18/August/2025

عثمان قاضی گرفتار: بیوٹمز پروفیسر نے خودکش حملوں کی سہولت کاری کا اعتراف کر لیا

👁️ 489 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
عثمان قاضی گرفتار: بیوٹمز پروفیسر نے خودکش حملوں کی سہولت کاری کا اعتراف کر لیا

عثمان قاضی گرفتار: بیوٹمز پروفیسر نے خودکش حملوں کی سہولت کاری کا اعتراف کر لیا

کوئٹہ (ڈیلی اردو) بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ مینجمنٹ سائنسز (بیوٹمز) کے لیکچرار ڈاکٹر عثمان قاضی کو 12 اگست کی شب ان کے گھر سے حراست میں لیا گیا، اور ان کی گرفتاری کا سرکاری اعلان پیر کو وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا گیا۔

 

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ عثمان قاضی کی گرفتاری خفیہ اداروں اور سی ٹی ڈی کی مشترکہ کارروائی کا نتیجہ ہے اور اس سے بلوچستان میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تحقیقات میں مدد ملے گی۔ پریس کانفرنس میں عثمان قاضی کی ویڈیو بھی دکھائی گئی، جس میں وہ مبینہ طور پر شدت پسندی کے مختلف واقعات میں سہولت کاری کا اعتراف کر رہے ہیں۔ بی بی سی نے اس اعترافی بیان کی آزادانہ تصدیق نہیں کی ہے۔

 

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے مطابق ڈاکٹر عثمان قاضی کو ان کے بھائی جبران احمد کے ساتھ اٹھایا گیا، لیکن حکام نے پریس کانفرنس میں ان کے بھائی کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کیں۔ بلوچستان یکجہتی کمیٹی نے کہا کہ ان کو جبری طور پر لاپتہ کیا گیا اور ان کے بھائی کی موجودگی یا غیر موجودگی میں دباؤ ڈال کر یہ بیان لیا گیا ہو سکتا ہے۔

 

بیوٹمز کے ایک اور لیکچرار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ عثمان قاضی گذشتہ سات آٹھ سال سے یونیورسٹی میں پڑھا رہے ہیں اور کلاسوں میں وہ کسی کالعدم تنظیم یا دہشت گردی کی سرگرمی میں ملوث نظر نہیں آئے۔ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر صبیحہ بلوچ نے کہا کہ میڈیا پر ان کا اعترافی بیان عدالتی کارروائی سے پہلے پیش کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔

 

پریس کانفرنس کے بعد عثمان قاضی کو انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا اور عدالت نے انہیں 14 روزہ ریمانڈ پر سی ٹی ڈی کے حوالے کیا۔

 

عثمان قاضی کون ہیں؟

 

عثمان قاضی بلوچستان کے ضلع کیچ کے تربت سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے قائداعظم یونیورسٹی سے ماسٹرز اور ایم فل کیا اور بعد میں ہائر ایجوکیشن کمیشن کی سکالرشپ پر پشاور یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی حاصل کی۔ وہ گذشتہ سات آٹھ سال سے بیوٹمز میں مطالعہ پاکستان کے لیکچرار ہیں۔

 

حکومت کی جانب سے جاری ویڈیو بیان میں کیا کہا گیا؟

 

ویڈیو بیان میں عثمان قاضی نے کہا کہ 2020 میں اسلام آباد میں انہوں نے کچھ کالعدم تنظیم کے افراد سے رابطہ کیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ قلات میں زخمی ایک ریجنل کمانڈر کو انہوں نے پناہ دی، اور گذشتہ سال نومبر میں انہیں رفیق بزنجو اور نعمان عرف پیرک کے حوالے سے سہولت کاری کا کام سونپا گیا۔ 

 

ویڈیو میں یہ بھی کہا گیا کہ انہوں نے ایک خاتون کو پسٹل فراہم کی، جو بعد میں ٹارگٹ کلنگ کے لیے استعمال ہوئی۔

 

عثمان قاضی نے اپنے بیان میں ریاست کے ساتھ اپنی غداری پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد نوجوانوں کو ایسی دہشت گرد تنظیموں سے دور رکھنا ہے۔

 

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے بتایا کہ عثمان قاضی کے اعتراف کے مطابق گزشتہ سال ریلوے اسٹیشن پر خودکش حملے میں ملوث افراد کی سہولت کاری کی گئی تھی، جس میں پاکستان آرمی کے 32 اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C