریں
وزیر خارجہ کا اہم بیان
تازہ ترین خبریں
سعودی عرب نے کویت اور بحرین پر حملوں کو ایرانی جارحیت قرار دے دیا
04/June/2026 👁️ 20 بار دیکھا گیا
امریکی ایوان نمائندگان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کر لی
04/June/2026 👁️ 24 بار دیکھا گیا
جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں میں 10 افراد ہلاک، متعدد زخمی
04/June/2026 👁️ 31 بار دیکھا گیا
ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 2 دہشت گرد ہلاک
03/June/2026 👁️ 20 بار دیکھا گیا
روس کے زیرِ قبضہ یوکرینی علاقے میں بس پر ڈرون حملہ، 8 افراد ہلاک، 11 زخمی
03/June/2026 👁️ 51 بار دیکھا گیا
کویت انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر ایرانی ڈرون حملہ، ایک بھارتی شہری ہلاک، 70 زخمی
03/June/2026 👁️ 52 بار دیکھا گیا
مقبول خبریں
جنوبی وزیرستان: رات کی تاریکی میں طالبان اسنائپرز نے پاکستانی فوجیوں کو نشانہ بنایا، ویڈیو جاری
17/September/2025 👁️ 8783 بار دیکھا گیاایران سیکس ویڈیو: وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی کے سربراہ رضا ثقتی کو عہدے سے ہٹا دیا
30/July/2023 👁️ 4464 بار دیکھا گیاپاکستانی طیاروں کا کابل، پکتیکا، خوست اور جلال آباد میں فضائی حملہ، متعدد ہلاکتیں
10/October/2025 👁️ 3192 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ کے انتہائی مطلوب کمانڈر تہران طوری کے حملے میں پولیس افسر ہلاک
15/August/2025 👁️ 2366 بار دیکھا گیاکیا آپ کو معلوم ہے خام تیل کے ایک بیرل سے کتنے لیٹر پٹرول اور ڈیزل بنتا ہے؟
01/February/2019 👁️ 2049 بار دیکھا گیاکرم: زینبیون بریگیڈ نے پولیس افسر قیصر حسین کی ہلاکت کی ذمہ داری قبول کرلی
26/August/2025 👁️ 1861 بار دیکھا گیاموسمی حالات
کراچی
32°C
لاہور
28°C