07/February/2026

عمان میں ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کا آغاز

👁️ 201 بار دیکھا گیا

ایڈمن
امریکا
عمان میں ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کا آغاز

عمان میں ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کا آغاز

مسقط (ڈیلی اردو) ایران اور امریکہ کے درمیان آج جمعہ کے روز عمان میں بات چیت کا آغاز ہو گیا ہے۔ واشنگٹن اس بات کا جائزہ لینا چاہتا ہے کہ ایرانی جوہری پروگرام اور دیگر معاملات پر سفارتی پیش رفت ممکن ہے یا نہیں، تاہم امریکہ نے فوجی کارروائی کے امکان کو بھی خارج نہیں کیا ہے۔

 

ایران نے کہا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے سفارت کاری کا راستہ اختیار کر رہا ہے، لیکن مکمل چوکنا رہے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ ’’ایران کھلی آنکھوں اور گزشتہ برس کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے سفارت کاری میں داخل ہو رہا ہے۔‘‘

 

انہوں نے مزید کہا کہ ’’وعدوں کی پاسداری، برابری، باہمی احترام اور مشترکہ مفاد محض نعرے نہیں بلکہ کسی بھی پائیدار معاہدے کی بنیاد ہوتے ہیں۔‘‘

 

مذاکرات سے قبل عباس عراقچی نے اپنے عمانی ہم منصب بدر البوسعیدی سے ملاقات کی، جس میں علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران نے عمان کی ثالثی میں مذاکرات سے قبل خود کو امریکہ کی جانب سے کسی بھی ’’غیر معمولی مطالبات یا مہم جوئی‘‘ کے خلاف دفاع کے لیے تیار رکھا ہے۔

 

مسقط میں ہونے والی بات چیت میں امریکہ کی نمائندگی خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف کر رہے ہیں، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور قریبی مشیر جیرڈ کشنر بھی امریکی وفد میں شامل ہیں۔

 

سینئر امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان یہ بات چیت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان فوجی تصادم کے خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سرکاری ٹیلی ویژن پر گفتگو کرتے ہوئے اس بالواسطہ ملاقات کو ’’ایک اچھا آغاز‘‘ قرار دیا ہے۔

 

یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں شروع ہوئے ہیں جب امریکی فوج نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی موجودگی بڑھا دی ہے۔ ایران نے پہلے ہی واضح کیا تھا کہ بات چیت صرف اس کے جوہری پروگرام تک محدود رہے گی، جبکہ امریکہ کا مطالبہ ہے کہ ایران نہ صرف جوہری سرگرمیاں روکے اور افزودہ یورینیم کا ذخیرہ ختم کرے بلکہ بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت پر بھی بات کرے۔

 

اس سے قبل عمانی حکومت نے بتایا تھا کہ اس کے وزیر خارجہ نے ایرانی اور امریکی وفود کے ساتھ الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن کا مقصد سفارتی اور تکنیکی مذاکرات کے دوبارہ آغاز کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا تھا۔

 

واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر ایران کسی معاہدے پر آمادہ نہ ہوا تو فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے، جبکہ ایران نے اعلان کیا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں وہ سخت جواب دے گا اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اثاثوں اور اسرائیل کو نشانہ بنایا جائے گا۔

شیئر کریں:

متعلقہ خبریں

خبر
سیاست

قومی اسمبلی میں اہم بل کی منظوری

1 گھنٹہ پہلے تفصیل
خبر
سیاست

وزیر خارجہ کا اہم بیان

2 گھنٹے پہلے تفصیل

موسمی حالات

کراچی

32°C

لاہور

28°C