11/December/2025

شمالی وزیرستان میں مدرسے کے قریب دھماکا، 2 بچے ہلاک، 15 زخمی، شہریوں کا ڈرون حملے کا دعویٰ

👁️ 303 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
شمالی وزیرستان میں مدرسے کے قریب دھماکا، 2 بچے ہلاک، 15 زخمی، شہریوں کا ڈرون حملے کا دعویٰ

شمالی وزیرستان میں مدرسے کے قریب دھماکا، 2 بچے ہلاک، 15 زخمی، شہریوں کا ڈرون حملے کا دعویٰ

وانا/میرانشاہ (نمائندہ ڈیلی اردو) پاکستان کے شورش زدہ صوبے خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی کے نواحی گاؤں عیسوڑی میں ایک مدرسے کے قریب دھماکے میں 2 بچے ہلاک جبکہ 5 بچیوں سمیت 15 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

 

مقامی پولیس اور انتظامی حکام کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب بچے کھیل رہے تھے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق بچوں کو کھیل کے دوران بارودی مواد کا گولہ ملا جو زور دار دھماکے سے پھٹ گیا۔

 

تاہم نمائندہ ڈیلی اردو کو مقامی شہریوں نے بتایا کہ دھماکے سے قبل ایک ڈرون کو مدرسے کے اوپر پرواز کرتے دیکھا گیا، اور ان کے مطابق مدرسے کے نزدیک ڈرون نے مبینہ طور پر نشانہ بنایا جس کے بعد دھماکہ ہوا۔ مقامی شہریوں نے دعویٰ کیا کہ یہ ایک ڈرون حملہ تھا۔

 

وزیرستان سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کے مطابق یہ حملہ ایک کواڈ کاپٹر کے ذریعے کیا گیا۔ 

 

عینی شاہدین نے صحافیوں کو بتایا کہ ڈرون نے مدرسے کے اوپر کئی بار چکر لگائے اور اس کے بعد ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ حملہ کرنے والے ڈرون کو نہ صرف مدرسے میں موجود افراد بلکہ گاؤں کے دیگر مقامی لوگوں نے بھی دیکھا تھا۔

 

تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال میر علی کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر منیر کے مطابق ایک بچہ مردہ حالت میں لایا گیا جبکہ 16 زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا گیا، جن میں پانچ کم عمر بچیاں شامل تھیں۔ زخمی بچوں کی عمریں آٹھ سے 12 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔

 

ڈاکٹر منیر کے مطابق متعدد زخمیوں کو معمولی چوٹیں آنے کی وجہ سے ابتدائی طبی امداد دے کر فارغ کر دیا گیا، جبکہ تین شدید زخمیوں کو حالت نازک ہونے پر خلیفہ گل نواز ٹیچنگ ہسپتال بنوں منتقل کر دیا گیا۔

 

بنوں ہسپتال کے ترجمان محمد نعمان نے بتایا کہ وہاں لائے گئے آٹھ زخمیوں میں سے ایک بچہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا۔

 

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ میر علی میں جاری کشیدگی، دھماکوں اور جھڑپوں کے باعث شہری بڑی تعداد میں نسبتاً محفوظ علاقوں کی طرف نقل مکانی کر رہے ہیں۔ 

 

ان کے مطابق علاقے میں اس نوعیت کے واقعات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں، جن میں کھیلتے ہوئے بچوں پر بارودی مواد پھینکے جانے، گاڑیوں کو نشانہ بنانے اور ڈرون جیسے آلات کے استعمال کی اطلاعات شامل ہیں۔

 

یاد رہے کہ حالیہ مہینوں میں میر علی میں ٹارگٹ کلنگ، دھماکوں اور سیکیورٹی فورسز و عسکریت پسندوں کے مابین جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے۔ رواں ماہ کے آغاز میں بھی سیکیورٹی فورسز نے ایک انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن میں سات مسلح افراد کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C